دلّی سے کوئی راحت ملی نہ ایل جی نےدل بڑا کیا، بڈگام سیٹ بھی گئی،روح اللہ نالاں اور کانگریس بھی خفا خفا
بلال فرقانی
سرینگر//2024کے اسمبلی چنائو میں بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہونے کے بعد 16اکتوبر کو وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف لینے والی عمر عبداللہ حکومت کیلئے 2025کا سال انتہائی کٹھن رہا ۔اس سال میں عمر عبداللہ حکومت کو نہ صرف داخلی سطح پر بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا بلکہ خارجی سطح پر دلّی سے نہ کوئی راحت ملی اور نہ ہی لوک بھون سے کوئی سہارا ۔پہلگام حملہ اور ناگہانی آفات سے دوچار یوٹی میں این سی حکومت سال بھر مشکلات کے بھنور میں ہچکولے کھاتی رہی اور عوامی راحت رسانی کا کوئی بڑا کام کرنے سے قاصر رہی۔
داخلی بحران
2025میں نیشنل کانفرنس کی سربراہی والی حکومت کو مسلسل داخلی بحرانوں کا سامنا رہا۔سال کے اوائل میں ہی نہ صرف ڈوڈہ سے عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی معراج ملک نے سرکار سے اپنی حمایت واپس لی بلکہ پورا سال چناوی وعدوں کی وفائی کے معاملہ پر پارٹی کو اپنے ہی ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔روح اللہ سال بھر اپنی ہی سرکار کو یہ طعنے دیتے رہے کہ یہ سرکار چنائو کے دوران عوام سے کئے گئے وعدے وفا کرنے میں نہ صرف ناکام رہی بلکہ الٹا دلّی کی جی حضوری کو ترجیح دی گئی۔اسی طرح حکمران اتحاد میں ہونے کے باوجود بھی کانگریس بجھی بجھی سی نظر آئی اور گوکہ اسمبلی میں کانگریس کے ارکان حکمران صفوں میں شامل رہے تاہم عملی طور کانگریس کی یوٹی قیادت نے برملا عمر سرکار کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔راجیہ سبھا الیکشن کے دوران یہ ناراضگی انتہا کو پہنچ گئی اور جب سے اب تک کانگریس اور این سی کے درمیان مقامی سطح پر کوئی ہم آہنگی نظر نہیں آرہی ہے بلکہ کانگریس پردیش صدر طارق حمید قرہ نے برملا کہا کہ یہ سرکار تال میل کمیٹی تک قائم نہ کرسکی تاکہ معاملات پر باہمی گفت و شنید ہوتی۔
خارجی چیلنجز
خارجی محاذ پر عمر عبداللہ حکومت پورا سال بیک فُٹ پر ہی ۔حلف لینے سے اب تک عمر عبداللہ ،ان کے کابینی وزراء ،پارٹی لیڈران اور ممبران ِ پارلیمنٹ نے دلّی میں مرکزی حکومت کے قائدین سے کئی ملاقاتیں کیں لیکن یہ ملاقاتیں سود مند ثابت نہ ہوسکیں۔یوٹی کے لئے رقوم کے فراخدلانہ بہائو کے علاوہ مرکزی حکومت نے اہم سیاسی مسائل پر یوٹی حکومت کو کوئی راحت فراہم نہیں کی ۔گوکہ عمر عبداللہ حکومت نے کابینہ او راسمبلی سے ریاستی درجہ اور خصوصی پوزیشن کی بحالی سے متعلق قراردادیں منظور کراکے مرکزی حکومت کو بھیج دیں لیکن دلّی میں ان قراردادوں کو درخور اعتناء نہیں سمجھا اور وہاں مسلسل خاموشی چھائی ہوئی ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم سے لیکر وزیر داخلہ سبھی مرکزی قائدین ریاستی درجہ بحالی کا یقین دلا رہے ہیں لیکن اس کیلئے وہ موزون وقت کی شرط بھی ساتھ میںلگا رہے ہیں اور اب تک وہ موزون وقت دلّی کیلئے نہیں آیا ہی نہیں۔ اسی طرح لوک بھون سے معاملات ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔عمر عبداللہ حکومت گزشتہ ایک برس میں بھی بزنس رولز کی فائل لوک بھون سے منظور نہ کرواسکی اور عمر عبداللہ کے بقول آج بھی کئی محکمے ایل جی نے اضافی اپنے پاس رکھے ہیں جبکہ تنظیم نو ایکٹ کے تحت اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔امن و قانون پر کوئی دسترس نہ ہونے کی وجہ سے عمر سرکار عملی طور بے دست و پا رہی جبکہ ایل جی آفس نے بھی ا س بات کو یقینی بنایا کہ یہ سرکار زیادہ پیر نہ پسار سکے۔
چناوی شکست
