رئیس احمد کمار
باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد ندیم گویا مشکلات و مصائب کے ایک گہرے کنویں میں جا گرا۔ ایک رہبر اور رہنما کو کھونے کے ساتھ ساتھ اس نے گھر کے واحد کفیل کو بھی کھو دیا۔ ماں اس کی کفالت کیسے کرتی، جبکہ وہ خود کئی برسوں سے ایک مہلک بیماری میں مبتلا تھی۔ اس کے علاوہ ندیم کی تین معصوم بہنیں بھی تھیں، جن کی ذمہ داری بھی اسی ناتواں ماں کے کندھوں پر آن پڑی تھی۔
وقت کے ساتھ جب ندیم کچھ بڑا ہوا تو اس نے ایک مقامی فیکٹری میں کام کرنا شروع کر دیا۔ اس کی کوشش یہی تھی کہ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہے اور گھر کے اخراجات میں بھی کچھ مدد ہو جائے۔ دن بھر محنت مزدوری اور رات بھر پڑھائی، یہی اس کی زندگی بن گئی۔ جب پورا محلہ نیند کی آغوش میں ہوتا، ندیم چراغ کی مدھم روشنی میں کتابوں سے الجھا رہتا، گویا اپنے مقدر سے لڑ رہا ہو۔
یوں ہی مسلسل محنت کے بعد اس نے شہر کی ایک نامور یونیورسٹی سے ایم اے مکمل کیا اور پھر پی ایچ ڈی میں داخلہ لے لیا۔ اس کی کامیابیاں اس کے گھر کے اندھیروں میں امید کی کرن بن کر چمکنے لگیں۔ ماں کی آنکھوں میں خواب تھے اور بہنوں کی زبان پر ایک ہی دعا کہ کب ندیم کو سرکاری نوکری ملے اور ان کے دن بدل جائیں۔
باپ کے جانے کے بعد گھر واقعی ویران ہو چکا تھا، مگر امید کی ایک شمع اب بھی روشن تھی۔
ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے بعد نئی حکومت کے قیام کو ابھی ایک مہینہ ہی گزرا تھا کہ مختلف محکموں میں اسامیوں کا اعلان ہوا۔ ندیم نے بھی کئی محکموں میں درخواستیں جمع کرائیں۔ امتحانات ہوئے، فہرستیں جاری ہوئیں اور آخرکار قسمت نے اس کا ساتھ دیا۔ وہ محکمہ تعلیم میں بطور استاد اور محکمہ صحت میں درجہ چہارم کی اسامی کے لئے منتخب ہو گیا۔
گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ماں کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر یہ خوشی کے آنسو تھے۔ بہنیں اپنے بھائی کو استاد بنتا دیکھنے کے خواب سجانے لگیں۔
مگر اس خوشی کا رنگ اس وقت پھیکا پڑ گیا جب ندیم نے اعلان کیا کہ وہ محکمہ تعلیم کی بجائے محکمہ صحت میں درجہ چہارم کی ملازمت اختیار کرے گا۔
ماں نے حیرت سے پوچھا،
“بیٹا! اتنی محنت کے بعد تم استاد کیوں نہیں بننا چاہتے؟”
ندیم چند لمحے خاموش رہا۔ اس کی آنکھوں میں برسوں کی تھکن اور دل میں چھپی ہوئی کڑواہٹ صاف جھلک رہی تھی۔ پھر اس نے دھیمے لہجے میں جواب دیا:
“امّی… استاد بن کر نہ ترقی کی کوئی امید ہے، نہ تبادلے کی… میں نے بہت انتظار کر لیا۔ اب مجھے صرف ایک ایسی نوکری چاہیے جہاں زندگی کچھ آسان ہو سکے۔”
یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔
اور کمرے میں پھیلی خاموشی نے جیسے ایک تلخ سچ کو آواز دے دی۔
���
قاضی گنڈ کشمیر