عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری نے ان اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے حجاج وطن واپسی کی تیاریوں کے دوران مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ایک بیان میں الطاف بخاری نے کہاکہ یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ جموں و کشمیر کے حجاج، جو حج کا فریضہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹنے کی تیاری کر رہے ہیں، مبینہ طور پر متعلقہ حج حکام اور ایئرلائن کے ذمہ داران کے رویے کے باعث مشکلات سے دوچار ہیں۔عازمین کی جانب سے ظاہر کی گئی شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا’’ سعودی عرب روانگی سے قبل انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنے سامان کے وزن میں 15کلوگرام کمی کریں۔
اب انہیں بتایا جا رہا ہے کہ احمد آباد سے سرینگر کے سفر کے دوران انہیں صرف 5کلوگرام چیک اِن سامان اور 7کلوگرام ہینڈ بیگیج ساتھ لے جانے کی اجازت ہوگی جبکہ باقی سامان، جو 30کلوگرام تک ہو سکتا ہے، سڑک کے ذریعے علیحدہ طور پر سرینگر پہنچادیا جائے گا‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ اس اچانک فیصلے نے عازمین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ سعودی عرب میں قیام کے دوران خریدی گئی مقدس اشیا، تحائف اور دیگر نازک اشیا وغیرہ دورانِ نقل و حمل نقصان کا شکار ہو سکتی ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال نے ان کے سفر میں غیر ضروری ذہنی دبا ئواور پریشانی کا اضافہ کر دیا ہے۔حکومت سے اس معاملے میں فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا، جموں و کشمیر حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور اس معاملے کو حج کمیٹی آف انڈیا اور متعلقہ ایئرلائن حکام کے ساتھ اٹھائے۔ جو عازمین ایک مقدس سفر مکمل کر چکے ہیں، وہ عزت، احترام اور مناسب سہولیات کے مستحق ہیں۔