سرینگر// پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ الحاق کے وقت کشمیریوں نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ایک روز ایسا بھی آئے گا جب انہیں لاشوں کی واپسی کیلئے ہاتھ پھیلانے پڑیں گے۔انہوں نے راج بھون سرینگر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے یونیفائڈ کمانڈ سے حید رپورہ شہری ہلاکتوں پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اتوار کو اپنی سرکاری رہائش گاہ سے کوئی200میٹر دور گرینڈ پیلس ہوٹل کے سامنے نمودار ہوئی اور پارٹی کارکن بھی فیئر ویو سے باہر نکل کر نعرہ بازی کرتے ہوئے ان سے جا ملے اور راج بھون کی طرف پیش قدمی کی۔ احتجاجی کارکنوں،جن کے ہمراہ انکی چھوٹی بیٹی التجاء جاوید بھی تھی،نے کتبے اٹھا رکھے تھے،جن پر نعش کی واپسی سے متعلق تحریر درج تھی۔ مظاہرین راج بھون کے باہری دروازے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور کچھ دیر تک وہی پر احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔ اس دوران پولیس افسران اور اہلکار بھی نمودار ہوئے اور انہوں نے مظاہرین کو وہاں سے منتشر کیا۔ احتجاج کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے حید پورہ میں ہوئیں شہری ہلاکتوں پر یونفائیڈ کمانڈ پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں سے معافی مانگے۔ان کا کہنا تھا’’ لیفٹیننٹ گورنر یونیفائڈ کمان کے سربراہ ہیں،اور انہیں پوری کشمیری قوم سے معافی مانگنی چاہیے،اور ان شہریوں پر جنگجو ہونے کا جو الزام عائد کیا گیا ہے اس کو بھی واپس لیا جائے‘‘۔ انہوں نے واقعہ میں ہلاک ہوئے عامر کی نعش کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ’ ’ جو اطلاعات ہیں اس کے مطابق انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا،کیونکہ انہیں شبہ تھا کہ وہاں پر جنگجو ہیں،مگر وہاں کوئی تھا یا نہیں،اس پر بہت بڑا سوالیہ ہے‘‘۔ پی ڈی پی صدر کا کہنا تھا کہ ا لطاف ،مدثر اور عامر بے گناہ تھے،اور ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ جنگجو تھے۔انہوں نے کہا کہ واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرکے اس میں ملوثین کو سخت سزا دی جانی چاہیے۔ محبوبہ مفتی نے کہا’’ یہ(انتظامیہ) کہہ رہی ہے کہ وہاں پر چار لوگ تھے،اس میں ایک جنگجو تھا،اس پر بھی شک ہے کیونکہ کسی بھی جنگجو کی نعش یا شکل نہیں دیکھی گئی،کیا واقعی وہاں کوئی جنگجو تھا،یا نہیں،یا انہوں نے خواہ مخواہ میں تین شہریوں کو مفت میں مار دیا‘‘۔ سابق وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہاں جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا ہے اور کسی کو بھی بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی،جبکہ تمام دروازوں کو بھی بند کیا گیا ہے اور احتجاج بھی کرنے نہیں دیا جاتا۔‘‘ان کے بقول دفعہ370کو ختم کرکے ہندوستان کے آئین کو تباہ و برباد کیا گیا۔انہوں نے کہا’’ بی جے پی اور آر ایس کا ایجنڈا ہے کہ اقلیتوں کو دبایا جائے اور،جموں کشمیر مسلم اکثریتی علاقہ ہے اس لئے اس خطے پر سب سے زیادہ ظلم و ستم کیا جاتا ہے۔‘‘پی ڈی پی سربراہ نے کہا’’ یہاںبات کرنے کی آزادی نہیں ہے،صحافیوں کو تنگ کیا جاتا ہے اورپولیس تھانوں میں طلب کرکے دھمکایا جاتا ہے،جو صحافی بچے ہیں اور گودی میڈیا کی طرح ان کا بیانیہ نہیں چلاتے، انہیں کوارٹروں سے باہر نکالا جاتا ہے، تاکہ انہیں تنگ کیا جائے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ لوگ اب انصاف کے بجائے نعشوں کا مطالبہ کرتے ہے۔محبوبہ کا کہنا تھا’’جب کشمیریوں نے70برس قبل اس ملک سے ہاتھ ملایا،انہوں نے کھبی نہیں سوچا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب لاشوں کیلئے ہاتھ پھیلانا پڑے گا۔‘‘