ضلع رام بن کے شمال میں تحصیل کھڑی کی ایک نیابت مہو نام سے ہے جو سب ضلع بانہال کا نہایت ہی خوبصورت علاقہ ہے۔ مہو قدرتی حسن ،فلک بوس پہاڑوں،وسیع وعریض سبزہ زاروں،جھرنوں ،گلیشروں،ندی نالوں،آبشاروں ، گھنے جنگلوں ،چرا گاہوں ،جنگلی جانوروں، انواع اقسام کے جنگلی پرندوں اور قیمتی جڑی بوٹیوں سے مالا مال ہے۔ مہو کے عین مشرق میں بانہال تحصیل کی ٹھٹھاڑ نیابت کی وادی سنگلاب اور اسی وادی کا مشہور و معروف سیاحتی مقام زبن ہل سٹیشن واقع ہے۔جہاں جموں و کشمیر کا پہلا شیپ فارم موجود ہے۔ مہو کے جنوب مشرق میں مہو نیابت کا ہی ایک نہایت ہی خوبصورت گاؤں منگت واقع ہے۔ جنوب میں کھڑی تحصیل کے بقیہ گائوں/ دیہات جبکہ عین مغرب میں ضلع ریاسی کا گلاب گڑھ مہور علاقہ واقع ہے۔ مہو کے عین شمال میں ضلع کولگام کی تحصیل دیوسر کا کنڈ علاقہ جبکہ شمال مغرب میں بھی کولگام ضلع کا ہی داندواڑ(گلزار آ باد) علاقہ تقریباً 15کلومیٹر کی مسا فت پر واقع ہے۔
جموں و کشمیر کے معروف کشمیری و اردو شاعروادیب ،محقق و مورخ شبیر حسین شبیر نے اپنی ایک اردو نظم بعنوان " مہو " میں مہو کو ایک جنت نما کہا ہے۔
ہے جنت میں یہ ایک جنت نما
جگہ پر فضا ہے جگہ پر فضا
مہو کی خوبصورتی اور مہمان نوازی کو جن سکالروں، دانشوروں اور ادیبوں نے اپنی تصانیف میں قلم بند کیا ہے، ان میں منشور بانہالی، ظاہر بانہالی ،فانی ا یاز گولوی اور معروف شاعر ،ادیب دانشور اور مورخ شبیر حسین شبیر وغیرہ سر فہرست ہیں۔ انہوں نے الگ الگ انداز میں اپنی تصانیف میں مہو کی خوبصورتی اور مہمان نوازی کو بیان کیاہے۔شبیر حسین شبیر اپنی نظم " مہو " میں یہاں کی سو فیصد کشمیری آبادی اور یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور اپنی مادری زبان کشمیری اور اس زبان کے ادب سے یہاں کے لوگوں کی والہانہ عقیدت اور لگاؤ کو یوں بیان کرتے ہیں :
کروں گا مہو کی میں کہانی بیاں
یہ ہم قوم میرے اور ہم زباں
بہت ہی یہ پیارے ہیں مہماں نواز
علم و ادب کے لئے جاں گداز
منشور بانہالی نے اپنی تصنیف (بانہال گیٹ وے آ ف کشمیر )میں مہو منگت کو خیا بان نادیدہ( Unseen Paradise)کے نام سے تعبیر کیاہے۔انہوں نے مہو کے خوبصورت سیاحتی مقامات کا ذکر تصاویر کے ساتھ اپنی تصنیف میں کیاہے۔ ظاہر بانہالی نے کم و بیش ایک کتابچہ ہی وادی مہو کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر لکھا ہے جسکا نام انہوں نے "چراگاہوں کی سیر" رکھا ہے۔ شبیر حسین شبیر نے وادی چناب کی تاریخ " وادی چناب …تہذیب وثقافت" میں اور اپنے سفر نامہ "بادلوں کامسکن " میں وادی مہو کی خوبصورتی کو نظم ونثر میں قلم بند کیاہے۔اسکے علاوہ شبیر حسین شبیر نے " گڈ مارننگ جے اینڈ کے" پروگرام میں بھی میں معہ تصاویر مہو کی خو بصورتی کو بہترین انداز میں پیش کیا۔
