سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری میں حالیہ برفباری نے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس کے باعث کئی دیہات اب بھی اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اگرچہ محکمہ بجلی کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں سے 95 فیصد میں بجلی بحال کر دی گئی ہے، تاہم زمینی سطح پر صورتحال اب بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔محکمانہ ابتدائی تخمینے کے مطابق برفباری سے 6.82 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے بجلی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ اس نقصان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی اشیاء میں مختلف صلاحیت کے 104 پاور ٹرانسفارمرز شامل ہیں جو برف کے بوجھ اور خراب موسمی حالات کا مقابلہ نہ کر سکے۔راجوری ضلع میں 22 جنوری سے 24 جنوری تک دو دن شدید برفباری ریکارڈ کی گئی جبکہ 26 اور 27 جنوری کو ہلکی برفباری کا ایک اور مرحلہ بھی دیکھنے میں آیا۔ 22 جنوری کی شام سے 24 جنوری کی صبح تک ہونے والی برفباری کو سب سے شدید مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بالائی علاقوں میں واقع آبادیوں میں تقریباً دو فٹ تک برف جمع ہوئی جبکہ انتہائی اونچائی والے علاقوں میں برف کی سطح پانچ فٹ تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ماہرین کے مطابق برفباری کے دوران بجلی کے نظام کی تباہی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران ضلع راجوری میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ موجودہ نظام برف کے شدید بوجھ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں تھا، جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر نقصانات ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق برفباری سے بجلی کے کھمبوں، ٹرانسمیشن لائنوں، گھریلو اور کمرشل ٹرانسفارمرز سمیت تقریباً تمام اقسام کے بجلی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ ابتدائی نقصان کے جائزے میں بتایا گیا ہے کہ 1690 بجلی کے کھمبے ٹوٹ گئے یا جھک گئے ہیں۔ ان میں 8 میٹر، 9 میٹر، 12 میٹر اور 13 میٹر لمبائی کے مختلف اقسام کے کھمبے شامل ہیں۔اسی طرح تقریباً 253 کلومیٹر طویل بجلی کی تاریں، جنہیں عام طور پر ایلومینیم کنڈکٹر اسٹیل ری انفورسڈ (ACSR) کنڈکٹرز کہا جاتا ہے، بھی برفباری کی وجہ سے متاثر ہوئیں۔ ان میں ویزل، ریبٹ اور ڈاگ کنڈکٹرز شامل ہیں جو مختلف علاقوں میں سپلائی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔برفباری سے سب سے زیادہ تشویشناک نقصان پاور ٹرانسفارمرز کو پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دو عدد 400 کے وی اے، نو عدد 250 کے وی اے، ستائیس عدد 100 کے وی اے، چونتیس عدد 63 کے وی اے اور بتیس عدد 25 کے وی اے صلاحیت کے ٹرانسفارمرز خراب ہوئے ہیں۔ ان ٹرانسفارمرز کی خرابی کے باعث کئی دیہی علاقوں میں بجلی کی سپلائی مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے۔محکمہ بجلی کے مطابق بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے اور عملے کی اضافی ٹیمیں مختلف علاقوں میں تعینات کی گئی ہیں۔ تاہم دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور مسلسل سرد موسم کے باعث مرمتی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ابتدائی نقصان کے تخمینے کے مطابق محکمہ کو مجموعی طور پر 6.82 کروڑ روپے سے زائد کا مالی نقصان ہوا ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے موسمی حالات سے نمٹنے کیلئے بجلی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ برفباری کے دوران عوام کو طویل اندھیرے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