بانہال /بھدرواہ//وادی چناب میں عیدالا ضحٰی کی تقریبات جوش وخروش سے منائی گئی۔ رام بن،بانہال،کشتواڑ،ڈوڈہ بھدرواہ کے عید گاہوں اور مساجد میں ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید نے نماز عید ادا کی۔ ضلع رام بن میں نمازعید کا سب سے بڑا اجتماع مرکزی عیدگاہ بانہال میں ہوا جہاں ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید نے نمازعید ادا کی۔ اس کے علاوہ کھڑی، اڑپنچلہ،ہرنیہال ، ب±زلہ ، ترگام ، مہو منگت ،رامسو، پوگل پرستان ،سینابتی ،نیل ، ٹھٹھاڑ، نوگام ، کسکوٹ ، چریل ، ہرنیہال اور رام بن کے عیدگاھوں اورجامعہ مساجد میں عیدالا ضحٰی کے سلسلے میں بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے اور فلسلفہ سنت ابراہمی اور عید قربان کے علاوہ علماءاورائمہ نے دفعہ 35 اے کو ہٹانے کی مضموم کوششوں پر روشنی ڈالی اور لوگوں کو جاناکاری دی۔ اس کے علاوہ گرمیوں کیلئے ضلع رام بن کے پہاڑوں پر مال مویشی لیکر مقیم ہزاروں کی تعداد میں فزندان توحید نے قدرتی میدانوں میں بنی عید گاہوں میں ادا کی۔ پورے ضلع رام بن میں بدھ اور جمعرات کو صاحب ثروت اور مال دار مسلمانوں نے سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کے نام پر جانوروں کی قربانی پیش کی اور قربانی کے گوشت کو احباب ، رشتہ داروں اور مستحق غریبوں میں تقسیم کا شروع سلسلہ جمعرات کو بھی جاری رہا۔ نمازعید کے موقع پر بانہال کی کئی مساجد میں علماءکرام نے فلسفہ عیدالا ضحٰی عید قربان پر روشنی ڈالی اورعالم اسلام اور مسلمانوں کی کامیابی اورسر بلندی کیلئے دعائیں مانگی اور ملک وقوم کی تعمیر و ترقی اور ریاستت میں مکمل امن امان کی بھی دعائیں مانگیں گئیں۔ علماءاور آئمہ نے مسلمانوں کو اپنی صفوں میں مکمل اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں خصوصا وادی کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اورعام شہریوں کی ہلاکت کا سلسلہ جاری ہے اور اس مسئلے میں اقوام عالم کی کا سنجیدہ نوٹس لینا برصغیر میں امن قائم کرنے کیلئے ناگزیربن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 اور35A کے ہتھکنڈے اپنا کر کشمیر میں امن و امان کو خراب کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیںاور پرا من فضا کو خراب کرنے کی سیاسی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو تلقین کی کہ وہ اللہ جلہ شانہ± اور اللہ کے رسول صلہ علیہ وسلمکی تعلیمات کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں تاکہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے۔ اس موقع پر عالم اسلام اور حجاج کرام کو حج کی سعادتوں اور رحمتوں کیلئے مبارک بادی پیش کی ہے۔ عید گاہ بانہال میں فرزندان توحید کے ہزاروں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے امام مولوی نظیر وانی نے 35 آے کے دفاع میں بات کرتے ہوئے لوگوں کو اس بارے میں تفصیلی جانکاری دی اور اس کے مجموعی طور ریاست کے باشندوں پر پڑنے والے منفی اور ناقابل یقین نقصانات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 35 آے کے خاتمے کی کسی بھی سازش کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا اور لوگ اس کیلئے اپنی وابستگیوں سے ہٹ کر ہر محاظ پر متحدہ ہیں۔ انہوں نے مرکزی سرکاری اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو ریاست کے اس حساس معاملے کو چھیڑنے کے بجائے ہوش کے ناخن لینے کی اپیل کی ہے۔بانہال اور اس کے مضافات میں بھی عیدگاہوں اور جامع مساجد میں ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید نے نماز عید ادا کی جبکہ کھڑی مہو منگت ، پوگل پرستان وغیرہ کے پہاڑوں پر خوبصورت میدانوں اور حد نظر چراگاہوں میں سر بہ سجود ہوکر نماز عید ادا کی اور اللہ کے حکم اور سنت ابراہمی کی پیروی میں جانوروں کی قربانی پیش کی گئی۔ اس موقع پر بانہال اور اس دیگر علاقوں میں کسی بھی امکانی گڑبڑ یا نقص امن سے نپٹنے کیلئے پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کر رکھے تھے۔ ضلع پولیس اور ضلع انتظامیہ کے اعلی افسران بذات خود نماز عید کی تقریبات پر ضلع ، سب ضلع اور تحصیل صدر مقامات پر موجود تھے اور انہوں نے مسلمانوں کو مبارکبادی پیش کی اور نمازیوں کو مٹھائیاں پیش کی گئیں۔ رام بن میں ایس ایس پی رام بن انیتا شرما موجود تھیں اور وہاں علماءاور دیگر نمازیوں سے تبادلہ خیال کیا ۔ ضلع رام کے ہندو بھائی بھی اپنے مسلمان بھائیوں کو عید کی مبارکبادی پیش کر رہے تھے اور سوشل میڈیا پر ہزاروں کی تعداد میں مبارکبادی کے پیغامات ایک دوسرے کو بھیجے جا رہے ہیں۔ اس دوران کشتواڑ میں لوگوں بشمول جوانوں، بزرگوں اور بچوں نے مہشور عید گاہ میں نماز عید ادا کی ۔ڈوڈہ اور ملحقہ علاقوں کے لوگوں نے بھی اپنے اپنے عید گاہوں میں نماز عید ادا کی۔عید الاضحی پیغمبر ابراہیم کی عظیم قربانی کے یاد میں جوش و جذبہ کے ساتھ منائی جاتی ہے۔دن کا آغاز امن ،ترقی اور اُمت مسلمہ کی خوشحالی کےلئے خصوصی دعائیہ سے کیا گیا اور ایک مذہبی جلوس بھی نکالا گیا ۔اپنے خطاب کے دوران عید گاہ ڈوڈہ میں امام جامع مسجدنے مذہبی خطبہ دیا اور ریاست کی ترقی ،امن ،بھائی چارے کی دعا کی۔بھدرواہ میں لوگ صُبح سے ہی جامع مسجد کے احاطہ میں عید نماز کے لئے اکٹھا ہوئے ،جہاں سے وہ مذہبی نعرے لگاتے ہوئے عید گاہ کی جانب ایک جلوس کی صورت میں روانہ ہوئے۔عید نماز سے قبل ا نجمن اسلامیہ بھدرواہ کے انچارج صدر نے اپنے خطاب میں لوگوں کو عید الاضحی کی مبارک باد دی اور کہا کہ تاریخ اسلام میںیہ عید ایک عظیم دن ہے۔انہوں نے کہا کہ عید ہمیں خدا کی راہ میں ہرکوئی چیز قربان کرنے، غریبوں اور حاجت مندوں کی مدد کرنے کا پیغام دیتی ہے۔انہوں نے شورش زدہ وادی کشمیر میں معمول کے حالات بحال ہونے کی بھی دعاکی۔انہوں نے مسلم فرقہ سے متحد ہونے اور غریبوں و ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی اپیل کی۔نماز کے اختتام پر ریاست اور ملک میں امن ،بھائی چارے، خوشحالی اور روا داری کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔بچے نئے رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس نہایت ہی خوش تھے کیونکہ انہیں اپنے بزرگوں سے’ عیدی‘ مل گئی تھی اور دن بھر پارکوں میں گھوم رہے تھے۔ انتظامیہ نے بھدرواہ و ملحقہ علاقوں میں سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔اس موقعہ پر تحصیلدار بھدرواہ مسعود احمد، اے ایس پی راجندر سنگھ ،ایس ڈی پی او توصیف ا حمد اور ایس ایچ او انسپکٹر منیر خان بھی عیدگا ہ میں موجود تھے ،جہاں پر انھوں نے لوگوں کو عید مبارک پیش کی۔