محمد ایوب گنائی
کلاس روم میں خاموشی غیر معمولی تھی۔ عام دنوں میں جہاں طلبہ کی سرگوشیاں اور ہنسی کی مدھم آوازیں فضا میں گھلی ہوتی تھیں، آج وہاں ایک عجیب سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔ باہر سے آتی کسی چڑیا کی چہچہاہٹ بھی جیسے اندر کی خاموشی سے ٹکرا کر واپس جا رہی تھی۔ استاد صاحب نے کتاب بند کی اور نظریں طلبہ پر دوڑا دیں۔
“تو بچو، بتاؤ… زندگی کا بہترین دور کون سا ہوتا ہے؟”
یہ سوال بظاہر سادہ تھا، مگر جیسے ہی فضا میں بکھرا، سب کے چہروں پر ایک ہلکی سی جھجک ابھر آئی۔ پہلی قطار میں بیٹھا عادل آہستہ سے بولا، “سر… بچپن۔”
“اور اس کے بعد؟” استاد نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
کچھ لمحے گزرے۔ پھر پیچھے سے ایک آواز آئی، “سر، اس کے بعد تو کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔”
استاد چونک گئے۔ “کیوں؟ تمہاری عمر تو سب سے خوبصورت ہوتی ہے۔ نہ کوئی بڑی ذمہ داری، نہ کوئی فکر۔”
اس بار کئی آوازیں ایک ساتھ اٹھیں۔
“سر، ایسا نہیں ہے۔ ہم پر بہت دباؤ ہے۔ ہماری بات کوئی سنتا ہی نہیں۔”
استاد کے چہرے کی مسکراہٹ دھیرے دھیرے ماند پڑنے لگی۔ کلاس کے ایک کونے میں بیٹھی زینب خاموش تھی۔ استاد نے اس کی طرف دیکھا، “تم کچھ کہنا چاہو گی؟”
زینب نے نظریں جھکائیں، پھر آہستہ سے بولی، “سر، ہم خوش ہونا چاہتے ہیں… لیکن ہمیں سمجھ نہیں آتا کیسے۔ ہر طرف ایک دوڑ لگی ہے اور ہم بس اس دوڑ کا حصہ بن کر رہ گئے ہیں۔”
یہ جملہ جیسے پورے کمرے میں گونج گیا۔ استاد کے ذہن میں اچانک اپنا بچپن ابھر آیا۔کچی گلیاں، بے فکری، کھیل کے لمحات۔ انہیں محسوس ہوا کہ ان کے دور میں جیبیں خالی تھیں مگر دل بھرے ہوئے تھے، جبکہ آج ان بچوں کے پاس وسائل تو ہیں مگر سکون نہیں۔ کیا واقعی وقت بدل گیا تھا؟ یا حالات؟
“تم لوگ اپنے دل کی بات کیوں نہیں کرتے؟” استاد نے نرمی سے پوچھا۔
عادل نے تلخی سے ہنستے ہوئے کہا، “سر، جب ہم کچھ کہتے ہیں تو جواب ملتا ہے، ’’یہی تو زندگی کا بہترین وقت ہے، اسے ضائع مت کرو‘‘۔ ہماری پریشانی کو نادانی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔”
زینب نے بات آگے بڑھائی، “ہمیں صرف کامیاب ہونا سکھایا جاتا ہے سر، جینا نہیں۔ ہمیں چپ رہنا سکھایا جاتا ہے۔”
کلاس روم کی دیواریں جیسے ان الفاظ کو جذب کر رہی تھیں۔ استاد نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے گہری سانس لی۔ انہیں پہلی بار محسوس ہوا کہ یہ بچے کتابوں کے بوجھ سے زیادہ اپنے اندر کے جذباتی بوجھ سے لڑ رہے ہیں۔
“اگر تمہیں موقع دیا جائے… تو تم کیا چاہتے ہو؟” انہوں نے پوچھا۔
کچھ دیر خاموشی رہی، پھر ایک لڑکا بولا، “سر، بس کوئی ہمیں سن لے۔”
دوسری آواز آئی، “اور ہمیں تھوڑا وقت ملے… کھیلنے کا، ہنسنے کا۔ بغیر کسی فیصلے (Judgement) کے خوف کے۔”
زینب نے دھیرے سے کہا، “اور یہ نہ کہا جائے کہ ہم غلط محسوس کر رہے ہیں۔”
استاد کی آنکھوں میں نمی سی آگئی۔ انہیں احساس ہوا کہ یہ بچے کمزور نہیں، بلکہ دبے ہوئے ہیں، اپنی بات کہنے کی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے۔ اگلے دن، جب کلاس شروع ہوئی، تو کچھ بدلا ہوا تھا۔
“آج ہم سبق نہیں پڑھیں گے،” استاد نے کہا۔ “آج ہم بات کریں گے۔ ہر وہ بات جو تم کہنا چاہتے ہو۔”
طلبہ نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر آہستہ آہستہ ہاتھ اٹھنے لگے۔ کلاس روم میں پہلی بار حقیقی آوازیں گونجنے لگیں، شکایتیں، خواب، خوف، اور امیدیں۔ استاد نے محسوس کیا کہ آج ان کے طلبہ کتابوں سے زیادہ ایک دوسرے کے جذباتی تجربات سے سیکھ رہے ہیں۔
وقفے کے بعد استاد نے اعلان کیا، “ہر ہفتے ایک دن کھیل کے لئے ہوگا اور ایک گھنٹہ صرف بات کرنے کے لئے۔”
عادل کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ زینب کی آنکھوں میں پہلی بار چمک دکھائی دی۔ شام کو جب استاد گھر لوٹے، تو ان کے ذہن میں ایک ہی خیال گونج رہا تھا:
“بچے خراب نہیں ہیں… ہم نے انہیں سننا چھوڑ دیا ہے۔”
کھڑکی سے باہر درختوں پر کھلے ہوئے پھول ہلکی ہوا میں جھوم رہے تھے۔ استاد نے خود سے کہا، “پھولوں کو صرف دیکھنا کافی نہیں ہوتا… انہیں کھلنے کے لئے فضا بھی دینی پڑتی ہے۔”
اور شاید، یہی وہ سبق تھا جو کتاب میں نہیں لکھا تھا مگر زندگی نے سکھا دیا تھا۔
���
ٹیچر، GHSS ترال، کشمیر
موبائل نمبر؛9596359446