عہد حاضر کا خدا ا علیٰ معیارِ زندگی ہے جو سرمایہ سے حاصل ہوتا ہے، امت اسی میں مبتلا ہے یہ بھول گئی ہے کہ انقلاب امامت کے لیے بھوکا رہنا پڑتا ہے، اپنا معیار زندگی کم کرنا پڑتا ہے اور مسلسل کم کرنے پر راضی رہنا ہوتا ہے۔ بھوکا رہنا،خالی پیٹ ہونا کوئی عیب نہیں ،یہ اللہ کے مقربین کی صفت ہے۔ کم کھانے کم سونے، کم بولنے دنیا سے کم سے کم تمتع کرنے کے باعث اہل اللہ پر اسرار کھلنے اور ان کے درجات بلند ہوتے ہیں ، کھاتے رہنے سے بھوک نہیں مٹتی بھوک کم کھانے اور کھانا ترک کرنے سے مٹتی ہے۔ مستقل کھاتے رہنے والا ہمیشہ بھوکا ہی رہتا ہے، جو بھوک کو قبول کرےاس کی بھوک مٹ جاتی ہے ۔نفس قانع ہو جاتا ہے اس لیے صحابہ و صلحائے امت کثرت سے روزے رکھتے تھے۔
انبیاء کی تہذیبوں میں روزے رکھنا عام بات ہے ۔لوگ لذات دنیا سے کنارہ کش رہتے ہیں، تب ہی ان پر حکمت کے چشمے القاء ہوتے ہیں۔ لذت و چٹخارے میں مبتلا قوم کے معدے ہمیشہ کچھ نہ کچھ طلب کرتے رہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کی قوم اس کی مثال ہے جسے حالت جہاد میں بھی من و سلویٰ پسند نہ تھا اسے قسم قسم کے کھانے درکار تھے۔ جب جمعہ کے خطبے میں ہم یہ سنتے ہیں کہ خیر القرون قرنی (١) تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ دور جب آخرت ہر رویے پر غالب تھی، جب دنیا سب سے حقیر شے تھی، جب اللہ کی رضا اور معرفت ہی حاصل زندگی تھی، دنیا سے تمتع کم سے کم تھا۔ کوئی ترقی ، دنیا طلبی، لذات و آسائش کی تلاش میں سرگرداں نہیں تھا۔ فقر کی خود اختیاری زندگی پر سب کو فخر تھا، وہ کفار کی طرح دنیا سے تمتع کو درست نہیں سمجھتے تھے اور عیش و عشرت کی زندگی کے طالب اور حریص نہ تھے۔ وہ صرف اور صرف حریص آخرت تھے اور اس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی تگ و دو میں مصروف رہتے تھے۔ اگر خیر القرون ہی اصل معیار ہے تو ہمارا موجودہ طرز زندگی اس کی نفی ہے۔ جدیدیت (ماڈرن ازم) اور خیرالقرون کی جستجو ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے دنیا اور دین برابر نہیں ہوسکتے۔
جو آخرت کو ترجیح دے گا، وہ دنیا کا نقصان کرے گا، جو دنیا کو ترجیح دے گا وہ لازماَ آخرت کا نقصان کرے گا، یہ ارشاد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
صحابہ کرام کی محبت کا مرکز و محور رسالت مآبﷺ کی ذات گرامی تھی، ان کا جینا اور مرنا، کھانا پینا صرف اور صرف اسلام کے لیے تھا۔ اپنی ذات کو وہ اللہ اور رسول اللہﷺ کے لیے فنا کر چکے تھے۔ ان کا حال ام المومنین حضرت جویریہ کے الفاظ میں یہ تھا: ”اخترت اللّٰہ و رسولہ ‘‘میں نے اللہ اور اس کے رسولﷺ ہی کو اختیار کر لیا ہے۔(زرقانی ج ٢،ص٢٥٥)
