رتبہ
شہر کے بیچوں بیچ ایک پُرانی گلی تھی جہاں دیواریں بھی وقت کی کہانیاں سنایا کرتی تھیں ۔ اُسی گلی میں ایک نوجوان رہتا تھا جو بولتا کم سوچتا زیادہ تھا ۔ لوگ اُس سے اکثر کمزور سمجھتے تھے کیونکہ وہ بحث نہیں کرتا تھا نہ ہر بات کا جواب دیتا تھا ۔ ایک دن کسی نے اُس سے پوچھا ’’تم خاموش کیوں رہتے ہو کیا تمہیں اپنی بات کہنا نہیں آتا‘‘۔ اُس نے ہلکے سے مسکرا کر کہا’’ میں ہر سوال کا جواب دے سکتا ہوں لیکن ہر سوال جواب کے لائق نہیں ہوتا ‘‘۔ وقت گزرتا گیا، لوگ بولتے رہے ۔ بحث کرتے رہے لیکن دھیرے دھیرے اُن کے الفاظ کمزور پڑگئے اور اس نوجوان کی خاموشی، اُس کا رویہ ، اُسکا عمل بہت کچھ خود بولنے لگا۔ جب لوگوں کو احساس ہوا کہ خاموشی صرف چُپ رہنا نہیں ہوتا بلکہ ایک قرض ہوتا ہے جو صحیح وقت پر ادا کیا جائے تو انسان کو اُن بلندیوںتک لے جاتی ہے جہاں الفاظ بھی نہیں پہنچ پاتے ۔
���
کلاس اُٹھویں جماعت
سینٹ جوزف بارہمولہ