بلا شبہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت یعنی دفعہ 370 اور دفعہ35-Aکو منسوخی کے بعد اسے بھارت میں ضم کرنے کی کوششوں کے نتیجہ میں مرکزی سرکار اور کشمیری عوام کے درمیان وہ خلیج اور کشیدگی مزید وسیع ہوچکی ہے جو گذشتہ سات عشروں سے چلی آرہی ہے۔ مرکزی حکمرانوں کی طرف سے اس خلیج کو پاٹنے کے لئے آج تک جتنے بھی جتن کئے جاچکے ہیںیا کئے جارہے ہیں ،اْن کے وہ جتن کس حد تک کامیاب ثابت ہوئے ہیں،نہ صرف کشمیری بلکہ ملک کا ہرذی ہوش فرد اس سے بخوبی واقف ہے۔اب یونین ٹریٹری کے تحت پچھلے تیرہ مہینوں سے اس خلیج کو پاٹنے کے لئے جن نِت نئی کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے یا یوںکہا جائے کہ جن کاوشوںکو آزمانے کا سلسلہ جاری ہے،اْن کے تحت جموں و کشمیر میں مختلف پروگرام مرتب کئے جارہے ہیں۔موجودہ گورنر انتظامیہ کی طرف سے بھی ’بیک ٹو ولیج‘ کا تیسرا مرحلہ زور و شور کے ساتھ چل رہا ہے ،جس کے تحت عوام کی دہلیز تک پہنچنے میں نہ صرف چیف سیکریٹری، مشیر،انتظامی سیکریٹری ،صوبائی کمشنر سمیت تمام ضلعی ترقیاتی کمشنر شرکت کررہے ہیں بلکہ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا بھی مختلف پروگراموں میں شریک ہوکر بذاتِ خود عوامی مسائل کا جائزہ لے رہے ہیں۔
جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے درپردہ اصل مقصد ،جس سے ہر کشمیری واقف ہے،پر یہاں بحث کرنا مقصد نہیں لیکن بظاہرتو مرکزی سرکار نے جس’ جواز‘ کے تحت کشمیر کی خصوصی پوزیشن کا خاتمہ کرکے اسے یونین ٹریٹری بنایا ہے ،اْس میں جموں و کشمیر کی ترقی ،خوشحالی اور عام لوگوں کے لئے بہتری اور سہولت کے فراہمی کے نعرے اور دعوے سر فہرست ہیں جبکہ یہ جواز بھی تاحال سراب ہی ثابت ہورہا ہے۔کیونکہ جموں و کشمیر کی ترقی ،خوشحالی،امن و امان کی بحالی،عام لوگوں کے لئے بہتری اور سہولت کی فراہمی کے تمام دعوے اور نعرے بدستور جہاں کشمیری عوام کے لئے کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں وہیں مجبو ر ومحروم طبقے کے زخموں پر نمک پاشی کے باعث بھی بنتے جارہے ہیںجبکہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ وادیٔ کشمیر کے عام لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور درپیش مسائل کے حل کے لئے جس طرح کی صورت حال کا سامنا ماضی کی حکومتوں میں کرنا پڑتا تھا، حال میں بھی اْنہیں اْسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے بلکہ کئی معاملات میںآج وادی ٔ کشمیر کے عوام کو ماضی سے بھی زیادہ مشکلات ومصائب جھیلنا پڑتے ہیں۔ کرونا وائرس کی اس وبائی فضا میں بھی عام لوگوں کو ابھی تک ایسی کوئی سہولت یا بنیادی ضرورت فراہم نہیں ہوپارہی ہے جس کے اثرات اس کی زندگی پر مرتب ہوئے ہوں،اس کی زندگی میں ایسی کوئی بہتری نہیں لائی جاسکی جس سے وہ راحت محسوس کرتا ہو،موجودہ صورت حال میں بھی جہاں وہ حسب ِ دستور بندوق و بارود ،کریک ڈاون ،چیکنگ ،تشدد ،گرفتاری، ہلاکت اور خوف و ہراس میں ہی زندگی گزار رہا ہے وہیں وہ اشیائے ضرورت ،بجلی،پانی ،علاج و معالجہ ،تعلیم اور دیگر کئی معاملات کی فراہمی میں شدید مشکلات اور ان کے حصول کے لئے ناقابل برداشت مہنگائی سے دوچار ہے۔جس صورت حال میں عام لوگوں کا جینا دشوار بن گیا ہے اور غریب و محروم طبقے کے لئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا محال ہوچکا ہے ، اْس صورت حال میں ترقی ،خوشحالی یابہتری لانے کی کوئی بات بھلا دْرست اور سچ کیسے قرار دی جاسکتی ہے۔