یہ الفاظ آپ نے اپنے والد اور قبیلۂ بنی مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار سے اس وقت کہے، جب وہ آپ کو رہا کرانے کے لیے بہت سا مال و دولت بطور فدیہ لے کر آئے اور رسالت مآبﷺ سے حضرت جویریہ کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ آپﷺ نے فرمایا جویریہ موجود ہیں، جانا چاہیں تو لے جاؤ۔ باپ نے کہا کہ رسالت مآب محمدﷺ نے تمہیں میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دی ہے۔ ساتھ چلو مگر جواب انکار میں ملا۔ باپ نے اپنی عزت کا واسطہ دیا لیکن حضرت جویریہ نے خود کو دین اسلام کی محبت میں گرفتار کر لیا تھا۔ اس گرفتاری سے رہائی پر تیار نہ ہوئیں اور آپ کے ایمان و استقامت کے باعث نہ صرف آپ کے والد بھائی بلکہ پورا قبیلہ مسلمان ہو گیا۔ حضرت جویریہ کی سوکن ام المومنین حضرت عائشہ کا اعتراف محبت دیکھئے فرمایا : ’’میرے علم میں کوئی عورت ایسی نہیں ہے جو جویریہ سے زیادہ اپنی قوم کے لیے باعث خیرو برکت ہو‘‘۔سوکن کا یہ اعتراف ایمان اور اسلام کی خیرو برکت کا نتیجہ ہے اور قرن اول کی روحانیت کا ثمر ہے۔ اسی روحانیت کا اثر یہ تھا کہ ام المومنین حضرت حبیبہ کے والد حضرت ابوسفیان صلح حدیبیہ کے بعد اہل مکہ کے نمائندے بن کر صلح سے متعلق بعض معاملات کے بارے میں گفتگو کے لیے مدینہ طیبہ حاضر ہوئے اور اپنی بیٹی ام حبیبہ کے گھر کاشانۂ رسالت میں ان سے ملنے گئے۔ جب گھر میں داخل ہوئے تو آپ نے رسول اللہﷺ کا بسترجو بچھا ہوا تھا لپیٹ دیا۔ حضرت ابو سفیان نے پوچھا کہ یہ تم نے کیا کیا، آیا یہ بستر میرے لائق نہیں ہے یا میں بستر کے لائق نہیں ہوں تو آپ نے فرمایا: ابا جان آپ مشرک ہیں اور یہ رسول اللہ کا بستر ہے، اس لیے آپ اس بستر پر بیٹھنے کے لائق نہیں ہیں۔(البدایہ والنھایہ ، ج٤، ص ١٤٣)
جامع ترمذی باب ماجاء فی عد المتوفی عنھاز وجھا میں حضرت زینب بنت ام مسلمہ سے روایت ہے کہ حضرت زینب ،حضرت ام حبیبہ کے والد حضرت ابو سفیان کی وفات پر ان کی خدمت میں حاضر ہوئیں(آپ کی وفات کو تین دن گزر چکے تھے) حضرت ام حبیبہ نے ایک خوشبو جو زعفران وغیرہ سے بنائی جاتی ہے، جس میں سرخ و پیلا رنگ ہوتا ہے منگائی اور ایک بچی کے لگائی، پھر اپنے رخساروں پر بھی لگائی اور فرمایا مجھے خوشبو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن میں نے رسالت مآبﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: کسی صاحب ایمان عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی بھی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ منائے۔البتہ شوہر پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی۔
میں نے رسول اللہﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرنے کے لیے اپنے رخساروں پر خوشبو لگا لی ہے۔ کیا عصر حاضر میں یہ رویہ کسی دینی گھرانے میں اختیار کرنا ممکن ہے؟کتنی بدعات رسوم و رواج کے نام پر اختیار کر لی گئیں ہیں۔ ظہر، مغرب،اور عشاء ، اور فجر کی بارہ سنت موکدہ نمازوں کے بارے میں رسالت مآبﷺ کی تاکید سننے کے بعد حضرت ام حبیبہ کا ارشاد تھا: ”جب میں نے آپ کا یہ ارشاد سنا ہے کبھی ان رکعتوں کا ناغہ نہیں کیا۔‘‘(مسند احمد)
