رام بن //ریاست میں بھیک مانگنے پر پابندی عائد ہونے کے باوجود حُکام ضلع میں بھیک مانگنے کی بدعت کی طرف اپنی آنکھیںبند کئے ہوئے ہیں، جسکی وجہ سے بچوں کی ایک بڑی تعداد کو ضلع کے مین مارکیٹ میں پیدل چلنے والوں ،ڈرائیوروں اور مسافروں سے بھیک مانگتے دیکھا جاتا ہے۔بچے بشمول لڑکیوں کو لیتے ہوئے لوگوں سے خیرات مانگ رہے ہیں، جن میں سے بیشتر غیر ریاستی اور بہرے و گونگے ہیں۔ضلع انتظامیہ 14سال سے کم عمر کے بچوں کی زندگی سدھارنے میں خاموش ہے۔لوگوں کا کہناہے کہ اگر انتظامیہ چاہیے تو وہ ان کی زندگی سدھار سکتی ہے۔بھیک مانگنے سے ایک غلط تاثُر ملتا ہے۔پولیس بھی اس سلسلہ میں خاموش بیٹھا ہے ا ور اس سلسلہ میں ابھی تک کوئی بھی کوشش نہیں کی گئی ہے۔لوگوں کے مطابق ضلع میں اس نہج میں گُذشتہ کئی مہینوں سے اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اور بھکاریوں کی ایک بڑی تعداد نے مساجد اور مندروں کے مین گیٹوں اور بس ۔اسٹینڈپر اپنا ڈیرہ جما کے رکھا ہے۔عوام نے متعلقہ حُکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں ضروری کاروائی عمل میں لائے،تاکہ ضلع میں بھیک کی بدعت کا خاتمہ ہو سکے۔