کشمیری عوام کے ذہن و قلب میںیہ تلخ حقیقت بسی ہوئی ہے کہ اْسے گذشتہ سات عشروں کے دوران غیروں نے اتنا زیادہ نقصان نہیں پہنچایا جتنا کہ اپنوں نے لوٹا ہے۔اْسے یہ بھی یاد ہے کہ مختلف مواقع پرہمارے اپنوں نے خود غرضی اور لالچ میں کتنی بے مروتی دکھائی ہے اور غیرنے کتنا اچھا کیا ہے۔ وہ اس بات کو بھی نہیں بھول پا رہا ہے کہ وقفہ وقفہ کے بعد اْسے یہاں کے اپنے لیڈروں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے مختلف خوش کْن نعروں اور جھوٹے وعدوں سے ورغلایا اور خوش آئندہ خوابوں میں محو رکھ کر تباہ و بْرباد کردیا ہے ، اسی لئے وہ کسی بھی موقع پر ان باتوں کو زیرِ بحث لانے میں عار محسوس نہیں کرتے ہیں اور ماضی کے کئی واقعات بیان کردیتے ہیں۔وجہ بالکل عیاں ہے کہ عام لوگوں کو درپیش مسائل کے حل اور انہیں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے جو طرزِ عمل ماضی کی حکومتوں نے اختیار کررکھا تھا وہی طرزِ عمل آج بھی دکھائی دے رہا ہے۔اگرچہ ماضی کی حکومتیں اس کی وجہ وسائل کی کمی بتاکر لوگوںکو ٹرخاتی رہتی تھیں لیکن حقیقت بہر حال اس کے برعکس ہی ہوا کرتی تھی۔ جبکہ ہر ادوار میں اس کی اصل وجہ حکمرانوں میں عزم و ارادے اور تدبر کی کمی اور حکومتی ایوانوں میں جڑپکڑنے والا کورپشن تھا۔بغور دیکھا جائے تو صورت حال بالکل نہیںبدلی ،کیونکہ ماضی میں جڑپکڑنے والے کورپشن نے وقت گذرنے کے ساتھ سا تھ یہاں اپنی ایک الگ سلطنت قائم کرلی ہے اور سرکاری انتظامیہ ،عدل و انصاف سمیت معاشرتی اور قومی زندگی کے ہر شعبے پر قابض ہوکر رہ گئی ہے۔جس کی وجہ سے ریاست جموں و کشمیر خاص طور وادیٔ کشمیربْری طرح تباہ و بْرباد ہوکر اپنے قدرتی وسائل تک سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔پچھلے پچاس برسوں کے دوران جتنے مرکزی امداد یا قرضے وادی کی ترقی ،خوشحالی اور یہاں کے عوام کی بہتری کے لئے یہاں کے حکمرانوں نے حاصل کئے ،اگر واقعی اْن کا دیانت دارانہ اور منصفانہ استعمال کیا گیا ہوتا تو بے شک وادی کے عوام خوشحال ہوئے ہوتے بلکہ وادی کے عام لوگوں کے زیادہ تر مسائل کا نام و نشان تک نہ ہوتا، گویا ریاست حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہوئی ہوتی لیکن ہر ادوار میں بد عنوان افراد کی لوٹ کھسوٹ کے نتیجہ میں خزانہ عامرہ کا جو بڑا حصہ بددیانت ،بے ایمان اور بے ضمیر لوگوں کی نذر ہوتا رہا اْس سے جموں و کشمیر کی ترقی یا خوشحالی کا کوئی خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا اور یہی وجہ ہے کہ وادی میں سیاسی غیر یقینی تب سے اب تک بدستور جاری ہے۔حالانکہ ایک طویل مدت کے دوران سیاسی صورت ِحال میں جتنی تبدیلیاں رونما ہوئیںوہ بھی لوگوں کے توقعات کے برخلاف ثابت ہوئیں،جن کی بنا پر اب موجودہ سیاسی صورت حال پر لوگوں کی اعتباریت مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے۔لوگ سیاسی لیڈروں کی کسی بھی بات پر اعتماد کرنے کے لئے آمادہ نہیں۔کڑوا سچ تو یہ بھی ہے کہ وادیٔ کشمیر کے سیاسی لیڈر بھی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ انہوں نے خود اپنے طرزِ عمل سے ہی اپنی اعتباریت مجروح کردی ہے اور لوگوں کو اپنے ہر رنگ ڈھنگ سے واقف کرالیا ہے۔ظاہر ہے کہ جب لوگ ان سیاسی لیڈروں کی بانت بانت کی بولیوں سے اْکتا چکے ہیں اور اب ان کے منہ لگنا نہیں چاہتے ہیںتو نتیجتاًوادی کی سیاسی غیر یقینی صورت حال دن بہ دن طول پکڑتی جارہی ہی اور کسی بھی طرف سے کسی طرح کا کوئی سیاسی استحکام پیدا کرنے کی کوشش نہیں ہوتی۔اس معاملے میں جہاں کوئی بھی سیاسی لیڈر ہمت اور جرأت کا مظاہرہ نہیں کرپارہا ہے وہاں اس سلسلے میں لوگوں میں بھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی دیتی۔جس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اپنے یہاں کے لیڈروں کے باہمی اختلافات اور خلفشار نے عوام اور سیاسی لیڈروں کے درمیان جو فاصلے طویل کردئے ہیںاْس سے وہ آج بھی دلبرداشتہ ہیں۔