محمد بشارت
راجوری// سرحدی ضلع راجوری کی دور افتادہ تحصیل اور بلاک خواص آج بھی ایک سرکاری ڈگری کالج جیسی بنیادی تعلیمی سہولت سے محروم ہے، جس کے باعث ہزاروں طلبہ، خصوصاً طالبات، اعلیٰ تعلیم کے حق سے محروم ہو رہی ہیں۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ یہ صرف تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری سیاسی بے توجہی اور انتظامی غفلت کی ایک واضح مثال ہے۔خواص بلاک، جو ماضی میں درہال اور کالاکوٹ اسمبلی حلقوں کے درمیان تقسیم رہا، اب نئے اسمبلی حلقہ بدھل-86 کا حصہ ہے، جہاں سے نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے جاوید اقبال چوہدری نے عوام کی بھرپور حمایت سے کامیابی حاصل کی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ موجودہ عوامی نمائندے اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے۔خواص بلاک کی تقریباً 15 پنچایتیں جن میں خواص، ڈھلیری، کیری، بیلا، گوندھا، نارلہ، کوٹ چلوال، اْدھن، بمبل، بدھل اے، بدھل بی، گونڈی، گدیوگ، پنگلر اور خوڑبنی شامل ہیں، ایک وسیع آبادی کی نمائندگی کرتی ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق یہاں ہر سال بڑی تعداد میں طلبہ دسویں اور بارہویں جماعت کامیابی سے مکمل کرتے ہیں، تاہم ڈگری کالج نہ ہونے کے باعث ان کی اعلیٰ تعلیم کا سفر رک جاتا ہے۔علاقے کے سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ متاثر طالبات ہوتی ہیں، کیونکہ دور دراز علاقوں میں موجود کالجوں تک روزانہ سفر کرنا ان کے لیے نہ صرف مشکل بلکہ کئی خاندانوں کے لیے مالی اور سماجی اعتبار سے بھی ممکن نہیں ہوتا۔
نتیجتاً بہت سی طالبات بارہویں جماعت کے بعد اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق خواص سے قریب ترین سرکاری ڈگری کالج کوٹرنکہ اور کالاکوٹ میں واقع ہیں، جہاں تک پہنچنے کے لیے تقریباً 60 کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ دشوار گزار پہاڑی سڑکیں، محدود ٹرانسپورٹ اور خراب موسمی حالات طلباء کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ کوٹرنکہ کالج کا منصوبہ بھی مطلوبہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکا، جس سے خطے کے نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی کی حکومتوں اور مختلف سیاسی نمائندوں نے خواص کے عوام کے ساتھ ہمیشہ سوتیلا سلوک کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسمبلی حلقوں کی تقسیم کے باعث اس علاقے کے ووٹ تو حاصل کیے جاتے رہے، مگر بنیادی تعلیمی ضروریات کو کبھی ترجیح نہیں دی گئی۔مقامی نوجوانوں، والدین اور سماجی تنظیموں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، ایم ایل اے بدھل جاوید اقبال چوہدری اور رکنِ پارلیمنٹ میاں الطاف احمد سے اپیل کی ہے کہ خواص کے عوام کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے جلد از جلد سرکاری ڈگری کالج کے قیام کا اعلان کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر علاقے میں ڈگری کالج قائم کیا جاتا ہے تو نہ صرف ہزاروں طلبہ و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کی سہولت میسر آئے گی بلکہ شرحِ تعلیم میں اضافہ، خواتین کو بااختیار بنانے اور خطے کی مجموعی سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا ہوگا۔مقامی لوگوں نے واضح کیا کہ خواص جیسے سرحدی اور پسماندہ علاقے میں ڈگری کالج کا قیام کسی سیاسی مطالبے سے زیادہ ایک بنیادی تعلیمی ضرورت ہے، جسے مزید نظر انداز کرنا ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