کپوارہ//درگمولہ کپوارہ اور حاجن میں ڈی ڈی سی کی دو نشستوں کے انتخابات کالعدم قرار دیئے گئے ہیں۔ان دونوں نشستوں کی ووٹ شماری التوا میں رکھی گئی تھی۔الیکشن کمیشن نے دونوں نشستوں میں انتخابات لڑ رہی پاکستان زیر انتظام کشمیر کی دو خواتین کو بھارت کا شہری ماننے سے انکار کردیا ہے اور انکا نام ووٹر لسٹوں سے خارج کردیا ہے۔یہ دونوں خواتین پاکستانی کشمیر کی ہیں جنہوں نے دو سابق جنگجوئوں سے شادی کی ہے اور باز آباد کاری سکیم کے تحت کشمیر لوٹ آئے ہیں۔اب دونوں نشستوں کے انتخابات کا اعلان عنقریب کیا جارہا ہے۔ درگمولہ کپوارہ نشست کے لئے 7 دسمبر کو ووٹ ڈالے گئے جسمیںپاکستانی نژاد امیدوار سمیت12میدوار میدان میں تھے تاہم 24دسمبر کو ووٹ شماری کے دوران الیکشن کمشنر نے ووٹ شماری پر یہ کہہ کر روک لگا دی کہ انتخابات میں حصہ لی رہی پاکستانی نژاد امیدوارثومیہ صد ف کو ابھی تک یہاں کی شہر یت حاصل نہیں ہے ۔ثومیہ صدف کی شادی باتر گام کے ایک شہری عبد المجید سے اس وقت ہوئی جب وہ ہتھیارو ں کی تربیت کے لئے سر حد پار چلا گیا اور وہا ں مظفر آباد کی ثومیہ صدف سے شادی رچائی۔دونوں2010 میں با ز آ باد کاری پالیسی کے تحت واپس آئے تھے ۔حاجن اے کی نشست پر بھی پاکستانی نژاد خاتون شازیہ بیگم زوجہ محمد اسلم الیکشن میں کھڑی ہوئی تھی اور یہاں بھی یہی صورتحال وقوع پذیر ہوئی۔شازیہ بیگم اور اسکا سابق جنگجو بھی باز آباد کاری پالیسی کے تحت واپس آئے ہیں۔دونوں نشستوں پر اب نئے انتخابات کئے جائیں گے۔