مینڈھر//پہاڑی یوتھ ایکشن فورم کے تحصیل صدر ایڈووکیٹ محمد شوکت چوہدری ،جنر ل سکریٹری محمد اعظم فانی و دیگر ممبران سابق نائب تحصیلدار خاجی خورشید میر ،حاجی محمد صادق خان، حاجی محمد صدیق خان،سابق ایس پی محمد رزاق خان وغیرہ نے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرکار پہاڑی زبان بولنے والوں کے ساتھ سراسر نا انصافی کرر ہی ہے اور پہاڑی طبقہ سے تعلق رکھنے والے بے روزگار نوجوان در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک سیاسی جماعت انتخابات کے دوران طرح طرح کے وعدے کرتی ہے کہ پہاڑیوں کو ہر حالت میں ایس ٹی کا درجہ دلایا جائے گا اور انتخابات کے فوراً بعد تمام وعدے لیڈران بھول جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق ریاستی حکومت نے ٹیکنیکل اور پروفیشنل کالجز میںپانچ فیصد ریزر ویشن کا اعلان کیا تھا لیکن مخلوط سرکار نے اس اعلان پر بھی عمل درآمد نہیں کرایا اور گورنر نے اس سلسلے میں جو اعتراضات کرکے قانون سازیہ سے پاس کیاگیابل واپس کردیاتھا ،اس پر جواب ہی نہیں دیا۔انہوںنے کہا کہ سرکار پہاڑی طبقہ کو نظر انداز کر رہی ہے جس کا خمیازہ اسے بھگتناپڑے گا۔ان کاکہناتھا کہ ریاستی سرکار کو فوری طور پانچ فیصد ریزرویشن کو عملانے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں اور وزیر اعلیٰ مرکزی حکومت سے بات کرکے شیڈیول ٹرائب درجہ دلائیں ۔انہوںنے کہاکہ پی ڈی پی اور بی جے پی نے اپنے کم از کم مشترکہ پروگرام میں بھی ایس ٹی درجہ دینے کا اعلان کررکھاہے جس پر عمل درآمد کرنے کا وقت آگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ حکومت کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے کیونکہ انتخابات کے دوران مرحوم مفتی محمد سعید نے پہاڑیوں سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں شیڈیول ٹرائب کادرجہ دیاجائے گا۔انہوںنے کہاکہ پہاڑی طبقہ کے نوجوان پڑھ لکھ کر بیکار بیٹھے ہیں کیونکہ ان کیلئے روزگار کا کوئی بندوبست نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پہاڑی طبقہ کو اس بات کیلئے مجبور نہ کیاجائے کہ وہ اپنے اس حق کیلئے سڑکوں پر اترے ۔