غلام محمد
سوپور//شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور کے مسلم پیر علاقے کے ایک معروف اور گنجان آباد محلہ میں سڑک کی ابتر حالت اور زیرِ زمین واٹر لائن کی مسلسل خرابی نے مقامی آبادی کو سخت مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق تقریباً دو سے تین سال قبل اس سڑک کی میکڈمائزیشن عمل میں لائی گئی تھی، جس سے لوگوں کو کچھ وقت کے لیے راحت ضرور ملی، تاہم منصوبہ بندی کی کمی اور بنیادی ڈھانچے کی ناقص دیکھ بھال کے باعث یہ سڑک دوبارہ خستہ حالی کا شکار ہو گئی ہے۔ سڑک کے نیچے سے گزرنے والی ایک اہم اور بڑی واٹر سپلائی لائن، جو متعدد محلوں کو پانی فراہم کرتی ہے، کئی مقامات پر لیک ہو چکی ہے یا مکمل طور پر خراب ہو گئی ہے۔ پانی کے مسلسل رساؤ نے نہ صرف پانی کو ضائع کیا ہے بلکہ سڑک کی بنیاد کو بھی کمزور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں جگہ جگہ دراڑیں، گڑھے اور دھنساؤ پیدا ہو گیا ہے۔ بارشوں کے دوران صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے جب سڑک کیچڑ میں تبدیل ہو کر پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کے لیے خطرناک بن جاتی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس مسئلے کو متعدد بار متعلقہ محکمہ کی نوٹس میں لایا گیا ہے، تاہم اب تک کوئی مؤثر یا مستقل حل سامنے نہیں آیا۔ مکینوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ اگر واٹر لائن کو مکمل طور پر درست کیے بغیر دوبارہ سڑک کی میکڈمائزیشن کی گئی تو یہ ایک بار پھر سرکاری خزانے پر بوجھ بنے گا اور عوام کو کوئی دیرپا فائدہ نہیں پہنچے گا۔ ان کے مطابق محکمہ R&B کی جانب سے کیے جانے والے اخراجات تبھی کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں جب محکمہ جل شکتی پہلے پانی کی لائن کو مکمل طور پر ٹھیک کرے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں سب سے پہلے ایک مناسب ڈرینج سسٹم قائم کرنا بے حد ضروری ہے، کیونکہ نکاسی آب کے مؤثر انتظام کے بغیر سڑک کی بہتری ممکن نہیں۔اسی طرح مین چوک سوپور سے لے کر محلہ حجامہ اور کلو مارکیٹ تک سڑکوں کی حالت بھی انتہائی خراب بتائی جا رہی ہے، جہاں جگہ جگہ گڑھے، ٹوٹی سڑک اور ناقص نکاسی آب نے آمدورفت کو مشکل بنا دیا ہے۔عوامی حلقوں نے محکمہ جل شکتی ،R&Bاور متعلقہ حکامسے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں کیونکہ یہ مسئلہ اب صرف سہولت کا نہیں بلکہ روزمرہ زندگی اور بنیادی ضروریات کار بن چکا ہے۔