یواین آئی
نئی دہلی/یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس کی زندگی کے دو متضاد آہنگ تھے ۔ صبح کے وقت وہ شمالی کوریا کی فوج میں ایک ڈینٹل ڈرل (دندان ساز کے آلے ) کے ساتھ مصروفِ عمل ہوتا، اور دوپہر ڈھلتے ہی وہ فٹ بال کے میدان میں اپنے جوہر دکھاتا۔ یہ پاک دو-اک تھے ، جن کی زندگی پیشہ ورانہ وردی اور کھیل کے جنون کے درمیان بٹی ہوئی تھی، مگر شمالی کوریا کی فوجی وردی نے ان دونوں جذبوں کو ایک لڑی میں پرو رکھا تھا۔1966 کی وہ گرمیاں جب شمالی کوریا کی ٹیم انگلینڈ کے شہر مڈلزبرو پہنچی، تو فٹ بال کی تاریخ کا ایک سنہرا باب رقم ہونے کو تھا۔ مگر میدان میں اترنے سے پہلے اس ٹیم کو عالمی سیاست اور تعصبات کی دیواروں سے ٹکرانا پڑا تھا۔ فیفا نے ایشیا، افریقہ اور اوقیانوسیہ کے لیے صرف ایک نشست مختص کی تھی، جس پر احتجاج کرتے ہوئے افریقی ممالک نے ٹورنامنٹ کا بائیکاٹ کر دیا۔
شمالی کوریا تمام رکاوٹیں عبور کر کے ورلڈ کپ تک تو پہنچ گیا، مگر وہاں بھی ایک عجیب شرط ان کی منتظر تھی: “میچ سے قبل شمالی کوریا کا قومی ترانہ نہیں بجایا جائے گا۔” اس تذلیل کو دل میں دبائے یہ 15 نوجوان مڈلزبرو کی گلیوں میں نکلے ، جہاں وہاں کے محنت کش طبقے نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔گروپ اسٹیج کے آخری معرکے میں شمالی کوریا کا سامنا فٹ بال کی سپر پاور ‘اٹلی’ سے تھا۔ اطالوی ٹیم میں سینڈرو مزولا اور جیانی ریویرا جیسے عالمی شہرت یافتہ ستارے شامل تھے ۔ اٹلی کے کوچ اور میڈیا اس قدر تکبر میں تھے کہ وہ میچ سے قبل ہی کوارٹر فائنل کے حریفوں پر بحث کر رہے تھے ۔آئرسوم پارک کے میدان میں جب مقابلہ شروع ہوا تو 25 ہزار تماشائیوں کی ہمدردیاں شمالی کوریا کے ساتھ تھیں۔
میچ کے 42 ویں منٹ میں وہ لمحہ آیا جس نے تاریخ بدل دی۔ گیند ‘پاک دو-اک’ کے قدموں میں آئی، انہوں نے ایک زوردار اور بے رحم شاٹ لگایا جو سیدھا جال میں جا گرا۔ پورا اسٹیڈیم دھاڑ اٹھا: شمالی کوریا: 1، اٹلی: 0۔ دوسرے ہاف میں اٹلی نے گول کرنے کی سر توڑ کوششیں کیں، مگر شمالی کوریا کے گول کیپر ‘ری چن میانگ’ دیوار بن گئے اور اٹلی کو ٹورنامنٹ سے باہر کر کے ایک عالمی معجزہ کر دکھایا۔ کوارٹر فائنل میں شمالی کوریا کا مقابلہ پرتگال سے تھا۔ میچ کے پہلے 25 منٹ میں شمالی کوریا نے دنیا کو حیرت زدہ کرتے ہوئے 3-0 کی برتری حاصل کر لی۔ صحافی اور تماشائی اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر پا رہے تھے ۔ لیکن پھر ‘بلیک پینتھر’ کہلائے جانے والے عظیم فٹ بالر یوسیبیو کا طوفان آیا۔ انہوں نے تن تنہا چار گول کر کے شمالی کوریا کا خواب چکنا چور کر دیا اور پرتگال نے یہ میچ 5-3 سے جیت لیا۔ شمالی کوریا اگرچہ کوارٹر فائنل ہار گیا، لیکن وہ دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کے دل جیت چکا تھا۔ 1966 کا ورلڈ کپ صرف فاتحین کے لیے نہیں، بلکہ ان گمنام نوجوانوں کے لیے یاد رکھا جاتا ہے جنہوں نے فٹ بال کو چند ہفتوں کے لیے ایک پریوں کی کہانی بنا دیا تھا۔ آج بھی جب فٹ بال کی تاریخ کے بڑے الٹ پھیر کا ذکر ہوتا ہے ، تو اس فوجی دندان ساز ‘پاک دو-اک’ کا نام سرِ فہرست آتا ہے ، جس نے ثابت کیا کہ کھیلوں کی سب سے بڑی داستانیں اکثر وہی لکھتے ہیں جنہیں ابتدا میں کوئی اہمیت نہیں دیتا۔