رات کے وقت پھسلن اور حادثات کے خطرے کے پیشِ نظر سخت نگرانی،عوام کو احتیاط کی اپیل
سمت بھارگو
راجوری//تاریخی مغل روڈ پر گاڑیوں کی آمد و رفت مجموعی طور پر معمول کے مطابق جاری ہے، تاہم حالیہ دنوں میں شدید کہرے (فراسٹ) کی صورتحال میں اضافے کے پیشِ نظر حکام نے رات کے وقت سفر کی سختی سے حوصلہ شکنی شروع کر دی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ مسافر رات کے دوران خطرناک اور منقطع مقامات پر پھنسنے سے بچ سکیں۔مغل روڈ تقریباً 90 کلومیٹر طویل اہم شاہراہ ہے جو ضلع پونچھ کو ضلع شوپیاں سے جوڑتی ہے اور جموں۔سری نگر قومی شاہراہ کا ایک متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔ سردیوں کے موسم میں یہ سڑک نہ صرف سیاحوں بلکہ مقامی آبادی کے لئے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، تاہم بدلتے موسمی حالات کے باعث یہاں سفر میں احتیاط ناگزیر ہو جاتی ہے۔حکام کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کہر کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث سڑک پر پھسلن بڑھ گئی ہے اور رات کے وقت سفر انتہائی خطرناک ہو گیا ہے۔ سرد درجہ حرارت کی وجہ سے سڑک کے کئی حصوں پر برف جمنے کا خدشہ رہتا ہے، جس سے حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ رات کے وقت غیر ضروری ٹریفک کو روکا جائے۔ایک سرکاری عہدیدار نے بتایاکہ ’’دن کے اوقات میں ٹریفک بحفاظت چل رہی ہے، تاہم رات کے وقت سفر کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ لوگ کٹ آف ٹائمنگ کے بعد سفر نہ کریں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ متعدد گاڑیاں مقررہ اوقات کے بعد کٹ آف پوائنٹس پر پہنچ جاتی ہیں، تاہم زمینی سطح پر تعینات ٹیمیں ایسی گاڑیوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں دیتیں۔حکام نے واضح کیا کہ رات کے وقت صرف ہنگامی طبی معاملات میں ہی گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، جبکہ دیگر تمام صورتوں میں مسافروں کو روک دیا جاتا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ موسم کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے رات کے سفر سے گریز کریں اور کٹ آف ٹائمنگ کی پابندی کریں۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسلسل نگرانی اور احتیاطی اقدامات کے ذریعے مغل روڈ پر دن کے وقت ٹریفک کو ہموار رکھا گیا ہے، جبکہ عوام کے تعاون سے ہی سڑک پر محفوظ سفر کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ عوامی حلقوں نے بھی حکام کے ان اقدامات کو بروقت اور عوامی مفاد میں قرار دیا ہے۔