رام بن // ضلع کے بانہال علاقہ میںسول سوسائٹی کے ممبران ، معزز شہریوں ،مذہبی تنظیموں نے قصبہ میں آئین ہند کے دفعہ 35-A کے ساتھ کسی بھی چھیڑ چھاڑ کی سخت مخالفت کرتے ہوئے ایک احتجاجی ریلی کا اہتما م کیا اور انتباہ کیا کہا اگر اس دفعہ کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو اسکے سنگین نتائج بر آمد ہونگے۔احتجاجی ریلی نکالنے سے قبل مقررین نے مبینہ الزام لگایا کہ بعض سیاسی تنظیمیںآئین ہند کے دفعہ35-A کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کہا کہ یہ دفعہ مرکز اور ریاست کے درمیان ایک پُل کی حثیت رکھتا ہے اور ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دیتا ہے۔مظاہرین نے اس سلسلہ میں ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا جس میں سول سوسائٹی کے ممبران ، مذہبی و سیاسی تنظیموں کے ممبران کے علاوہ دوکانداروں کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ بانہال تحصیل او رملحقہ علاقوں کے سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین نے میونسپل پارک سے نکالی گئی ریلی میں شرکت کی ،جو جموں ۔سرینگر قومی شاہراہ ،ناگہ بل، تحصیل آفس و دیگر بازاروں سے ہوتے ہوئے بس اسٹینڈ میں پُر امن طور سے اختتام پذیر ہوئی۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بینر اُٹھائے ہوئے تھے جس میں تحریر کیا گیا تھا کہ ’’دفعہ 35A میں مداخلت نا قابل تسلیم ‘‘ ہے۔ مقررین نے انتباہ کیا کہ اگر آئین ہند کے دفعہ 35A کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ریاست کے تینوں خطوں کشمیر، جموں اور لداخ کی خصوصی شناخت ختم ہوجائے گی،جسکے تباہ کُن نتائج برآمد ہونگے۔انہوں نے اسے بعض سیاسی پارٹیوں کی جانب سے ایک سوچی سمجھی چال قرار دیا اور ریاستی انتظامیہ سے اس دفعہ کے دفاع میں ہر کوئی وسیلہ بروئے کار لانے کی صلاح دیکیونکہ لوگوں کو خدشہ ہے کہ ریاستی و مرکزی سرکا عدالت اعظمیٰ میں اسکا ددفاع نہیں کرے گی۔مقررین بشمول این سی کے حاجی سجاد شاہین نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا۔