گول کے ایک نامور شاعر ،ادیب اور دانشور فا نی ایاز گولی نے بھی مہو کی خوبصورتی اور مہمان نوازی کو اپنی تصنیف ( گول گلاب گڑھ ودیگر قابل دید مقامات ) میں قلم بند کیا ہے۔جموںوکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزادنے 2006ء میں اپنے مہو منگت کے دورے کے دوران یہاں کے دلفریب حسن وجمال سے متاثر ہو کر ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوے کہا :
" میں نے پورے براعظم ایشیاء میں مہو منگت جیسا خوبصورت علاقہ نہیں دیکھا "
جن علماء کرام نے مہو تشریف لایا،ہرایک نے یہاں کی خوبصورتی ، مہمان نوازی وسادگی کو بیاں کیا ہے۔حالانکہ دارالعلوم بلالیہ سرینگر کے مہتمم مفتی عبدالرشید نے بھی یہاں کی خوبصورتی،مہمان نوازی وسادگی کی داد دی ہے۔جن صحافیوں اور میڈیا شخصیات نے مہو کی خوبصورتی کو اجاگر کیا، ان میں تسکین بانہالی،عارف وحید،میر مدثر،جاوید سوہل ، سجاد چوپان اور شبیر وانی وغیرہ سر فہرست ہیں۔
علا قہ مہو منگت چونکہ ایک وسیع وعریض خوبصورت اور کثیر آ بادی والا علاقہ ہے اور دو بڑے ریوینیو گاؤں بشمول کئی چھوٹے چھوٹے گاؤں پر مشتمل ہے۔ مہو سے منگت تقریباً 6 کلو میٹر کی پیدل مسافت پر بانہال کی طرف واقع ہے جبکہ وادی مہو کولگام کشمیر کی طرف واقع ہے مہو اورمنگت کے عین درمیان نہایت ہی شاندار سر سبز میدان نما چھوٹی سی خوبصورت پہاڑی مہوبال کے نام سے مشہور ہے جو کہ دو نوں ریوینیو گاؤں کی درمیانہ حد بھی مانی جاتی ہے۔ ریوینیو گاؤں مہو میں بجناڑی ، آنسرن اور ولو وغیرہ جبکہ ریونیو گاؤں منگت میں دنگوہ، کڑجی اور آ رم ڈکہ شامل ہے۔اسلے اتنے بڑے علاقہ کے سیاحتی مقامات کو واضع طور پرمنظر عام پر لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
(A) وادی مہو:-وادی مہو کے لے قومی شاہراہ ناچلانہ سے تقریباً 22 کل میٹر روڈ 2014 ء میں مکمل ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے راحت کی سانس لی اور سیاحوں کا آ نا جانی بھی شروع ہوا۔اس وادی کے خوبصورت سیاحتی مقامات یوں ہیں:-
(1) اچھن : – یہ ایک حسین و خوبصورت اونچی پہاڑی مہو کے شمال مغرب میں نسو گلی ( ہون ہنگ)سے لیکر جنوب مغرب میں واقع واومال اور تواریخی انگریز تھم تک پھیلی ہوئی ہے۔ ( واضع رہے یہ Pillar تھم انگریز دور حکومت میں سیمنٹ چناء سے تعمیر ہوا ہے اور تا حال موجود ہے)۔اسی پہاڑی سے بہت سے چشمے جاری ہیں جن میں اچھن ناگ مشہور ہے۔
(2) تراجہ بلن : – یہ اچھن کے وسطی دامن میں ایک وسیع سر سبز میدان ہے جہاں ہر سال ضلع رام بن کے علاوہ کولگام کشمیر سے بھی لڑکے کرکٹ ٹور نامنٹ کھیلنے آ تے ہیں۔
(3)موری : -یہ تراجہ بلن کے مغربی دامن میں گھنے جنگلوں کے بیچ ایک خوبصورت میدانی چراگاہ ہے۔جسکے گردنواع میں موسم گرما میں خانہ بدوش لوگ رہائش پذیر ہوتے ہیں۔
(4) دبہ دلؤ :- یہ اچھن کے جنوبی دامن میں ایک بڑا وسیع میدانی علاقہ ہے۔یہاں پر بھی بہت سارے خانہ بدوش لوگ رہائش پذیر ہوتے ہیں۔
(5) سرنجن :- یہ نسو گلی کے دامن میں مہو سے تقریباً 7 کلو میٹر کی پیدل مسافت پر واقع ہے۔یہاں پربھی سرسبز وشا داب میدان و چراگاہیں موجودہیں اور بہت سارے خانہ بدوش رہا یش پذیر ہوتے ہیں۔