ام المومنین حضرت صفیہ کے باپ حیی ابن اخطب قبیلہ بنی نضیر کے سردار تھے۔ ان کا سلسلہ نسب حضرت موسیٰ کے بھائی حضرت ہارون تک پہنچتا تھا۔ حضرت صفیہ کی والدہ قبیلہ بنی قریظہ کے سردار کی بیٹی تھیں( زرقانی ، ج٣، ص٢٥٦امیر اعلام النبلاء ج٢،ص٢٣١)غزوۂ خیبر کے بعد حضرت صفیہ حضرت وحیہ کلبی کو رسا لت مآبﷺ نے عطا کیں بعد میں بعض اصحاب کے مشورے پر انہیں آزاد کر دیا کہ وہ اپنے وطن چلی جائیں یا مسلمان ہو کر آپ سے نکاح کر لیں۔ حضرت صفیہ نے فرمایا: ’’اختیار اللّٰہ و رسولہ لقد کنت اتمنی ذٰلک فی الشرک ‘‘ ”میں تو اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں تو الحمد اللہ، اللہ نے ایمان کی دولت سے نواز دیا میری تو اسلام لانے سے پہلے بھی یہی خواہش تھی‘‘(زرقانی ،ج٣، ص ٢٥٨ )
اللہ کے لیے اللہ کے رسول کو اختیار کرنا یہی مطلوب ایمان ہے۔ عرب کے دو بڑے قبیلوں سے وابستہ ان خاتون کا نکاح خیبر سے واپسی پر راستے میں منعقد کیا گیا۔ دوسرے دن ولیمہ ہوا، صحابہ کرام نے اپنے اپنے سامان میں سے کھجور پنیر گھی وغیرہ لے آئے ایک دستر خوان پر رکھ کر کھا لیا گیا، یہی ولیمہ ہو گیا (سیر اعلام النبلاء، ج٢،ص٢٣٢، صحیح بخاری جلد٢،ص ٦٠٦،باب غزونہ خیبر)
کیا جمعہ کے خطبے میں خیر القرن قرونی (١) کی حدیث سننے والے دنیا میں آباد ایک ارب مسلمانوں میں سے کوئی ایک بھی عصر حاضر میں ولیمے کے لیے اس طرح کی دعوت کا تصور بھی کرسکتا ہے؟ اگر کسی سے کہہ بھی دیا جائے تو وہ ایسی دعوت کو اپنے پیغمبر کی اتباع میں بھی قبول نہیں کرے گا کیونکہ یہ سادگی عہد حاضر کے غالب پر تعیش تعقل سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ ام المومنین حضرت صفیہ کے بارے میں ان کی باندی نے حضرت عمرؓ سے شکایت کی کہ وہ یہود کی طرح اب تک یوم السبت کی تعظیم کرتی اور یہود کے ساتھ صلۂ رحمی کرتی ہیں۔ حضرت عمر ؓنے حقیقت معلوم کرنا چاہی تو فرمایا کہ جب سے اللہ نے یوم الجمعہ عطا فرمایا ہے میں یوم السبت کی تعظیم نہیں کرتی، یہودیوں سے میری قرابت داری ہے ان کے ساتھ صلۂ رحمی کرتی ہوں پھر انہوں نے اپنی باندی سے پوچھا کہ کہ تم نے یہ شکایت کیوں کی ۔باندی نے کہا کہ مجھے شیطان نے بہکا دیا تھا۔ آپ نے باندی کو سزا نہیں دی بلکہ فرمایا اچھا جاؤ تم آزاد ہو۔(اصابہ، ج٧،ص٧٤١)عفو و درگزر، کرم، محبت، انتقام سے گریز، عطا، سخاوت کا یہ رویہ خیر القرن میں عام تھا۔ اب مفقود ہے۔ ام المو منین حضرت میمونہؓ کثرت سے نماز پڑھتی تھیں ، غلام آزاد کرنے کا بھی بہت شوق تھا ،ان کے خوف خدا اور صلۂ رحمی کا اعتراف میں آپ کی سوکن حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں :”افھما کانت من اتفانا اللّٰہ واوصلنا للرحیم‘‘۔”میمونہ ہم لوگوں میں خوف خدا اور صلہ رحمی میں ممتاز مقام رکھتی تھیں۔‘‘( اصابہ وزرقانی بحوالہ طبقات ابن سعد)
اتباع رسالت کا عالم یہ تھا کہ آپ حج یا عمرہ کے لیے مکہ آئیں تھیں، طبیعت خراب ہوئی تو اپنے بھانجے سے کہا کہ مجھے مکہ سے لے چلوں کیونکہ مکہ میں میرا انتقال نہیں ہو گا۔ رسول اللہؐ نے مجھے پہلے ہی اطلاع دے دی ہے کہ تم کو مکہ میں موت نہیں آئے گی اور رسالت مآبﷺ کی اطلاع کے مطابق آپ کا انتقال مدینہ سے قریب مقام سرف میں ٥١ ہجری میں ہوا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں آپ ؓکا نکاح اور ولیمہ سات ہجری میں ہوا تھا۔