کیونکہ ہر لیڈر نے ایک اپنی سیاسی ٹولی بنا رکھی ہے اور ہر ٹولی اپنی اپنی بولی بول رہی ہے،محض انفرادی سوچ و اپروچ کے تحت کام کرکے اجتماعی مفادات کو زک پہنچا تی رہی ہیںجس کے باعث آج اْن کی سیاست گری بے وزن اور بے اثر ہوکر رہ گئی ہے۔اب اگر عام لوگوں کی بات کی جائے تو اْن کی سیاسی زندگی کا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے بھی از خود کسی بھی معاملے میں ذہن و فکر اور ہم آہنگی کے ساتھ ابتدا کرنے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی ہے بلکہ ہمیشہ فکری افلاس اور ذاتی اغراض کے تحت ہی کام کرکے محدود زاویوں پر چلنے کو ہی ترجیح دی ہے۔ہمیشہ لکیر کے فقیر بن کر وہی کچھ کرتے رہے جن سے نہ اْن کی دنیا بن گئی اور نہ ہی آخرت۔جس کے نتیجہ میںاْنہیں ہر دور میںسیاسی لیڈران اپنے خصوصی مفادات کے لئے استعمال کرتے رہے۔ جس کے نتیجہ میں ماضی میں ان سیاسی لیڈروں ایک ساکھ تھی ،ٹھاٹھ باٹھ تھی اور لوگوں کی پذیرائی بھی ساتھ تھی لیکن آج یہ سبھی ہند نواز یا ہند مخالف سیاسی لیڈران اپنی تمام تر اہمیت کھو چکے ہیںاور سیاسی لحاظ سے بالکل بے وزن اور بے اثر ہو کر عوامی ساکھ سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ عام کشمیری اْن کی کسی بھی بات پر نہ ہی خوش ہوتے ہیں اور نہ ہی اْن کی کسی بات پر ناپسندگی کا اظہار کرتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ یہاں کا ہر سیاسی لیڈر جو کبھی اپنے آپ کو دہلی یا مرکز کا چہیتا کہلاتا تھا یا اپنے آپ کو مسئلہ کشمیر کا ہیرو سمجھتا تھا آج محض اپنی سیاسی بقا کی جدو جہد بھی نہیں کرسکتا ہے۔لوگ اس بات کو بھی بخوبی سمجھ رہے ہیں کہ کشمیر کے یہ قائدین جو کل تک ’’حق خود ارادیت‘‘ اور ’’آزادی ‘‘سے کم کسی بھی موضوع پر بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے ،آج کیا کیا بول رہے ہیں۔ان سبھی لیڈروں کے لئے جہاں اب مسئلہ کشمیر کا حل ایک ثانوی حیثیت اختیار کرچکا ہے وہیںوہ دفعہ 370کی بحالی کے لئے کوئی موثرآواز اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہ گئے ہیں۔یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ جس غلط طرزِ عمل سے انہوں نے اپنی سیاسی ساکھ بنائی تھی وہ طرزِ عمل آج اْن کی سیاسی ساکھ کے لئے حجاب بن چکا ہے۔ذاتی مفادات ،انا پرستی اورناعاقبت اندیشی نے انہیں بڑا ہونے کے ضم میںبہت چھوٹا اور جھوٹا بنا دیا ہے۔غرض کہ اپنے آپ سے انجان بن کر آخر کار یہ اپنے لئے بھی وبال ِجان بن گئے ہیں۔
خلاصۂ کلام یہی ہے کہ جس قوم یا معاشرے اور سرکارکے تمام ادارے اور اشخاص قانون کے مطابق اپنے فرائض اور اختیارات کا استعمال پوری ایمانداری سے کرتے ہیں ،اگر کہیں پر کوئی کوتاہی ہوجائے تو اْس کے لئے معذرت خواہ ہوکر اس کو بہتر بھی کرتے ہیں اور بعد ازاں اپنی کوتاہی کی وجہ سے اپنے عہدے سے دست بردار بھی ہوجاتے ہیں ،وہ کبھی بھی اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے اور اچھے ہوتے ہیںاور کوئی بھی مشکل کام سَر انجام دیتے ہیں۔اگر واقعی موجودہ سرکار امن و امان اور تحفظ کی فضا پیدا کرنا چاہتی ہے،لوگوں کا دْکھ درد باٹنا چاہتی ہے ،اْنہیں درپیش مسائل سے خلاصی دلا نا چاہتی ہے تو اْسے متشدانہ رویوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی اور ارباب و اقتدارو اختیار کو اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے رو گردانی کرنے کے بجائے ان کی بجا آوری کرنا ہوگی اور شہریوں کے حقوق اور تحفظ کے ساتھ ساتھ بلا امتیاز انہیںبنیادی ضروریات کی فراہمی اور سہولیات کے کام کو صاف و پاک پیمانے پر یقینی بنانا ہوگا ورنہ۔۔۔۔۔!