جموں و کشمیر ملک کی پہلی ریاست تھی جس نے زرعی اصلاحات لاگو کئے۔ ان اصلاحات کے دو حصے تھے ۔ پہلا حصہ مہاراجہ کے زمانے کا غیر حاضر جاگیرداری نظام تھا جس کو سرے سے ہی ختم کر دیا گیا یعنی ان جاگیرداروں اور زمینداروں سے وہ زمین پوری طرح سے چھین لی گئی جو اس علاقے میں موجود ہی نہیں تھے جہاں ان کے نام پر زمینیں الاٹ کی گئی تھیں ۔ یہ زمین چھڑاکر سیدھے ان کاشتکاروں کی ملکیت میں دی گئی جو اسے مدتوں سے کاشت کرتے آئے تھے ۔ غیر حاضر جاگیر داروںکو کوئی معاوضہ بھی نہیں دیا گیا ۔ اس فیصلے کے تحت جو کاشتکار غیر حاضر جاگیرداروں کی زمین کا جتنا رقبہ کاشت کرتے تھے، اس پورے رقبے پر کوئی معاوضہ ادا کئے بغیر ان کو مالکانہ حقوق مل گئے ۔ اس کے ساتھ ہی یہ پابندی بھی عائد کی گئی کہ کوئی شخص اپنے پاس (182) کنال سے زائد زمین نہیں رکھ سکتا ۔ مزید وضاحت کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوئی کنبہ جس میں ایک بالغ مرد موجود ہو ،صرف (182) کنال زمین اپنے پاس رکھ سکتا تھا ۔ جن کنبوں کے پاس اُس وقت 182 کنال سے زیادہ زمین تھی، ان کو زائد زمین سے بے دخل کیا گیا اور بغیر معاوضہ غریب کاشتکاروں (کھیت مزدوروں وغیرہ ) کو دی گئی ۔
یہ زرعی اصلاحات خامیوں سے مبرا نہیں تھے کیونکہ غیر حاضر جاگیرداروں کی زمینوں کو کاشت کرنے والے کچھ کاشت کاروں کے پاس بہت ہی کم زمین تھی، اس لئے ان کو بہت کم رقبہ کے مالکانہ حقوق مل گئے ۔ بے زمین کسانوں کا کھیت مزدوروں کو کوئی خاص یا قابل قدر فائدہ نہیں ملا ۔ ان کو جو تھوڑی بہت زمین ملی وہ بھی ادنیٰ کوالٹی کی تھی ۔ زمین الاٹ منٹ میں دھاندلیاں بھی ہوئیں کیونکہ چین کی طرز پر زرعی اصلاحات کو لاگو کرنے کا کام کسانوں کی بااختیار کمیٹیوں کو نہیں بلکہ افسر شاہی کے سپرد کیا گیا ۔ ان خامیوں کے باوجود کشمیر کے زرعی اصلاحات ریاست میں استحصالی جاگیردارانہ نظام کو توڑنے میں کامیاب ہوئے ۔ یہ انقلابی پیشرفت 1950 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں ہوئی ۔ اس سلسلے میں 1950 ء میں ہی متعلقہ ایکٹ پا س کیا گیا ۔ جموں و کشمیر میں انقلابی نوعیت کے زرعی اصلاحات ،جن کی مثال اس وقت ملک کے کسی اور حصے میں نہیں ملتی تھی (کیرالہ کے زرعی اصلاحات کمیونسٹ پارٹی کی سرکار بننے کے بعد 1957ء میں لاگو ہوئے) کی ایک اہم وجہ بلکہ محرک آئین دفعہ 370 تھی ۔ یہ اور بات ہے کہ حال ہی میں امت شاہ نے پارلیمنٹ میں یہ مضحکہ خیز بیان دیا کہ دفعہ 370 ریاست جموں و کشمیر کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے ۔ بھارتی آئین میں اس بات کی ضمانت دی گئی تھی کہ نجی جائیداد جس میں زمین بھی شامل تھی ، رکھنا اور اس پر ملکیت جتانا ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اس لئے جب اترپردیش،بہار اور تامل ناڈو میں زرعی اصلاحات کا عمل شروع کیا گیا تو جاگیرداروں نے عدالت سے رجوع کیا اور عدالت نے ان کے ہی حق میں فیصلہ سنایا ۔ اس کے برعکس جموں و کشمیر میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں تھا جو جاگیرداروں سے زمین چھین لینے سے سرکار کو روک سکتا تھا ۔ ریاست کے آئین میں بھی جو بعد میں (1956ء میں) نافذ ہوا ، جائیداد کے حق کو بنیادی حقوق میں شامل نہیں کیا گیا ۔ اس لئے جموں و کشمیر میں عدالتی مداخلت نہ ہو سکی ۔
اس موقعہ پر یہ بات مدنظر رکھتے ہوئے کہ سپریم کورٹ جس کی طرف کچھ ریاستوں نے رجوع کیا تھا،کیا فیصلہ سنائے گی ۔ جواہر لعل نہرو کی سرکار نے پارلیمنٹ کے ذریعہ آئین میں پہلی ترمیم کی اور اس میں نویں شیڈول کو داخل کیا ۔ اس شیڈول میں زمینی اصلاحات سمیت ان تمام قوانین کو رکھا گیا جن پر عدالت نظر ثانی نہیں کر سکتی تھی ۔ اس احتیاطی اقدام کے باوجود 1954ء میں سپریم کورٹ نے یہ رولنگ دی کہ سرکار جب بھی کسی کی ذاتی ملکیت کو اپنی تحویل میں لے گی تو اس کو بازار کی قیمت پر مالک زمین کو معاوضہ دینا پڑے گا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جموں و کشمیر کو چھوڑ کر باقی تمام ریاستوں میں زرعی اصلاحات خاطر خواہ طور پر عمل میں نہیں لائے جا سکے اور جموں و کشمیر واحد ریاست تھی جہاں کاشتکاروں کو بلامعاوضہ زمین ملی اور سرکار کو بھی خزانہ عامرہ سے جاگیرداروں کو رقومات نہیں دینا پڑیں ۔ جموں و کشمیر سرکار نے جاگیرداروں سے بلامعاوضہ زمین حاصل کی اور کاشتکاروں کو بھی بلا معاوضہ زمین کے مالکانہ حقوق دیئے ۔ یہ اس لئے ممکن ہوا کیونکہ آئین کی دفعہ 370 کی بنا پر نہ تو بھارتی آئین کی ساری شقیں (Clauses) ریاست پر لاگو ہوتی تھیں اور نہ وہ قوانین جو زرعی اصلاحات کی عمل آوریس میں رکاوٹ بن جاتے تھے ۔ مزید برآں یہ کہ 370 کے تحت ریاست اندرونی طور خود مختار تھی اور خود مختاری کا سہارا لے کر اس نے جائیداد کے حق کو برتری نہیں دی ۔ زرعی اصلاحات کی بہتر عمل آوری کی بنیاد پر جموں و کشمیر پورے ملک میں کافی دیر تک ایک نمایاں مثال بھی رہی اور مشعل راہ بھی ۔ جموں و کشمیر کی مثال کو کافی عرصہ گزرنے کے بعد بائیں بازو کی سرکاروں نے ان کے زیر انتظام ریاستوں میں لاگو کیا ۔ کشمیر میں زرعی اصلاحات نے زمین کی منصفانہ تقسیم کے ساتھ ساتھ آمدنی کی عدم مساوات کو بھی کافی حد تک قابو میں رکھا۔ اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں غربت بھی حد سے زیادہ نہیں بڑھ پائی ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ہی جموں و کشمیر میں 2009-2010ء میں خطِ افلاس سے نیچے کا تناسب ملک کی تمام دیگر ریاستوں سے کم تھا ۔
اس سلسلے میں پلاننگ کمیشن نے جو اعداد و شمار ظاہر کئے ہیں، ان کے مطابق جموں و کشمیر میں دیہی غربت 8.1 فیصد ہے جو مرکزی انتظام والے علاقے راجدھانی دہلی ،جہاں دیہی غربت 7.7فیصد ہے،کو چھوڑ کر ملک کے تمام علاقوں کے مقابلے میں سب سے کم ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گجرات، جو نریندر مودی اور امت شاہ کی آبائی ریاست ہے ، میں دیہی غربت سرکاری ذرائع کے مطابق 26.7 فیصد ہے ۔ پورے ملک میں دیہات میں خطِ افلاس سے نیچے رہنے والے کنبوں کی شرح 33.8 فیصد ہے ۔ ان ٹھوس شواہد کو زیر نظر رکھ کر امت شاہ کو یہ بیان دینے سے پہلے غور کرنا چاہئے تھا کہ کیا جموں و کشمیر کی ترقی میں دفعہ 370 رکاوٹ بنا ہوا تھا یا کوئی اور وجہ تھی ۔ غربت کے جائزوں کے علاوہ جموں و کشمیر کے دیگر سماجی مظاہر (Social Indicators) بھی یہ بات واضح کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے معاملے میں ایک مثالی ریاست ہے اور یہ بات اس لئے ممکن ہو سکی ہے کہ ریاست دفعہ 370 کے بل پر بھارتی آئین سے اندرونی معاملات میں الگ رہ سکی ۔
یہاں یہ بات بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ ریاست جموں و کشمیر آزادی اور آئین کے حصول سے پہلے کوئی خوش حال علاقہ نہیں تھا نہ یہاں کوئی فلاحی معاشرہ قائم تھا جس کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ دفعہ 370 یا زرعی اصلاحات ہی اس کی موجودہ خوش حالی کے ہی ضامن نہیں بنے بلکہ ریاست کی حالت ہی بہتر تھی ۔ اس سلسلے میں یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ جموں و کشمیر 1947ء سے پہلے انتہائی جابرانہ اور جاگیردارانہ نظام کے تحت تھی جس نے کسانوں اور کاشتکاروں کو (جو زیادہ تر مسلمان تھے ) بدترین قسم کی غربت اور جہالت کی ناگفتہ بہہ حالت میں رکھا تھا ۔ جاگیردارانہ نظام اور شخصی راج کی ظالمانہ مثالیں کشمیری لوک کتھائوں اور روایتوں کا ایک حصہ بن چکی ہیں ۔ اس کا اظہار غیر ملکی ،غیر جانبدارسیاحوں نے بھی اپنے تذکروں میں کیا ہے ۔ مختصر یہ کہ دفعہ 370 اور اندرونی خودمختاری نے دیگر فلاحی اقدامات کے علاوہ وسیع زرعی اصلاحات کو ممکن بنا کر جموں و کشمیر مقابلتاً ایک خوش حال ریاست بنایا ۔ اس حقیقت کو مد نظر رکھ کر یہ کہنا نہ صرف عدم واقفیت اور سچائی سے نظریں چرانے کے مترادف ہوگا بلکہ بے جاہٹ دھرمی بھی کہ آئین کی دفعہ 370 یا جموں و کشمیر کی اندرونی خودمختاری ریاست کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ تھی ۔
(کالم نویس نامور ماہر اقتصادیات اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دلّی کے پروفیسر بھی ہیں)