ایران پر بلا جواز جنگ ٹھونسنے والے امریکہ و اسرائیل کے رہنماؤںکی طرف سے آئے دن دیئے جارہے نِت نئے اور بے تُکےبیانات کے ساتھ ساتھ کی جارہی جنگی کاروائیوںسے اب یہ بات بالکل عیاں ہورہی ہے کہ ابھی تک ان دونوں ممالک کے لیڈروںکی سمجھ سےیہ بات بالاتر ہے کہ اُن کی طرف سے شروع کی گئی ایران کے خلاف اِس جنگ کا بالآخرکیا انجام کیا ہوگا۔ظاہر ہے کہ کوئی بھی جنگ بغیر کسی حکمت ِ عملی یا منصوبہ بندی کے نہیں لڑی جاسکتی ہے ۔
لیکن امریکہ و اسرائیل کی طرف سے جس کسی بھی حکمت عملی یا منصوبہ بندی کے تحت ایران کے خلاف یہ جنگ ٹھونسی گئی،وہ ہر سطح پر ناکام ثابت ہوچکی ہے۔البتہ ایران نے اپنے دفاع کی خاطر براہ ِراست اور فوری ردعمل کے بجائےجو حکمت عملی اپنائی ہے،اُس میں صبر، تدبر اور طویل المدتی منصوبہ بندی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اس سطح تک پہنچا دیا ہے کہ آج اس کا میزائل پروگرام اور ڈرون ٹیکنالوجی عالمی مباحث کا اہم موضوع بن چکی ہے۔ یہ دفاعی طاقت صرف عسکری قوت کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی علامت ہے جو خود انحصاری اور قومی وقار کو اہمیت دیتا ہے۔تقریباً ایک ماہ سے جاری اس جنگ پربہت سے مبصرین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ امریکی و اسرائیلی پالیسیوں نےمغربی ایشیائی خطے میں استحکام کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کردی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں پر خود امریکہ کے اندر بھی شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ایسی ہی صورت حال اسرائیل میں بھی دیکھی گئی ہے۔اس جنگ کے حوالے سےامریکہ کے اندر عوامی ردعمل بھی ایک قابل توجہ پہلو رہا ہے۔ مختلف شہروں میں مظاہرے دیکھنے کو ملے جن میں عوام نے جنگی پالیسیوں پر سوال اُٹھائے اور حکومت سے وضاحت طلب کی۔ امریکی اپوزیشن کے بعض حلقوں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ مسلسل عسکری مداخلتیں نہ صرف عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ خود امریکی معاشرے میں بھی تقسیم پیدا کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت کا روایتی تصور تبدیل ہو رہا ہے اور عوامی رائے اب پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
چنانچہ ایران پر ہونے والے جارحانہ حملوں میں معصوم شہریوں کے جانی نقصان ، خاص طور پر معصوم اسکولی طالبات کی المناک اموات نے اس جنگ کے اخلاقی پہلو کو نمایاں کرکے رکھ دیا۔اسی طرح ایران کے سپریم لیڈر ،ہردل عزیز مذہبی رہنماکی غیر قانونی اور غیر اخلاقی شہادت نے بھی پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔اِن تمام واقعات نے عالمی اداروں کے کردار اور اُن کے نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ایران کے نئے سپریم لیڈرسید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی تقرری کو ایران کے اندر ایک تاریخی لمحے کے طور پر دیکھا گیا۔ اِس تقرری کے بعد ایران میں عوامی سطح پر ایک نیا جوش اور عزم دیکھنے کو ملا۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ قیادت کی یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران کو داخلی اتحاد اور مضبوط سیاسی سمت کی اشد ضرورت تھی۔
نئے رہبر کی تقرری نے ایران کے اندر اس پیغام کو مزید مضبوط کیا کہ ملک اپنی پالیسیوں اور اصولوں پر قائم رہے گا اور بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے گا۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس خطے کی تاریخی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھا جائے۔ یہاں ہونے والی ہر جنگ صرف عسکری طاقت کا مقابلہ نہیں بلکہ نظریات، شناخت اور علاقائی مفادات کی کشمکش بھی ہوتی ہے۔ ایران نےعرصہ ٔ دراز سے جس انداز سے اپنے نظریاتی بیانیے کو برقرار رکھا ہے، اُس نے اس کی سیاسی طاقت کو بھی تقویت بخشی ہے،جبکہ عالمی سیاست میں طاقت کا تصور بھی بدل رہا ہےاور طاقت کا توازن بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ اسی تناظر میں بہت سے مبصرین یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ امریکی سپر پاور کے غرور کا دور ختم ہو رہا ہے اور ایک نئی عالمی ترتیب جنم لے رہی ہے۔ ایران جیسے ممالک اپنی خود مختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ مضبوطی سے سامنے آ رہے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشمکش کا حتمی نتیجہ کیا ہوگا، یہ ابھی تک مکمل طور پر واضح نہیں اور اس جنگ کا نتیجہ کیا ہوگا ،یہ تو آنے ولا وقت ہی بتائے گا ۔ مگر ایک بات ضرور سامنے آ چکی ہے کہ اس تنازعے نے عالمی سیاست کے کئی پرانے تصورات کو بدل دیا ہے اور دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔
�����������������