رئیس صدیقی ایک معروف ادیب، شاعر اور صحافی ہیں۔ان کا کلام اور بچوں کے لئے ان کی کہانیاںہندوستان کے تقریباً تمام بڑے اخباروں اور رسالوں میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔وہ اب تک ایک درجن سے زائد کتابیں تصنیف ، تالیف اور ترجمہ کر چکے ہیں۔وہ ہفت روزہ عمل کانپور، ہندی ماہنامہ دویہ کنج دہلی اور انگریزی ماہنامہ اٹرنل انڈیا، دہلی سے وابستہ رہ چکے ہیں۔وہ ۱۹۹۱ء میں UPSC سے ریڈیو اور ٹی وی کے لئے ہندی پروگرام ایگزیکیوٹیو منتخب ہوئے۔اسی وقت سے اس نشریاتی ادارے سے وابستہ رہے۔اس دوران انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کی اردو مجلس اور اردو سروس سے بہت اچھے پروگرام پیش کئے۔ ۲۰۰۷ ء میں دوردرشن کے ڈی ڈی اردو سے وابستہ ہو گئے اورانتظامی امور کے علاوہ ہر ہفتہ گفتگو۔واک دا ٹاک پروگرام پیش کرتے رہے جو اب یوٹیوب چینل پر دستیاب ہیں۔
رئیس صدیقی بچوں کے بھی بہت اچھے ادیب ہیں ۔اب تک بچوں کے لئے ان کی چودہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔جن میں کہانیوں کی چار کتابیں ’’ شیروں کی رانی‘‘ اور ’’ننھا بہادر‘‘ کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی۔زیرِتذکرہ کتاب بھی بچوںکے لئے ہے اور عمدہ ہے۔یہ بچوںکیلئے کہانیوں کی کتاب ہے۔جبکہ بچوں کے لئے ایک اور کہانیوں کی کتاب ’’باتونی لڑکی ‘‘بھی شائع ہو چکی ہے جسے دہلی کی قومی ساہتیہ اکادمی اپنے با وقار قومی ایوارڈ سے ۱۴؍ نومبر ۲۰۱۸ء کو نواز چکی ہے۔
زیر تبصرہ کتاب کا نام’’ شیرازی کہانیاں‘ ہے ۔یعنی شیخ سعدی شیرازی کی شہرہ آفاق کتابوں’’ گلستاں اور بوستاں‘‘ میں جو سبق آموز نصیحتیں ہیں، ان کا انھوں نے انتخاب کیا اور انتہائی سادہ اور سلیس زبان میں ان کو یکجا کرکے قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان دہلی کی مالی مدد سے کتابی صورت میں شائع کردیا۔اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں انھوں نے ان نصیحتوں ،کہانیوں اور حکایتوں کو یکجا کیا ہے جن میں بچوں کی دلچسپی ،سبق اور نصیحت کی باتیں پوشیدہ ہیں ۔قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ بیشتر حکایتیں بہت مختصر ہیں۔یعنی ایک صفحہ ، ڈیڑھ صفحہ یا زیادہ سے زیادہ دو صفحہ۔
حکایتیں کتنی دلچسپ ہیں، اس کے چندنمونے ملاحظہ فرمائیں۔
ایک بادشاہ نے ایک بزرگ سے پوچھاکہ کبھی آپ کو میری یاد آتی ہے؟
اِس پر بزرگ نے جواب دیاکہ ہاں اُس وقت آپکی یاد آتی ہے جب میں خدا کو بھول جاتا ہوں!۔
کسی نے حکیم لقمان سے پوچھا کہ آپ نے ادب کس سے سیکھا۔
اس پر حکیم لقمان نے جواب دیا کہ بے ادبوں سے۔جو بات بے ادب لوگوں کی مجھے نہیں بھاتی اس کو میں چھوڑ دیتا ہوں !۔
ایک بار ایک صاحب سے کوئی غلطی ہوگئی۔انھیں شہر کوتوال صاحب کے سامنے حاضر کیا گیا جوکہ کوئلے کی طرح کالے تھے۔سزا کے طور پر کوتوال صاحب نے سپاہیوں سے کہا کہ اس کا پورا چہرہ سیاہ کرکے سارے شہر میں گھماؤ۔
یہ سننا تھا کہ وہ صاحب بولے کہ حضور میرا پورا چہرہ سیا ہ مت کروائیے ورنہ لوگ سمجھیں گے کہ میں ہی شہر کوتوال ہوں ! ۔
جب ظالم گورنرحجاج کو معلوم ہوا کہ شہر بغداد میں ایک ایسا بزرگ درویش آیا ہوا ہے جس کی دعا بہت جلد قبول ہوجاتی ہے تو اس نے اس درویش کو بلا کر اس سے کہا کہ آپ میرے لئے دعا کریں۔
بزرگ درویش نے دعا کی کہ اے خدا تو حجاج کی زندگی لے لے تاکہ ہزاروں آدمی اس کے ظلم سے نجات پائیں اور یہ خود بھی ظلم کے گناہوں سے بچ جائے ! ۔
ایسی بے شمار حکایتیں ،قصے اور کہانیاں اس کتاب میں موجود ہیں۔یہ کتاب یقینی طور پر نہ صرف بچوں کے لئے بہت مفید اور کار آمدقیمتی تحفہ ہے بلکہ بڑے بھی اس سے لطف اندوز اور مستفید ہو سکتے ہیں۔