عہد رسالت میں جہیز کا کوئی تصور نہ تھا، لہٰذا احادیث کی کسی کتاب میں جہیز کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ حضرت علیؓ نے مہر میں اپنی درع یا اس کی قیمت دی تھی ،ان کے پاس مہر ادا کرنے کے لیے اس کے سوا کچھ نہ تھا۔ رسالت مآبﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کو ایک چادر ، ایک مشکیزہ چمڑے کا ، ایک گدا جس میں اذخر نام کی گھاس بھری ہوئی تھی اور چند چیزیں دیں۔ کیا عہد حاضر میں کسی دین دار گھرانے میں اس سادگی سے نکاح ممکن ہے؟ ایسے نکاح کو نہایت ذلت و حقارت سے دیکھا جائے گا اور کنجوس ، لیئم کے طعنے دیئے جائیں گے ۔اس رویے کے ساتھ مسلمان پوچھتے ہیں کہ اللہ کی نصرت کب آئے گی؟ اسلامی انقلاب کب آئے گا اور استخلاف فی الارض کب عطا ہو گا؟ حضرت حسن کے بارے میں رسالت مآبﷺ نے فرمایا تھا: ” ابنی ھذا سیدہ ولعل اللّٰہ ان یصلح بہ بین الفنتین عظیمتین من المسلمین‘‘۔ ”میرا یہ بیٹا سید(سردار) ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اللہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا۔” ( صحیح بخاری مناقب الحسن والحسین والترمذی،ج٢،ص٢١٨،فی المناقب)
حضرت حسن ؓنے اس حدیث کے مطابق عمل کرتے ہوئے اپنی خلافت کے چھ سات ماہ بعد حضرت معاویہ سے صلح کر لی اور آپ کے حق میں دست بردار ہو گئے۔ بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو جواب دیا کہ اگر خلافت حضرت معاویہ کا حق تھی تو ان کو مل گئی اور اگر میرا حق تھی تو میں اپنے حق سے دست بردار ہو گیا۔ آپؓ کے اس اقدام کے نتیجے میں امت ایک بار پھر متحد ہو گئی، اس سال کو امت کی تاریخ میں ”عام الجمع‘‘ کا سال کہا جاتا ہے۔ جب امت ایک بار پھر مجتمع ہو گئی تاریخ میں کوئی ایسی مثال دکھائی جاسکتی ہے کہ اللہ کے لیے کوئی فرد سلطنت حکومت سے دست بردار ہو جائے۔ امت کو جوڑنے کے لیے ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرے۔ اس وقت تو امت کا ہر گروہ خلافت ، حکومت ، اقتدار کی تگ و دو میں شب و روز مصروف ہے۔ سیاسی اسلام ، اسلام کا نفاذ بذریعہ حکومت و قوت اس عہد کا مقبول ترین نعرہ ہے۔ مگر امت میں دور دور تک کوئی حسنی نہیں جو کسی دوسرے اسلامی گروہ، اسلامی جماعت ، اسلامی قیادت کے حق میں دستبردار ہو کر امت کو اکٹھا کر دے…یہ پارہ پارہ امت کیا کبھی مجتمع بھی ہوسکے گی؟ اگر نہیں تو اسے استخلاف فی الارض کیسے مل سکے گا؟ حضرت حسن نہایت امیر ترین آدمی تھے لیکن مال راہ خدا میں خرچ کرتے تھے۔ بعض اوقات ایسابھی ہوا کہ اپنے موزے بھی اللہ کے راستے میں خرچ کر دیئے اور صرف جوتے روک لیے ۔کیا عہد حاضر میں کوئی امیر دین دار اس طرز زندگی کو اختیار کرنے کا تصور بھی کرسکتا ہے، جس امت پر دنیا کا غلبہ ہو اور اس قدر کہ قرنِ اول کے طرزِ زندگی کا عصر میں تصور کرنا بھی محال ہو گیا ہو تو اس امت کو دنیا پر غلبہ کیسے عطاہوسکتا ہے ،جو دنیا میں گرفتار ہے اور دنیا ہی جس کا ہدف اور مقصود ہے اللہ نے اس امت کو ا ہل دنیا کے سپرد کر دیا ہے۔
(جاری)