ابراہیم آتش
فیفا کا حالیہ ورلڈ کپ ،جو 2022 میںقطر میں کھیلا گیا،کو دنیا کا سب سے مہنگا ورلڈ کپ بھی کہا جا رہا ہے ۔ قطر ورلڈ کپ جہاں ایک طرف جدید اسٹیڈیم کا مرکز بنا ،وہیں پر افتتاحی تقریب بھی یاد گار رہی ۔اس یادگار تقریب میں دنیا بھر کے سربرہان مملکت یہاں مہمان کی حیثیت سے یہاں پہنچے تھے، جس میں ہمارے ملک کے نائب صدر جمہوریہ بھی شامل تھے۔ اس افتتاحی تقریب کی شروعات قرآن مجید کی تلاوت سے ہوئی جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے میں آیا، اس ورلڈ میں بہت سی مثالیں ایسی ہیں جو پہلی بار دنیا نے دیکھی ہیں۔ ورلڈ کپ کے برانڈ امیسڈر ہالی ووڈ کے مشہور ایکٹر مورگن فری مین نے جب قرآن کی تلاوت کرنے والے سخص کو ایک ایسا سوال پوچھا، جس کا عام انسان کے لئے جواب دینا مشکل ہے مگر وہ نوجوان شخص جو معذور ہے، جس کا آدھا دھڑ نچلا حصہ نہیں ہے، مورگن فری مین کا سوال تھا’’ دنیا میں مختلف مذاہب مختلف رنگ و نسل کے لوگ ایک دنیا میں کس طرح رہ سکتے ہیں‘‘۔ اس کا جواب یہ معذور شخص قرآن کی آیت الحجرات تلاوت کر کے دیتا ہے، جس کو براہ ِ راست دنیا کے پانچ سو سے زیادہ ٹی وی چینل نشر کر رہے تھے۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہےکہ’’ اللہ تعالی نے دنیا میں مختلف قبیلے اور رنگ و نسل کے لوگ اس لئے
بنائے ہیں کہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکیں‘‘۔ اسلام کی دعوت کے لئے قطر نے جو طریقہ اختیار کیا، وہ تمام دنیا کے مسلم ممالک اور مسلمانوں کے لئے ایک سبق ہے۔ دنیا کے کتنے ہی مسلم ممالک میں اس طرح کے نہ سہی دوسرے کھیل ہوتے آئے ہیں،جیسے ایشین گیمس ہو ،افریقہ گیمس یا کوئی اور گیمس یا کانفر نسوں کے ذریعہ اس طرح کے مواقع آتے رہے ہیں مگر اس طرح کا عمل دیکھنے میں نہیں آیا، جس طرح کا قطر نے مظاہرہ پیش کیا ہے ۔قطر کے لوگوں نے بھی مثالیں قائم کی ہیں،باہر ممالک سے آنے والے لوگوں کے لئے جس طرح کی مہمان نوازی کی گئی وہ اپنے میں آپ مثال ہے۔ کہیںخواتین کو حجاب پیش کیا جا رہا تھا تو کہیں مروں کو عرب کا لباس پیش کیا جا رہا تھا، جس کا نظارہ اسٹیڈیم میںبیٹھے لوگ بھی دیکھ رہے تھے۔ دوسرے ممالک سے آئے ہوئے لوگ بھی قطری لباس پہنے ہوئے اسٹیڈیم میں نظر آ رہے تھےاور بچے کھجور اور چاکلیٹ پیش کر رہے تھے، کہیں پر قہوہ پیش کیا جا رہا تھا کہیں پر کھانا پیش کیا جا رہا تھا، اسٹیڈیم کے قریب تمام مساجد کے دروازے کھول دئیے گئے تھے، مسجدوں میں دنیا کی ہر زبان میں قرآن مجید اور دینی کتابیں رکھی گئی تھیں ۔اسلام کو سمجھانے کے لئے ہزاروں علمائوں کو مامور کیا گیا تھا۔ جو غیر ملکی فٹ بال شائقین کو خوش دلی اور محبت کے ساتھ اسلا م کی دعوت دے قطر نے فیفا ورلڈ کپ کے دوران اسلام کی اشاعت و تبلیغ کے لئے الکٹرانکس بورڈ دنیا کی مختلف زبانوں میںآویزاں کر رکھے تھے اور ان بورڈس کو اسٹیڈیم کے باب داخلہ پر اس طرح لگایا گیا تھا کہ ہر آنے والے شخص کی نظر اس پر پڑے۔ جگہ جگہ ہورڈنگس اور بینرس لگائے گئے تھے،جن پر قرآن کی آیتیں اوراحادیث لکھی گئی تھیں، جو باتیں لوگوں کے د لوں میں آسانی سے اتر سکیں۔ مثال کے طور’’ اسلام کس سے نفرت نہیں سکھاتا ،آپس میں محبت کا پیغام دیتا ہے، اذان کے لئے بہترین قاریوں کو مامور کیا گیا تھا، جن کی قرأت سے روح کو سکون ملے ۔ قطر حکومت نے اس دوران بے شمار ایسے کام کئے ہیںجس کو سننے کے بعد دل خوش ہو جاتا ہے۔اور دنیا کا ہر شخص قطر حکومت کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکا اور خاص طور وہ کام کہ دنیا بھر سے آنے والے فٹ بال شائقین کے لئے بہت ہی عمدہ اور خوبصورت چھ ہزارفائنانس ولیج کیبین بنائے گئے تھے تاکہ بیرونِ ممالک سے آنے والے افراد کو وہاں رکھا جا سکے۔ ورلڈ کپ ختم ہونے کے بعد وہ تمام گھر نما کیبین افریقہ کے غریب ملک کنیا کو تحفے میں اُن غریب لوگوں کو دئیے گئے، جن کو رہنے کے لئے گھر نہیں ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں ان غریب کنیا کے لوگوں کی خوشی کا کیا عالم ہوگا، اس گھر نما کیبین میں تمام سہولتیں مہیا رکھی گئی ہیں،اس سے پہلے بھی دنیا میں ورلڈ کپ ہوتے رہے ہیںمگر کسی ملک کو اس طرح کا عمل کرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا ہے۔عام طور پر جو ملک ورلڈ کپ کا انعقاد کرتا ہے یہ تمام سہولتیں وہ بھی مہیا کراتے ہیں مگر اس طرح کے کیبین نہیں ہوتے بلکہ کسی عمارتوں میں کراتے ہیں اور ورلڈ کپ کے بعد حکومت ان عمارتوں کو اپنے لئے کام میں لیتی ہے ۔یہ پہلی بار ہوا ہے کہ چھ ہزار گھر نما کیبین ایک غریب ملک کو دئیے گئے۔
قطر میں ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے ہی وہاں پر لوگ اسلام قبول کرنے کی خبریں آ رہی تھیں قطر حکومت کی اس تیاری کو دیکھ کر لگتا ہے اسلام کی دعوت قطر حکومت کی اولین ترجیع رہی ہے ۔ایک ماحول بنایا گیا جس طرح وہاں کے لوگ مہمان نوازی کر رہے ہیں،چھوٹے چھوٹے بچے دوسرے ممالک سے آنے والے مہمانوں کا گرم جوشی سے استقبال کر رہے تھے،قطر نے یہ ثابت کر دیا عرب میں مہمان نوازی کس طرح کی جاتی ہے، مہمانوں کی خاطر تواضع اور خدمت کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ قطر کے لوگوں کا اور حکومت کے اس عمل کا اثر بھی ہوتا ہوئے ہمیں نظر آ رہا تھا کہ انسان ایک بے حس شئے کا نام نہیں ہے، وہ اپنے اطراف ہونے والے تما م واقعات کو دیکھتا ہے اور اس سے متاثر بھی ہوتا ہے اور پھر دیگرمذاہب کا تجزیہ کرتا ہے اور جب لوگوں کا عمل دیکھتا ہے تو اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے نو بھارت ٹائمس کے حوالے سے 30 نومبر 2022 کو ممبئی کے اردو اخبار ممبئی اردو نیوز میں حسب ذیل رپورٹ شائع ہوئی تھی ،’’قطر میں جاری فٹ بال میچ دیکھنے آئے برازیل کی ایک فیملی کے اسلام قبول کرنے کی خبریں آ رہی ہیں،برازیلی فیملی کے چھ اراکین نے اسلام قبول کیا اور اپنے فیصلے پر انھیں فخر ہے۔ انہوں نے مولانا کے سامنے اسلام اپنایا اور اس کا ویڈیو سوشل میڈیا میںوائرل کیا۔ مولانا نے اسلام قبول کروانے کے بعدان سے ان کے جذبات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس پر جواب دیاکہ ’’ ہمیں نہیں معلوم کہ اپنی خوشی کا اظہار کیسے کریں، اس کے بعد مولانا نے پوچھا:’’ کسی نے اسلام قبول کرنے کا دبائو تو نہیں ڈلا‘‘توان کا جواب نفی میںتھا۔اسی طرح برازیل سے قبل میکسیکو کے ایک خاندان نے نے بھی بخوشی اسلام قبول کیا تھا ۔
قطر کا فیفا ورلڈ کپ دنیا کے مسلمانوں کے لئے ایک پیغام دیا ہے کہ مسلمانوں کے لئے سب سے اہم دینی کام اور اس کے ذریعہ ہی مسلمانوں کی نجات ممکن ہے اور اس عمل میں مسلمانوں کی خوشی اور کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔ قطر ورلڈ کپ کی طرح ہی اسلام کی دعوت دی جا سکتی ہے، یہ بات ہمیں ذہنوں سے نکالنی ہوگی مسلمانوںکو دنیا کے ہر خطے میں الگ الگ طرح سے اس طرح کے مواقع آتے ہیںاگر ہمارے ملک میں دیکھا جائے تو بزرگان دین کے جو عرس ہوتے ہیں، ان مواقعوں کو اچھی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ ملک بھر سے زائرین الگ الگ دھرموں کے آتے ہیں۔ اُن کے لئے تمام سہولتیں مہیا کرائیں،جب وہ لوگ واپس جائیں تو مسلمانوں کے مہمان نوازی سے متاثر ہو کر جائیں ،اسی طرح روز مرہ کی زندگی ہو یا اجتماعی طورکوئی جلسہ یا کانفر نس دیگر غیر مسلموںکو اسلام کا تعارف کرائیں۔اب ہمیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا سلسلہ بند کرنا چاہئے۔ خاص کر ان مولویوں سے گذراش کرتا چاہوں گا جو یو ٹیوب کے ذریعہ دوسرے مسلکوں کو نیچا دکھانےمیں مغز ماری کرکے زندگیاں ختم کروا رہے ہیں۔ اب بھی وہ لوگ اپنے اس فعل سے باز نہیں آ رہے ہیں۔
رابطہ۔ 9916729890
<[email protected]>