قرآن مصدر ہے "قُرَا َیَقُرا" سے۔قرآن کا مطلب ہے ہر خاص و عام کی پڑھنے والی کتاب یا بہ کثرت پڑھی جانے والی کتاب۔یہ کتابِ زندگی ہے جو اللہ کی طرف سے آخری کتاب ہے اور یہ خاتم النبین،رحمت اللعالمین حضرت محمد الرسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ایک بندے پر جس طرح اللہ کے حقوق ہے یا جس طرح ایک بندے کے حقوق ہوتے ہیں(حقوق العباد)۔ اسی طرح ایک بندے پر قرآن کے بھی کچھ حقوق عائد ہیں،جن حقوق کی ادائیگی ضروری ہے۔اگر ہم نے ان حقوق کی حق تلفی کی اور اس قرآن کو پس ِ پشت ڈالا تو ہمارے خلاف رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اللہ کے سامنے مقدمہ دائر کریں گے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اور رسول کہے گا کہ ''اے میرے رب، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا''(الفرقان)
حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ"اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سی قوموں کو بلندیاں عطا فرماتا ہے اور اسی کی وجہ سے دوسروں کو ذلت و پستی میں دھکیل دیتا ہے(صحیح مسلم)۔
ان ہی حقوق میں سے قرآن کے کچھ حقوق اس طرح ہیں:
(1)قرآن پر ایمان
سب سے پہلا حق جو ایک بندے پر قرآن مجید کا ہے،وہ ہے اس پر ایمان لانا۔ہمیں اس بات پر ایمان ہونا چاہئے کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ کتابِ زندگی ہے۔ ہمیں ایمان ہونا چاہئے کہ اس میں شک کی کوئی بات نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے"یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں"(البقرہ)۔اگر کوئی بھی اس بات سے انکار کرے تو وہ کافر ہے کیونکہ قرآن پر ایمان لانا ایمان کی صفات میں سے ایک صفت ہے اور وہ لوگ خسارے میں ہیں۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے"جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اْسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے وہ اس پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور جواس کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کریں، وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں"(البقرہ)۔
(2)تلاوت قرآن
ہم پر قرآن کا دوسرا حق اس کی تلاوت کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں"جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اْسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے وہ اس پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور جواس کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کریں، وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں"(البقرہ)۔تلاوت قرآن ٹھہر ٹھہر کر کرنی چاہئے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے"اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو"(المزمل)۔احادیث میں تلاوت قرآن کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے۔ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جو شخص قرآن پاک کا ایک حرف پڑھے اس کو دس نیکیوں کے برابر نیکیاں ملتی ہیں۔خیال رہے الم ایک حروف نہیں بلکہ الف،لام،میم تین حروف ہیں۔ لہٰذا فقط اتنا پڑھنے سے تیس نیکیاں ملیں گے۔صحابہ کرام رضوان علیہم اجمعین قرآن کی اتنی زیادہ تلاوت کرتے تھے کہ سات دنوں میں ختم قرآن کرتے تھے۔قرآن کی تلاوت سے دل کو سکون ملتا ہے۔قرآن مجید کی تلاوت مسلسل کرنی چاہئے خصوصی طور فجر کے وقت۔تلاوت قرآن کے وقت ہمیں ان احکام و آداب کا خاص خیال رکھنا چاہئے جن کا حکم ہمیں ملا ہے۔
(3)تدبر قرآن
تدبر قرآن کا مطلب قرآن کی آیتوں پر غور و فکر کرنا ہے۔ایک بندے پر قرآن کا یہ حق بھی ہے کہ وہ اس کی آیتوں پر غور و فکر کرے۔قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے"یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے محمدؐ) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں"(سورہ ص)۔ایک بندے کو یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہئے کہ قرآن مجید میں ہمیں اللہ تعالیٰ کیا بتانا چاہتا ہے۔جب ہم گھر میں استعمال ہونے والی کوئی شے لاتے ہیں تو اس کے ساتھ اس چیز کو صحیح طریقے پر استعمال کرنے کے لئے ایک کتابچہ(Manual)ساتھ ہوتا ہے۔پھر ہم اس چیز کا استعمال اسی طریقے سے کرتے ہیں جو طریقہ ہمیں اس کتابچہ(Manual)میں پڑھنے کو ملتا ہے۔بلاشبہ قرآن مجید بھی زندگی کے لئے ایک manual ہے۔قرآن مجید ہمیں زندگی کے ہر ایک شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔انفرادی و اجتماعی دونوں زندگیوں کے لئے قرآن مجید میں احکامات موجود ہے۔