حافظ میر ابراھیم سلفی
فرمان باری تعالیٰ ہے کہ، وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ۔ ’’اور ہم اہل ایمان کے لیے رحمت اور شفا کا باعث قرآن نازل کرتے ہیں۔‘‘ (الاسراء)
انسانی زندگی مختلف مراحل سے گزرتی ہے ۔ آلام و مصائب دنیوی حیات کا ایک اہم حصہ ہے۔ وقتاً فوقتاً انسان ذہنی پریشانی، دکھ درد کا شکار رہتا ہے لیکن اگر یہ پریشانی حد تجاوز کر جائے اور مدتوں تک دور نہ ہو جائے اور زندگی کے معاملات متاثر ہونے لگیں تو اسی کیفیت کو ہم “Depression” کہتے ہیں۔ ذہنی دباؤ مختلف صورتوں میں لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ جیسے الهم(Anxiety) ، حزن( sadness)، القلق(Depression) ، الخوف(Phobophobia) اور الیاس(Desperation)۔
ذہنی تناؤ یقیناً ایک مرض بد ہے جس سے نہ صرف انسانی جسم متاثر ہوتا ہے بلکہ انسان کے عزائم، قوت، سوچنے کی صلاحیت بھی زائل ہوجاتی ہے۔ اس مرض کی شدت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب قوم و ملت کے نوجوان اس کے شکار ہوجاتے ہیں۔ وطن عزیز میں نوجوان نسل میں خودکشی کا رجحان بڑتا چلا جارہا ہے، منشیات کا رجحان بھی گزشتہ کئی سالوں سے تیز رفتاری کے ساتھ بڑتا ہوا نظر آرہا ہے۔ انسانی صلاحتیں غیر شائستہ کاموں میں صرف ہو رہی ہیں اور ان سب کی مشترکہ وجہ ذہنی تناؤ (depression, anxiety) ہے۔ ذہنی تناؤ کے پیچھے بھی کئی اسباب ہوتے ہیں۔جو ہم پر واضح ہیں۔ بڑھتی بے روزگاری، کاروباری نقصان، گھریلو مسائل، دھوکہ و خیانت، سماجی مسائل، سیاسی بحران وغیرہ بھی اس کی شرح میں اضافہ کرنے میں تعاون پیش کرتے ہیں۔ ذہنی تناؤ انسان کو سکون قلب، اطمنان قلب، مثبت سوچ، آرام جیسی نعمتوں سے محروم کردیتا ہے۔ انسان اکثر وقت تنہائی میں گزارنا پسند کرتا ہے، لوگوں سے کنارہ کشی چاہتا ہے، دن کی روشنی بھی دشمن محسوس ہوتی ہے، رات کے اندھیرے سے محبت ہونے لگتی ہے، درحقیقت ایسا انسان زندگی سے بھاگ رہا ہوتا ہے۔ ذمہ داریوں سے بھاگنا اس کا مشغل بن جاتا ہے کیونکہ اس کے پاس زندگی کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی اور نہ ہی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی اہلیت۔ جب چاروں اطراف اندھیروں سے بھر جاتے ہیں، تب انسان کے پاس سارے سوالات کا جواب قتل نفس کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ذہنی تناؤ کی وجہ سے گھروں کے گھر تباہ ہوگئے۔
ذہین اور حساس لوگ ذہنی تناؤ کے زیادہ شکار ہوجاتے ہیں۔ جتنی انسان کے اندر حساسیت ہوگی اتنا اس کی سوچ وسیع ہوگی۔ مختلف پہلوؤں پر سوچنے لگتا ہے۔ نتیجہ پریشانی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اور عصر حاضر میں دیکھا جائے تو دین دار طبقہ بھی اس مرض بد کی لپیٹ میں آتے جارہے ہیں۔ حالانکہ یہ بات واضح ہے کہ اسلام کے سوا کسی کے پاس بھی depression کا علاج نہیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ذہنی تناؤ کے پیچھے پریشانیاں نہیں ہوتی بلکہ خواہشات نفس کی عدم تکمیل، ہوس پرستی، حرص مال وغیرہ جیسی وجوہات بھی ہوتی ہیں۔ انسان کے پاس سب کچھ ہوکر بھی سکون نہیں کیونکہ مزید حاصل کرنے کی ہوس دل میں باقی ہے۔ تقدیر پر کامل یقین و ایمان نہ ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ راقم نے ذاتی مشاہدہ کیا ہے کہ ذہنی تناؤ انسان کو اپنا ہی دشمن بنا دیتا ہے۔ گہرائی سے دیکھا جائے تو معاشرے میں پنپتے ہوئے جرائم کے پیچھے ایک بنیادی سبب ذہنی تناؤ بھی ہے۔ معاشرے سے جرائم دور کرنے ہیں تو ذہنی تناؤ سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا اور چھٹکارا حاصل کرنا تب جاکر ممکن ہے جب اسباب کو ختم کیا جائے جن سے ذہنی تناؤ وجود میں آتا ہے۔
(۱) اللہ پر توکل نہ کرنا :وجوہات میں سب سے بڑی وجہ اللہ پر کامل توکل نہ کرنا ہے۔ توکل کا معنی ہرگز یہ نہیں کہ ہم اسباب اختیار نہ کریں بلکہ توکل کا اصل معنی یہ ہے کہ ظاہری اسباب اختیار کرکے نتیجہ اللہ کے سپرد کر دینا۔ اسلام رہبانیت کا درس نہیں دیتا۔ اپنی استطاعت کے مطابق ظاہری اسباب کرنا لازمی ہے۔ انبیاء کرام و صحابہ کرام اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے۔ زندگی کی حقیقت کو تسلیم کرنے میں ہی دانائی ہے۔ کوئی بھی انسان راتوں رات billionaire یا millionaire نہیں بن سکتا۔ ہر عروج کے پیچھے قربانیاں ہوتی ہیں۔ اپنے آپ کو کام میں مصروف رکھ تاکہ شیطان تیرے دماغ میں منفی وسوسے نہ ڈال پائیں۔ زندگی کی جو بھی پریشانی ہو، اللہ تعالیٰ ہی دور کرنے والا ہے۔ عرش والے سے رشتہ مضبوط کر۔خالق کے سامنے بکھاری بن کے جا، مخلوق میں تجھے غنی بنا دے گا۔
(۲) ذکر الہی سے دوری :ذکر سے مراد شرعی احکامات، عبادات، تلاوت قرآن اور مسنون اذکار وغیرہ ہیں۔ اللہ سے دوری انسان کے لئے باعث خسارہ ہے۔ قرآنی آیات سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دوری، انسان کی معیشت و معاشرت کے لئے باعث زوال ثابت ہوتی ہے۔ مسلم معاشرے میں ملحدانہ فکر اس طرح پھیل چکی ہے کہ یہ باتیں اب افسانے کی شکل اختیار کرچکی ہیں۔ اللہ کی بغاوت کرکے ابھی تک کوئی آباد نہ ہوسکا۔ ہاں اتنا ہے کہ ابدی سرکش انسانوں کے لئے اللہ نے رزق کے دروازے کھول کے رکھ دئیے ہیں کیونکہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ اپنے نفس کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کر، اپنی تنہائی کو خلوت کی خیانتوں سے پاک کر، اپنے اخلاق و معاملات کو درست کرلے، اللہ تعالیٰ تمہاری زندگی رحمت و برکات سے بھر دے گا، ان شاء اللہ۔ اللہ کی اطاعت میں دلوں کا سکون ہے۔ اللہ کی بندگی میں دلوں کا سکون ہے۔ اللہ کی یاد میں دلوں کی آبادی پوشیدہ ہے۔ مفلسی میں صدقہ کر، پریشانی میں اللہ کے حضور سجدہ کر، آلام و مصائب میں صبر کر، اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر کر۔ یہ سب کچھ یقین کے ساتھ انجام دے، تمہاری زندگی سے مصیبتوں کے بادل ہٹ جائیں گے اور بہار کا سورج طلوع ہو گا۔
