محمد بشارت
کوٹرنکہ //بلاک بدھل نیو کی پنچایت درمن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈران نے مقامی عوام کے ساتھ مل کر موجودہ حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ اس موقع پر بی جے پی کی یوٹی اکائی کے نائب صدر چوہدری ذوالفقار علی نے حلقہ انتخاب بدھل کا دورہ کیا اور پارٹی کارکنان سے خطاب بھی کیا۔ بعد ازاں وہ پنچایت درمن میں مقامی لوگوں کے ہمراہ سڑک پر احتجاجی دھرنے میں شامل ہوئے۔احتجاج کے دوران چوہدری ذوالفقار علی نے موجودہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار نے جموں و کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لئے خزانے کے منہ کھول رکھے ہیں، لیکن اس کے باوجود زمینی سطح پر عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں حکومت بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جل جیون مشن کے تحت پنچایت درمن میں تقریباً 11 کروڑ روپے کا ٹینڈر ہوا تھا اور سرکار کا نعرہ ہے کہ ہر گھر نل سے جل فراہم کیا جائے گا، مگر یہ نعرہ صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنچایت درمن میں جل جیون مشن کے تحت بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے اور لوگوں کو اس اسکیم سے کوئی حقیقی فائدہ نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی مشکلات کم ہونے کے بجائے دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہیں۔
انہوں نے محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے سروے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ سروے عوامی مفاد کے مطابق نہیں ہے۔چوہدری ذوالفقار علی نے موجودہ نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے بدھل جاوید اقبال چوہدری پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران اسمارٹ اسکولوں، سڑکوں کی بہتری اور بہتر بنیادی خدمات فراہم کرنے کے وعدے کئے گئے تھے، لیکن عوام کو صرف سبز باغ ہی دکھائے گئے۔احتجاج کے دوران تحصیلدار ساحل علی موقع پر پہنچے اور مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مسائل کا جلد ازالہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جل شکتی کے ملازمین کو صبح ہی پنچایت درمن میں بھیجا جائے گا تاکہ عوامی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