اس حقیقت سے کسی بھی طرح انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ دور کا انسان دنیا داری میں غرق ہے۔ ایک دوسرے کی فکرمندی اور ہمددردی اک بھولی بسری کہانی بن چکی ہے ۔دنیا داری کی چکا چوند میں گم بنی نوع انسان کے جسم سے ایثار کی روح نکل چکی ہے۔لیکن ایسے میں اْمیدکی کرن اْس وقت دیکھنے کو ملتی ہے جب نوجوانانِ جموں اپنے جذبہ ٔ ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں، دل مچل اٹھتا ہے ، سکون میسر ہوتا ہے اور یقین ہوجاتا ہے کہ انسانیت کو دوام بخشنے والے سپوت ابھی باقی ہیں۔گزشتہ کئی برسوں سے نوجوانان ِجموںاِس اجر عظیم کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔جب بھی کوئی مریض شہر جموں کے کسی ہسپتال میںزیر علاج ہوتا ہے اور اْسے خون کی ضرورت پڑتی ہے تو جموں کے یہ قابل ِ فخر نوجوان ذات،پات اور رنگ ونسل اور مذہبی تفریق کئے بغیرہسپتالوں میں جاکرجہاں ضرورتمندوں کو اپنا خون ’’عطیہ‘‘کرتے رہے ہیں وہیں حسب ِ توفیق مالی امداد بھی کرتے ہیں۔قابل ِ فخر ہے کہ یہ عظیم کام اورجذبہ ٔ ایثار کا سلسلہ آج بھی اْسے جوش و جذبہ سے جاری و ساری ہے جس جوش و جذبے سے برسوں قبل نوجوانان ِ جموں نے خدمت ِ خلق کا یہ عظیم سلسلہ شروع کیا تھا۔
مضمون کے ذریعہ اِن عظیم ہستیوں کا ذکر چھیڑکرقصیدہ گوئی کرنا مقصود نہیں اور نہ ہی اْن عظیم ہستیوں کو اپنے لئے تعریفیں بٹورنا مقصود ہے بلکہ خدمت خلق کے اِس عظیم کوکام جاری رکھنے کیلئے ایسی عظیم ہستیوں سے ’’نسل ِ نو‘‘ کو آگاہ کرنا اشد ضروری ہے،وگرنہ آنے والی نسلوں کیساتھ یہ اک بہت بڑی ناانصافی ہوگی،وہ ماضی سے بے خبررہیں گے۔ظاہر ہے کہ جب ’’حال ‘‘کو ’’ماضی ‘‘سے متعلق آگاہی ہوگی تو لازماً’’مستقبل ‘‘کو بھی باآسانی ’’ماضی ‘‘سے آگاہی فراہم ہوگی اور ماضی کے یہ عظیم کام آنے والی نسلوں میں منتقل ہوتے رہیں گے۔ لہٰذا ہم سب کا یہ فرض بنتا ہے کہ خدمت خلق کے اِس عظیم جذبے کو آنے والی نسل میں منتقل کرنے میں ہم اپنا کردار نبھائیں۔
خدمت ِ خلق کے اِس ’’سایہ دار ‘‘شجرکو جو قابل ِ احترام اور عظیم ہستیاں اپناخون دیکر تناور کر رہی ہیں اْن میںہلال احمد بیگ کا نام اول درجے پر ہے جنہوں نے باقی نوجوانوں کے اندر اِس احساس کی شمع کو روشن کرنے میں پہلا قدم اٹھایا۔نوجوانوں کے مطابق یہ عظیم کام کرنے کے بعد انہیں انتہا درجے کا سکون میسر ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ واقعی وہ انسان ہیں ورنہ اپنی فکر تو جانوروں کوبھی ہوتی ہے لیکن انسانیت کا یہ تقاضا ہے کہ ہر انسان دوسرے انسان کی فکر کرے، اْس کا خیر خواہ بنے،اْس کے دْکھ درد میں برابر کا شریک ہو جائے، اْس کے دکھوں اور مصائب کے بوجھ کو اپنے ساتھ بانٹے، اْس کیلئے راحت کا ذریعہ بنے۔ایسی ہی عظیم روش کو جنم دینے میں نوجوانان ِ جموں کے یہ چند نوجوان گزشتہ کئی برسوں سے سرگرم ہیں۔
خدمت ِخلق کرنے والے نوجوانان ِ جموںہلال احمد بیگ، کامران بیگ، ایاض قریشی،شکیل احمد،ماجد اقبال نائیک،سبحان شیخ،طاہر حسین،کامران محمود،محمد اشرف،یاسر حسین،اْلفت کھانڈے، عبدالغنی و دیگران سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو اِ ن سے جاننے کی کوشش کی کہ وہ کس مقصد کے تحت یہ سب کر رہے ہیں تو سبھی نوجوان بھائیوں کا کہنا تھا کہ ہمارا کوئی کمال نہیں ہے بس اللہ تبارک و تعالیٰ کی مہربانی ہے، کرم ہے کہ رب ِ کائنات نے ہم جیسے گنہگاروں کو اِس عظیم کام کیلئے چنا،اِس لئے ہمارا اِس عظیم کام کو انجام دینے کا مقصد بھی اللہ کی رضامندی حاصل کرنا ہے اور آنے والی نسلوں کیلئے ایک راہ ہموار کرنا ہے جس راہ پر وہ چل کر انسانیت کی خدمت بغیر کسی غرض و غائت اور مفادات کے انجام دے سکیں۔