اگر چناوی شکست سرکاروں کی مقبولیت کا غیر مقبولیت کا کوئی پیمانہ ہے تو عمر عبداللہ کی مقبولیت میں کافی گراوٹ آچکی ہے کیونکہ حکومت میں ہونے کے باوجود وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اپنی چھوڑی ہوئی بڈگام کی نشست نہ بچا سکے۔گوکہ پوری کابینہ سے لیکر پوری این سی قیادت نے بڈگام میں الیکشن مہم چلائی لیکن اس کے باوجود این سی امیدوار کو ہار کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ 2024میں عمر عبداللہ اسی حلقہ سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے لیکن ایک سال میں ہوا ایسی بدلی کہ بڈگام میں انٹر نیشنل کرکٹ سٹیڈیم سے لیکر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کے وعدے تک کام نہ آسکےاور پھر بھی لوگوںنے این سی امیدوار کے خلاف ووٹ دیا ۔
دھچکوں پہ دھچکے
داخلی اور خارجی سطح پر بحرانوں کی لپیٹ میں رہنے والی عمر عبداللہ حکومت پر قدرت بھی مہر بان نہیں رہی ۔2025کو اگر آفات کا سال قرار دیا جائے تو بیجا نہ ہوگا ۔ رام بن سے لیکر کشتواڑ اور پیر پنچال سے لیکر کٹرہ تک صوبہ جموں میں ناگہانی آفات نے قہر ڈھایا ۔ڈیڑھ سو سے زائد انسانی جانیں تلف ہوئیں جبکہ اربوں روپے کی املاک کو نقصان پہنچا۔اسی طرح کشمیر صوبہ میں بھی سیلاب نے تباہی مچادی بلکہ قومی شاہراہ کی مسلسل بندش نے میوہ صنعت کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔ا س پر طرہ یہ ہے کہ تخمینہ جاتی دوروں کے باوجود عمر عبداللہ حکومت کو آج تک مرکز کی جانب سے کوئی بڑا مالی پیکیج نہیں ملا تاکہ متاثرین کی کسی حد تک داد رسی ہوتی۔رہی سہی کسر پہلگام حملہ نے نکالی اور معیشت کا آخری پہیہ بھی اس حملہ سے جام ہوگیا۔پہلگام حملہ کے نتیجہ میں سیاحتی شعبہ ٹھپ ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے کشمیر میں نہ صرف ویرانی چھا گئی بلکہ آمدن کے ذرائع محدود ہوگئے ۔
حکمرانی
2025حکمرانی کے اعتبار سے بھی عمر عبداللہ کیلئے کوئی اچھا سال نہیں رہا ۔اس سال میں عمر عبداللہ حکومت کوئی بڑا راحت لوگوں کو فراہم نہ کرسکی ۔بجٹ تقریر میں پسماندہ کنبوں کیلئے دو سو یونٹ مفت بجلی کا وعدہ کیا گیا لیکن وہ وفا کبھی وفا نہ ہوا ۔ملازمین کے مسائل جوں کے توں رہے اور عارضی ملازمین کی مستقلی کا مسئلہ بھی حل نہ ہوسکا۔ریزرویشن پالیسی کا مسئلہ بھی لٹکتا رہا اور اب کہا جارہا ہے کہ فائل لوک بھون میںہے لیکن زمینی صورتحال یہ ہے کہ اوپن میرٹ امیدواروں کو خسارہ اٹھاناپڑ رہا ہے۔سرکاری بھرتیوںکے معاملہ پر بھی وہ پھرتی نظر نہیں آئی جس کا وعدہ کیاگیا تھا۔
عوامی تاثر اور پارٹی ردعمل
گوکہ مجموعی طور پر عوامی تاثر یہ ہے کہ عمر عبداللہ حکومت کیلئے2025کانٹوں کا سیج ثابت ہوا اور حکومت نے نہ صرف اپنے ہاتھ بندھے ہوئے پائے بلکہ زمینی سطح پر عوام کیلئے بھلائی کا کوئی قابل ذکر کام نہ کرسکی تاہم نیشنل کانفرنس کا ماننا ہے کہ محدود وسائل اور بے شمار چیلنجوں کے باوجود سرکار اپنے منشور پر نہ صرف قائم رہی بلکہ عوام کو راحت پہنچانےکی سعی بھی کی گئی۔پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے کہاکہ ایک سال کے قلیل عرصے میں جموں و کشمیر کی منتخب حکومت نے عوام سے کئے گئے کئی اہم وعدوں پر عملی پیش رفت کی ہے۔عمران نبی ڈار کے مطابق تعلیمی سیشن کو دوبارہ اکتوبر،نومبر کے روایتی شیڈول پر لانا طلبہ، اساتذہ اور والدین کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ انتودیا انا یوجنا‘ اور ’اقتصادی طور پر کمزور طبقات ‘ کیلئے مفت راشن کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ خالی سرکاری اسامیوں کو پبلک سروس کمیشن اور سروس سلیکشن بورڈ کو منتقل کیا گیا اور مسابقتی امتحانات کے امیدواروں کو عمر میں رعایت دی گئی۔نیشنل کانفرنس کے ترجمان نے کہا کہ خونی رشتوں کے درمیان جائیداد کی منتقلی پر سٹامپ ڈیوٹی ختم کرنا، سمارٹ بس سروس کو مزید اضلاع تک توسیع دینا اور ٹرشری کیئر و ضلعی ہسپتالوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا بھی اہم اقدامات میں شامل ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ بعض فیصلے مالی وسائل، مرکزی منظوریوں اور انتظامی مراحل سے جڑے ہیں اور ان پر مناسب وقت پر ٹھوس پیش رفت سے عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