عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//بھارتی انٹرپرائزز کے چیئرمین سنیل بھارتی متل نے اتوار کو بھارتی صنعتوں سے اپیل کی کہ وہ ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ کریں، درآمدات پر انحصار کم کریں اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے درمیان قابلِ تجدید توانائی کی جانب تیزی سے پیش قدمی کریں۔کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری(سی آئی آئی)کی ایک تقریب میں خصوصی اعزاز حاصل کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے متل نے اظہارِ تشکر کیا اور قومی پالیسی سازی اور اقتصادی ترقی میں صنعتی اداروں کے کردار پر روشنی ڈالی۔متل نے کہا’’ یہ اعزاز حاصل کرنا میرے لیے بڑی خوشی کی بات ہے، اور ٹیلی کام شعبے کے مشکل ادوار میں پالیسی سازوں کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو یاد کیا۔
سی آئی آئی کو ایک بہت خاص ادارہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ سماج اور مختلف فریقین کے ساتھ مل کر ایسی پالیسی سازی میں مدد کرتا ہے جو ملک کو آگے لے جانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔متل نے صنعتی اداروں کے ساتھ اپنے خاندان کے دیرینہ تعلقات کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ ان کے بھائی مختلف صنعتی تنظیموں میں قیادت کے عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہوں نے نوجوان تاجروں اور صنعتکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ چیمبرز آف کامرس میں فعال کردار ادا کریں اور پالیسی سازی کے عمل میں حصہ لیں۔انہوں نے کہا، حکومت، خاص طور پر سی آئی آئی جیسے اداروں کی طرف دیکھتی ہے تاکہ وہ پالیسی فریم ورک کی تشکیل میں رہنمائی فراہم کریں۔عالمی اقتصادی صورتحال اور مشرقِ وسطی میں کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے متل نے کہا کہ مضبوط اقتصادی ترقی کے باوجود بھارت عالمی چیلنجز سے الگ نہیں رہ سکتا۔انہوں نے کہا’’یہ مشکل وقت ہیں۔ بھارت مسلسل 6 سے 7 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے اور مجموعی طور پر حالات اچھے ہیں، لیکن کچھ صورتحال ایسی ہوتی ہیں جو کسی کے قابو میں نہیں ہوتیں‘‘۔وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے متل نے کہا کہ صنعتوں کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ملک کے اندر سرمایہ کاری بڑھانے اور غیر ضروری درآمدات کم کرنے میں زیادہ موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا’’ ہمیں سونے کی درآمد کے اس جنون سے باہر نکلنا ہوگا۔ ہمیں اپنی توانائی کی لاگت کم کرنی ہوگی اور قابلِ تجدید توانائی کی جانب تیزی سے بڑھنا ہوگا‘‘۔متل نے زور دے کر کہا کہ یہ وقت سرمایہ کاری کم کرنے کا نہیں بلکہ بھارت کی طویل مدتی ترقی پر مزید اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری بڑھانے کا ہے۔