اْن کا کہنا تھا کہ پہلے پہل چند ہم خیال نوجوانوں نے اِس کارِ خیر کا بیڑا اٹھایا اور وقت کے ساتھ ساتھ اِس خیال کے ساتھ مزید نوجوانوں نے اتفاق کیا اور وہ جڑتے گئے اور آج اللہ کے فضل و کرم سے نوجوانان ِ جموں کی اک بڑی تعداد اِ س کارِ خیر کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور آہستہ آہستہ اِس کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ ہلال احمد بیگ کے مطابق وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اور نوجوان کے خدمت خلق کے تئیں بے لوث جوش و جذبے کو مدِ نظر رکھ کرانہوںنے چاہا کہ وہ باضابطہ طور قانونی دائرے کے اندر رہ کر یہ کام شروع کریں ،اِس لئے انہوں نے’’الحیات ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ کا قیام عمل میں لایا جس کے ذریعے سبھی نوجوان فلاحی کاموں میں مصروف عمل ہیںاور ان شا اللہ اِس کارِ خیر کو آگے بڑھانے کیلئے ہر وقت سرگرم ہیں۔ اْن کا کہنا تھا کہ وہ صرف خون کا عطیہ نہیں کرتے بلکہ مجبور، لاچار اور بے یار مدد گار افراد کی امداد میں پیش پیش رہتے ہیں اور مقصد یہی ہے کہ وہ انسانیت کی خدمت کریں اور یہ خدمت انسانیت کی بنیاد پر انجام دی جاسکے،بغیر کسی مذہب و ملت، رنگ و نسل اْن افراد کی امداد کی جائے جو واقعی امداد کے مستحق ہوں۔
چنانچہ ھدایت کی کتاب کلام الٰہی میں مالک کائنات کا ارشاد ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ’’ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی‘‘۔اسی طرح سردار کائنات نبی ؐکا سنہری فرمان مبارک ہے جس کا مفہوم ہے کہ’’ اگر کوئی شخص اپنے کسی بھائی ،بہن،ماںکی ایک حاجت کو پورا کرنے کی کوشش کرے اللہ تعالیٰ اسکو دس سال کے اعتکاف کا اجر عطا فرمائیں گے جس کے ایک دن کے بدلے تین خندق جہنم سے دوری ہوگی اور ایک خندق کا فاصلہ زمین و آسمان کے درمیان کے فاصلے سے زیادہ ہے‘‘۔بقول ان نوجوانوں کے بس یہی وجہ ہے کہ وہ بھی انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل ہیں اوران کاسب کچھ اللہ کی خاطر ہے۔وہ کہتے ہیں’’ہماری نس نس میں جو خون دوڑ رہا ہے اور ہم زندہ ہیں اْس خون کو اْس واحد طاقت کی خاطر ہم عطیہ کر رہے ہیں جس کے اشارے پر یہ خون ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہے اْس پاک ذات کی عطا کردہ نعمت ہے اْور اْسی کی راہ میں عطیہ بھی کرتے ہیں‘‘۔بقول شاعر۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
حاصل کلام یہ ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو اپنا خون عطیہ کرنا جائز ہے البتہ خون یا پلازما بیچنا شرعاًحرام ہے اور ناپسندیدہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بہت سارے لوگوں کو اپنے بلڈ گروپ کا پتا ہی نہیں ہوتا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنا بلڈ گروپ ضرور چیک کروا کر اپنے پاس ریکارڈ رکھیں۔ کیوں کہ خدانخواستہ کل آپ کا کوئی رشتہ دار وغیرہ ہسپتال میں جا سکتا ہے اور اسکو آپ کے بلڈ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اسی طرح اللہ نہ کرے آپ خود کسی بیماری کے سلسلے میں خون کے ضرورت مند بن سکتے ہیں اور ایسی صورت میں وقت کی بچت ہوسکتی ہے اگر آپ کو اپنا بلڈ گروپ معلوم ہے۔ لہٰذا سوشل میڈیا پر یا کہیں بھی ضرورتِ خون کی کسی پوسٹ یا کسی سٹیٹس کو دیکھ کر سکرول ڈائون یا آگے جانے سے پہلے یہ ضرور سوچئے گا کہ آپ کا 450یا 500ملی لیٹر خون کسی کے معصوم پھول کی یا کسی زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا بچے کی ،ماں کی یا کسی خون میں لت پت آپریشن تھیٹر کی میز پر پڑے زندگی کی آخری سانسیں لیتے کسی والد کی زندگی کے چراغ کو روشن کرسکتاہے جس کا معصوم سا بچہ اس انتظار میں ہے کہ بابا میرے لئے کھلونا لینے گئے ہیں۔ میں نے اپنے حصے کی شمع جلائی ہے۔ آپ اپنے حصے کی شمع جلائیں۔اِس پیغام کو سمجھیں اوراپنی زندگی میں عملائیں اور دوسروں کو بھی اِس عظیم کام میں حصہ لینے کیلئے آمادہ کریں۔ یہی انسانیت کا درس ہے اور یہی عمل انسانیت کو زندگی بخشتا ہے۔ انسانیت کو زندہ رکھنے کیلئے ہم اپنا اپنا فرض ادا کریں،سہارا بنیں، خوشیاں بانٹیں،انسانیت زندہ رہے گی تو ہم انسان سمجھیں جائیں گے وگرنہ ہمارا مقام چلتی پھرتی زندہ لاشوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
برقی رابطہ۔ [email protected]
فون نمبرات۔7780918848/9797110175
����������