سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری میں گرمی کے موسم کی شدت اور خشک موسمی حالات کے باعث جنگلاتی آگ کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران ضلع کے مختلف جنگلاتی علاقوں میں آگ بھڑکنے کے متعدد واقعات پیش آئے، جن کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر جنگلاتی وسائل، نباتات اور جنگلی حیات کو نقصان پہنچا ہے۔اطلاعات کے مطابق اگراتی، ساونی، ٹنڈی ترار، گمبھیر برہمناں اور خانکھری سمیت کئی علاقوں میں جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی۔ آگ لگنے کے بعد اٹھنے والے دھوئیں کے گھنے بادلوں نے قریبی دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے سانس لینے میں دشواری اور فضائی آلودگی میں اضافے کی شکایات بھی کیں۔حکام کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات انسانی غفلت، دانستہ آتش زنی یا قدرتی عوامل ہو سکتے ہیں، تاہم مختلف مقامات پر آگ کے واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔ محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے دوران خشک گھاس اور پودے آگ کے تیزی سے پھیلنے کا سبب بنتے ہیں، جس سے معمولی چنگاری بھی بڑے حادثے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔آگ پر قابو پانے کے لیے محکمہ جنگلات، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز اور مقامی رضاکار مسلسل سرگرم عمل ہیں۔
متعلقہ محکموں کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں دن رات محنت کرکے آگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم کئی مقامات پر دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور گھنے جنگلات کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق متعدد متاثرہ علاقوں میں جنگلاتی رقبے کو قابل ذکر نقصان پہنچا ہے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ جنگلات کو اکثر خطے کا ’سبز سونا‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ نہ صرف ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ مقامی آبادی کے روزگار اور قدرتی وسائل کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔ جنگلاتی آگ کے باعث درختوں، جڑی بوٹیوں، نایاب پودوں اور جنگلی جانوروں کے قدرتی مسکن شدید متاثر ہوتے ہیں۔ادھر فوج نے بھی راجوری میں آگ بجھانے کی کارروائیوں میں بھرپور تعاون فراہم کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ کی شام چنگس کے جنگلاتی علاقے میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے بعد محکمہ جنگلات نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ قریبی فوجی کیمپ میں تعینات بھارتی فوج کے جوان بھی امدادی کارروائی میں شامل ہو گئے اور جدید فائر فائٹنگ آلات کی مدد سے آگ پر قابو پانے کی کوششیں کیں۔فوج، محکمہ جنگلات اور دیگر اداروں کی مشترکہ اور مربوط کارروائیوں کے نتیجے میں چنگس کے علاقے میں آگ کو مزید پھیلنے سے روک دیا گیا، جس سے قریبی جنگلاتی علاقوں کو بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔اس دوران اسسٹنٹ ڈائریکٹر، فاریسٹ پروٹیکشن فورس مسعود احمد نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگلاتی علاقوں میں جان بوجھ کر یا لاپرواہی سے آگ لگانے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے واقعات جنگلات، جنگلی حیات، ماحولیات اور عوامی املاک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ قدرتی وسائل کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا آگ لگنے کے واقعے کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلاتی آگ کے بڑھتے ہوئے واقعات ماحولیات کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے عوامی بیداری، سخت نگرانی اور مؤثر حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