(6) رتن:- یہاں دو بہت بڑے سرسبزمیدان اپر رتن اور لور رتن کے نام سے مشہور ہیں۔ دونوں سر سبز و شا داب میدان مہو کے شمال مغرب میں کولگام کے ساتھ لگنے والی چھوٹی سی پہاڑی دا من میں واقع ہیں اور چشموں سے لبریز ہیں۔یہاں پر بھی موسم گرما میں خانہ بدوش مال مویشی کے ساتھ چند مہینوں کے لئے بود و باش اختیار کرتے ہیں۔
(7) تڑن پونء :- مہو کے ولو گاؤں سے تقریباً 2 کلو میٹر کی دوری پر شمال کی طرف رتن کے ساتھ لگنے والا تڑن پونء کا میدانی علاقہ واقع ہے۔
(8) ناون: -ناون مہو کے شمال میں سندر ٹاپ کے مغرب میں ایک کشتی نما خو بصورت وسیع سر سبز اور چشموں سے بھرا میدان ہے جسکی لمبائی تقریباً 1کلو میٹر اور چوڑائی 1/2 کلو میٹر ہے۔اسکا نام ناون اسلئے پڑا ہے کہ یہ کشتی نما ہے اور کشمیری میں کشتی کو ناؤ کہتے ہیں۔ اسلئے ناؤ سے ناون بن گیا۔
(9) سندر ٹاپ ( بومبرن باغ) :- یہ مہو کے شمال میں سرسبز وشاداب جنگلوں سے گھری ہوئی ایک نہایت ہی خو بصورت اونچی پہاڑی ہے۔اسی پہاڑی کے پیچھے کنڈ کا علا قہ ہے۔اسی چوٹی کے اوپر سر سبز قدرتی رنگ برنگے پھولوں کا میدان ہے جو تواریخی بومبرن باغ کے نام سے مشہور ہے۔جسکے تواریخی پس منظر کو بھی منشور بانہالی نے اپنی تصنیف ( بانہا ل…گیٹ وے آف کشمیر) میں قلم بند کیا ہے۔
( 10) کسپاڑن :- مہو سے تقریباً 3کلو میٹر، سندر ٹاپ اور ناون کے جنوبی دامن میں تقریباً 1 کلو میٹر مربع سر سبز میدان واقع ہے جو کسپاڑن کے نام سے جانا جاتا ہے اور دریائے ناون بھی اسی میدان سے گزرتاہے۔وادی مہو کے اکناف واطراف میں سینکڑوں کے حساب سے گول ،ریاسی ،ارناس،سنگلدان رام بن اور بانہا ل سے موسم گرما میں خانہ بدوش لوگ اپنا مال ویشی لیکر یہاں کے چرا گاہوں میں لطف اندوز ہوتے ہیں اور اس وادی گل پوش کو ایک نئی رونق اور زینت بخشتے ہیں۔
(B)منگت:- منگت گاؤں بھی خوبصورتی کے لئے اپنی مثال آپ ہے۔منگت کی سر حدیں مغرب میں مہو ،جنوب میں کھڑی، جنوب مشرق سے شمال مشرق تک بانہال سے ملتی ہیں۔ بانہال سے تقریباً 39 کلو میٹرمنگت روڈ بھی ابھی زیر تعمیر ہے۔ یہاں پر بھی بانہال کی طرف ٹنکا ٹاپ ،برز دلو اور زمنڈواپنی خوبصورتی کا اظہار کر رہے ہیں۔
مہو کے اور وادی سنگلاب (نیابت ٹھٹھاڑ) کے لوگوں کی دیرینہ مانگ ہے کہ زبن ہل سٹیشن (لازم در ) سے کسپاڑن (مہو ) تک ایک ٹنل بنایا جائے اور مہو سے داند واڑ ( گلزار آ باد)کولگام تک ایک سڑک تعمیر ہو جس سے مہو منگت کے لوگوں کو بانہال اور اننت ناگ پہنچنا آسان ہو جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ زبن اور مہو ایک ہی سیاحتی نقشے پر جلوہ افروز ہو کر مہو زیادہ سے زیادہ سیاح آ پائیں گے جس سے یہاں کی معیشت مضبوط ہو گی اور یہاں کے لوگوں کے معیارِ زندگی میں ایک انقلاب افروز تبدیلی ممکن ہو گی اور مہو بھی ترقی کے نئے زینے طے کر پائے گا۔
پیارا پیارا ہے مہو
جنت کا نظارہ ہے مہو
(مضمون نگارصدربمبرن باغ کاشر بزم ادب مہو ہیں۔رابطہ 9596948793)
���������