بلال فرقانی
سرینگر//کشمیر کے بجلی کے نظام میں گزشتہ 5برسوں کے دوران مجموعی تکنیکی اور تجارتی نقصانات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم سمارٹ میٹر کی تنصیب کا عمل ابھی بھی آہستہ اور طویل ہے اور اگر رفتار یہی رہی تواس مکمل کرنے میں مزید5برس درکار ہے۔کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ تقریباً 13 لاکھ صارفین کو بجلی فراہم کر رہی ہے، جن میں سے اب تک تقریباً 4.5 لاکھ صارفین کے لیے سمارٹ میٹر نصب کیے جا چکے ہیں۔ باقی صارفین روایتی بلنگ کے نظام کے تحت ہیں اور انہیں ابھی تک سمارٹ میٹر فراہم نہیں ہوئے۔کشمیر عظمیٰ کے پاس دستیاب دستاویزکے مطابق، مجموعی تکنیکی اور تجارتی نقصانات 2020-21میں فیصد67.96 تھے، جو 2021-22میں 65.17فیصد اور 2022-23میں فیصد59.57 تک کم ہوئے۔ کمی کا رجحان مزید تیز ہوا، 2023-24میں یہ 52.55 فیصدجبکہ 2024-25میں فیصد38.48 تک پہنچ گیا۔ حکومت نے ان نقصانات کو 2028 تک 12فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔تاہم، دستاویزات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ سمارٹ میٹر کی تنصیب کی رفتار ابھی بھی معتدل ہے۔ حکومت کی جانب سے پچھلے مالی سال کے اختتام تک پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 300,187 سمارٹ میٹر نصب کیے جا چکے تھے۔
موجودہ رفتار کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام صارفین تک سمارٹ میٹر کی تنصیب مکمل کرنے میں مزید5 سال یا اس سے زائد وقت لگ سکتا ہے، جب تک کہ تنصیب کی رفتار میں خاطر خواہ اضافہ نہ کیا جائے۔حکام کے مطابق، سمارٹ میٹرنگ اور نظام کی نگرانی میں بہتری کے باعث بلنگ اور ریونیو کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری درج کی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، بلنگ میں56 فیصد بہتری سے بڑھ کر تقریباً 69فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ حصولی میں بہتری میں 75 فیصدسے بڑھ کر 94 فیصدتک اضافہ ہوا ہے۔دستاویزات میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ میٹر شدہ صارفین پر فلیٹ ریٹ لاگو نہیں کیا جا سکتا۔محکمہ بجلی کے انجینئروںکا کہنا ہے کہ سمارٹ میٹروں نے نقصانات کی درست جانچ میں مدد دی ہے، تاہم سردیوں کے دوران پرانا انفراسٹرکچر، فیڈر نقصانات اور موسمیاتی طلب میں اتار چڑھاؤ بجلی کی فراہم میں رکاوٹ ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں توجہ سمارٹ میٹر کی کوریج بڑھانے، ترسیلی نظام کو مضبوط کرنے اور صارفین کو بہتر سروس فراہم کرنے پر مرکوز رہے گی، تاکہ سسٹم کی خامیوں کا بوجھ صارفین پر نہ پڑے۔