(۳) غیر شرعی ناجائز تعلقات:یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جس رشتے کی بنیاد ہی حرام کاری پر مبنی ہو اس رشتے کی انتہا کبھی سکون قلب نہیں ہوسکتی۔ عصر حاضر میں نوجوان طبقہ سب سے زیادہ جس فتنے کا شکار ہے وہ ناجائز تعلقات ہی ہے۔ ناجائز تعلقات کا مطلب دولت ، صحت، تعلیم، کردار، قوت اور مستقبل کا ضائع ہونا ہے۔ کتنے ہی عزت دار گھرانے سرعام رسوا ہوگئے، کتنے ہی شرافت والے سربازار لٹ گئے، وجہ فقط ناجائز تعلقات ہے۔ ایسے رشتوں کی ابتدا تا انتہا جھوٹ، مکرو فریب، دھوکہ پر مبنی ہوتی ہے۔ عزت دار گھر کی بیٹی کو اپنے خاندان کی عزت نیلام کرکے سکون ملتا ہے جبکہ نوجوان لڑکا اپنی ہر صلاحیت اسی گندگی میں فنا کردیتا ہے۔ سوشل میڈیا کے منفی استعمال سے، ٹیلیویژن پر جذباتی سیریلوں سے، فحش گانوں سے یہ فحش گوئی دن بہ دن تیز رفتاری سے پھیل رہی ہے۔ اس رشتے کے ثمرات میں بے سکونی، بے چینی، ذہنی تناؤ، گھریلو فسادات، فحش گوئی و عریانی بھی شامل ہے۔ قلبی سکون کے لئے لازمی ہے کہ ایسے غلیظ رشتوں سے کنارہ کشی کی جائے۔ شادی شدہ حضرات کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی اس وبائی مرض کی زد میں آکر رشتوں کے ساتھ، زندگیوں کے ساتھ، جذبات کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں۔
(۴) جدید تعلیمی اداروں کی اندرونی حالات:اکثر تعلیمی اداروں سے جو نتائج سامنے آرہے ہیں وہ قابل تشویش ہیں۔ تعلیمی ادارے قوم و ملت کی تعمیر، اخلاقی و سماجی تعمیر، تہزیبی و تمدنی تعمیر کے لئے قائم کئے جاتے ہیں لیکن عصری حالات کچھ اور ہی بیان کررہی ہیں۔ بیشتر تعلیمی اداروں میں اساتذہ و طلباء کے درمیان فاصلہ مٹا دیا گیا ہے جس کے بھیانک نتائج ہمارے سامنے ہیں۔تعلیمی نظام کچھ اس طرح بنا دیا گیا ہے کہ روپیہ اور پیسے کے سوا کسی کو کچھ دکھائی نہیں دیتا درحقیقت یہ تعلیمی ادارے اب business centres بن چکے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں سے شرم و حیا کے بجائے غیر اخلاقی رسومات کی ترویج ہورہی ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ غیر شرعی تعلقات کے مراکز ہمارے تعلیمی ادارے بن گئے ہیں؟
جدیدیت کے نام پر مذہبی تعلیمات سے کھلواڑ اپنے عروج پر ہے۔اور بھی بہت ساری چیزیں ہیں جن پر لب کشائی کی جاسکتی ہے لیکن امید ہی کی جاسکتی ہے کہ ہمارا تعلیمی محکمہ اس طرف التفات کرے تاکہ اس بڑھتے ہوئے ناسور کو ختم کیا جاسکے۔تعلیمی اداروں سے توقع یہ تھی کہ ہمارے مسائل حل ہوتے لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ ہی منشیات کی زد میں آکر اپنی جوانی تباہ کر رہا ہے۔ فقط annual day منانے سے، مختلف پروگراموں کے انعقاد سے، سوشل میڈیا پر اپنے ادارے کی تشہیر سے کوئی مسئلہ ٹھیک ہونے والا نہیں۔ اساتذہ، اسکول مینیجمنٹ، والدین، طلباء اور خاص کر تعلیمی محکمے کو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہوگا۔(جاری)
(رابطہ نمبر :6005465614)
[email protected]