مگر ہم ان رہنما خطوط کو تب ہی سمجھ پائیں گے جب ہم قرآن مجید پر غور و فکر کریں گے۔قرآن مجید پر تدبر و تفکر کر کے ہم اس کے اوامر و نواہی سمجھ سکتے ہیں۔قرآن مجید پر تدبر نہ کرنے سے دل سخت ہوجاتا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے"کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا دلوں پر اْن کے قفل چڑھے ہوئے ہیں"؟(سورہ محمد)۔جب نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم پر کوئی آیت نازل ہوتی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو جمع کرتے اور اسی آیت کے حوالے سے وعظ و تبلیغ کرتے تھے،پھر صحابہ ان آیات پر غور و فکر کر کے سوالات کرتے تھے اور نبی اکرم صل اللہ علیہ وسم جوابات دیتے تھے۔ہم بار بار اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا مانگتے ہیں، مگر ہمیں یہ بات یاد ہونی چاہئے کہ ہدایت کا پہلا سرچشمہ قرآن مجید ہے۔جب ہم قرآن مجید پر غور و فکر کریں گے تو اللہ کے فضل سے اسی قرآن مجید سے ہمیں ہدایت مل سکتی ہے۔اگر ہم قرآن مجید پر تدبر کریں گے تو معاشرے میں اختلافات دور ہو جائیں گے جن کا سامنا ہمیں روزمرہ کی زندگی میں کرنا پڑتا ہے۔مثلاً وراثت،طلاق،نکاح وغیرہ،کیونکہ قرآن میں ان تمام مسائل کا حل موجود ہے۔مفسرین کرام نے اپنی پوری زندگی اسی کام میں صرف کی کہ آنے والی نسل ہماری تیار کردہ تفاسیر کی مدد سے قرآن مجید پر غور و فکر کرے۔مگر ہم نے آج قرآن صرف تلاوت،ایصال ثواب یا تعویذ بنانے کیلئے رکھا ہے۔
قرآن مجید کے ظاہری الفاظ کے ساتھ ساتھ اس کے باطن تک بھی پہنچنا ضروری ہے۔اگر ہم نے صرف ظاہری الفاظ کی طرف دھیان دیا تو اس کتاب سے ہم ثواب تو کما سکتے ہیں مگر اس کی روح تک نہیں پہنچ سکتے۔قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے"ان میں ایک دوسرا گروہ امّیوں کا ہے، جو کتاب کا تو علم رکھتے نہیں، بس اپنی بے بنیاد امیدوں اور آرزوؤں کو لیے بیٹھے ہیں اور محض وہم و گمان پر چلے جا رہے ہیں"(البقرہ)۔
(4)تعلیمات قرآن پر عمل کرنا
قرآن مجید پر غور و فکر کرکے انسان کے سامنے زندگی گزارنے کا ایک تصور آتا ہے کہ قرآن مجید کے اوامر و نواہی کیا ہے۔ان آیات پر تدبر و تفکر کرکے ہمیں ان آیات کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہئے،یہ قرآن مجید کا ایک اور حق ہے۔اگر ہم قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل کرنے سے روگردانی کریں گے تو خدانخواستہ آخرت میں ہمیں خسارہ اٹھانا پڑے گا۔حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ حضور صلی اللہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا:"اے لوگو! یقیناً میں تمہارے درمیان ایسی شے چھوڑ رہا ہوں اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے یعنی اللہ کی کتاب اور رسول اللہ کی سنت"۔
امام حسن الہضیبی کہتے ہیں کہ"قرآن کو اپنی زندگیوں میں نافذ کردو،زمین میں یہ خود نافظ ہوکر رہے گا"۔اگر ہمیں اسلامی نظام کا نفاز چاہئے تو پھر ہمیں قرآن کو مضبوطی سے پکڑنا ہوگا۔بقول علامہ اقبال علیہ رحمہ:
گرتومی خواہی مسلمان زیستن
نیست ممکن جز بہ قرآن زیستن
(5)دعوت القرآن
ہم پر قرآن کا ایک اور حق باقی لوگوں کو اس کی تعلیمات کی طرف دعوت دینا ہے۔سب سے پہلے اس دعوت کا آغاز اپنے گھر سے کرنا ہوگا۔اسی کتاب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے"اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اْس آگ سے"(سورہ التحریم)۔ایک داعی قرآن کا گھر قرآنی تعلیمات کا نمونہ ہونا چاہئے۔اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دینی چاہئے۔ان کے ذہنوں میں قرآن کی عظمت و رفعت ڈالنی چاہئے۔گھروں میں تلاوت قرآن اور دروس قرآن کا اہتمام ہونا چاہئے۔گھر میں کوئی مسلہ پیش آجائے،تو سب سے پہلے اس کا حل قرآن میں تلاش کرنا چاہئے۔اس کے بعد اپنے عزیز و اقارب کو اس قرآن کی دعوت دینی چاہئے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے"اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراؤ"(سورہ الشعرا)۔اور اس کے بعد باقی لوگوں کو قرآن کی دعوت دینی چاہئے۔اپنے محلے میں،اپنے علاقے میں،اپنے شہر میں درسگاہیں قائم کرنی چاہئیں۔مساجد میں دروس قرآن کا اہتمام کرنا چاہئے۔حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ’’میری طرف سے لوگوں کو (احکامِ الٰہی) پہنچا دو اگرچہ ایک آیت ہی ہو"(صحیح البخاری)
یہ تھے ہم پر قرآن مجید کے کچھ حقوق۔اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ان حقوق کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین!
رابطہ ۔ایسو شانگس،اننت ناگ
فون نمبر۔9149897428