محمد الیاس متوی
نیلے آسمان تلے ایک جھونپڑی تھی، جس کے اندرونی حصوں کو لکڑیوں کے ذریعے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک حصہ آدمیوں کے لئے، ایک گائیں رکھنے کے لیے اور ایک بھیڑ بکریوں کے لیے۔ جھونپڑی کی حالت اتنی خستہ تھی کہ اکثر برف کا پانی اپنی موجودگی کا گیت گاتا رہتا تھا۔
تھوڑی ہی دوری پر ایک بہت پرانا شیڈ تھا، جسے گھوڑوں کے اصطبل کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ سارا مکان بمشکل چار مرلے پر محیط تھا، جس کا کچھ حصہ ہمسایوں نے اپنی دیوار بندی میں اس طرح شامل کر لیا تھاجیسے وہ عرصۂ دراز سے انہی کی ملکیت ہو۔ ان کی اونچی اونچی چھتوں پر جمی برف پگھل کر عبدل کی اسی چھوٹی سی جھونپڑی کو اکثر نقصان پہنچاتی رہتی تھی۔
عبدل نے کئی بار ان سے شکایت کی، مگر وہ الٹا اسی پر برس پڑتے اور ہزاروں غلطیاں عبدل اور اس کے گھر والوں پر نکالتے۔ وہ کئی بار آس پاس کے لوگوں کو اکٹھا کر کے اپنی جھونپڑی کی ابتر حالت دکھاتا رہا، مگر افسوس کہ سچ کا ساتھ دینے کے بجائے سب الٹا عبدل ہی کو قصوروار ٹھہراتے رہے۔ ہمسایوں کی تو بار بار ایک ہی رٹ لگی رہتی تھی:
“تمھاری گائیں، بھیڑ بکریاں اور گھوڑوں کی وجہ سے ہمارا سارا ماحول خراب ہو گیا ہے۔ اوپر سے تمہارے درجنوں افراد پر مشتمل گھرانہ شور مچا کر ہماری راتوں کی نیندیں خراب کر دیتا ہے۔ تم یہ جھونپڑی فروخت کر کے کہیں اور کیوں نہیں چلے جاتے؟ جہاں تمہیں ہمارے چھت کا پانی بھی نہ آئے۔ ہم تو ابھی ہمسائیگی کا لحاظ کر رہے ہیں، ورنہ ماحول خراب کرنے اور شور مچانے کے الزام میں تمہیں سزا بھی ہو سکتی ہے۔”
عبدل کی جھونپڑی رہائشی کم اور کچرے کا ڈھیر زیادہ نظر آتی تھی اور اس ڈھیر کو بڑھانے میں آس پاس کے ہمسایوں کا بھی ہاتھ تھا۔
عبدل بڑی مشکل سے گھر کا گزارہ چلاتا تھا۔ اس کا کنبہ بارہ افراد پر مشتمل تھا۔ اکثر لوگ طنز کرتے کہ عبدل نے پوری ایک کرکٹ ٹیم پیدا کر دی ہے۔ کم از کم اپنی غریبی کا خیال کر کے بھی گھرانہ کم رکھتا۔ جب لوگ عبدل سے کہتے: “تمھیں عقل نہیں؟ آج کل سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج ہوتا ہے تاکہ بچوں پر روک لگائی جا سکے۔”
مگر عبدل ہمیشہ ایک ہی جواب دیتا: “رزق اللہ کے ذمے ہے، ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ بڑے بڑے لوگوں نے کوشش کی تھی کہ رزق کے وارث خود بنیں، مگر کہاں ہیں وہ لوگ اور کہاں ان کی جائیداد اور اولاد!”
عبدل اتنا خوددار تھا کہ جب پانی پینے کی حاجت ہوتی تو خود اٹھ کر پیتا مگر کبھی گھر کے کسی فرد سے نہیں کہتا تھا۔ وہ اپنے کنبے کی پرورش سخت محنت و مزدوری سے کرتا تھا۔ دن کو سڑکوں پر کام کرتا اور رات گئے تک کبھی کسی کے گھر لکڑیاں توڑتا، کبھی پانی بھرتا اور کبھی کسی کا سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتا۔
عبدل اپنا کام بڑی ایمانداری سے کرتا تھا۔ اس کی ایمانداری کے چرچے ہر جگہ تھے، اسی لئے جب بھی کوئی کام ہوتا تو سب سے پہلے عبدل کو ہی یاد کیا جاتا۔ مزدوری کے کام میں اس نے پورے علاقے میں اپنی ایک الگ پہچان بنا لی تھی۔
حالانکہ وقت اس کے سامنے ایسے دروازے بھی کھول رہا تھا جن پر دستک دینے کی ضرورت نہ تھی۔ وہ چاہتا تو بغیر پسینہ بہائے مزدوری وصول کر سکتا تھا، چاہتا تو قسمت کے کسی موڑ پر ذرا سا ہاتھ بڑھا کر سب کچھ سمیٹ لیتا۔ کئی بار مواقع خود چل کر اس کے پاس آئے
خاموش مگر پُرکشش، جیسے آزمائش کا کوئی حسین جال۔
مگر ہر بار اس کے اندر کہیں ایک آواز جاگ اٹھتی، ضمیر کی وہ صدا جو اسے رک جانے کا حکم دیتی۔ وہ جانتا تھا کہ آسان راستے اکثر اندھیری گلیوں میں جا نکلتے ہیں۔ اس لئے وہ مشقت سے نہیں گھبرایا؛ پسینہ اس کے لئے ذلت نہیں بلکہ وقار کی نشانی تھا۔ دھوکہ دہی سے اس نے ہمیشہ یوں کنارہ کشی اختیار کی جیسے یہ کوئی متعدی بیماری ہو۔ وہ حلال رزق کی خوشبو کو پہچانتا تھا۔
وہ ہارا نہیں تھا، بس اپنی فتح کا راستہ خود چن رہا تھا۔
اس کی نظر ہمیشہ اس بات پر جمی رہتی تھی کہ اس کے گھر کا کوئی لقمہ ایسی حالت میں اس یا اس کے بچوں کے پیٹ میں داخل نہ ہو جو بغیر محنت اور پسینے کی کمائی سے آیا ہو۔ رزق کی پاکیزگی اس کے نزدیک دولت سے کہیں بڑھ کر تھی۔
اللہ نے اس کی زندگی میں ایک شریف، باحیا اور وفادار بیوی عطا کی تھی۔ وہ بچوں کی تربیت میں نہ صرف دل و جان سے محنت کرتی بلکہ اپنے کردار، لہجے اور عمل سے بھی انہیں یہ سکھاتی کہ عزت اور ایمان سے بڑی کوئی دولت نہیں۔
عبدل کے بچے نزدیکی سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اللہ رب العزت نے ان کی اولاد کو عقلِ سلیم سے نوازا تھا۔ اسی کے طفیل اس کے تمام بچے اچھے عہدوں پر فائز ہوئے۔ آج کہیں عبدل کے نام سے یتیم خانے اور درسگاہیں چل رہی تھیں، تو کہیں کمپلیکس بھی انہی کے نام سے منسوب تھے۔
عبدؔل کو دنیا سے رخصت ہوئے برسوں بیت گئے، مگر اس کی راست گوئی، خودداری اور خلوصِ محنت آج بھی لوگوں کے دلوں میں ایسے تازہ ہیں جیسے یہ سب کل ہی کی بات ہو۔
���
لموچن دراس لداخ
موبائل نمبر؛9797144538