سرینگر//تحریک حریت نے راجوری میں لال دین نامی شخص کے ساتھ گاو¿ رکھشا کے نام پر تشدد کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذہب اور گاو¿ رکھشک کے نام پر نہتے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک بیان میںتحریک حریت نے کہا کہ یہ مہم راجوری کے مسلمانوں کو اپنے وطن سے بے دخل کرنے کیلئے عملائی جارہی ہے، تاکہ بھارت کی دیرینہ پالیسی کو عملایا جائے کہ ریاست میں ڈیموگرافی تبدیل کی جاسکے۔ تحریک حریت نے کہا کہ خوف اور دہشت کا یہ ماحول بہت پہلے سے ہی جموں صوبے میں آر ایس ایس، بی جے پی اور وی ایچ پی سمیت باقی ہندوانتہا پسند تنظیموں نے پیدا کیا ہوا ہے۔ تحریک حریت نے کہا کہ کشمیری عوام اور حریت قیادت ہر حال میں جموں خطے کے عوام کی حمایت اور حفاظت کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے گی۔