فیاض بخاری
بارہمولہ //وادی کشمیر میں حالیہ برفباری کے باوجود دریائے جہلم میں پانی کی سطح میں کوئی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو نہیں مل رہا، بلکہ پانی کی سطح مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے، جس نے مقامی آبادی میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ جہاں ہر سال سردیوں کے موسم میں برفباری کے بعد دریائے جہلم میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی تھی، تاہم اس سال صورتحال مختلف نظر آ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ بارشوں کی کمی، طویل خشک موسم اور درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلیاں ہیں، جس کے باعث برف کے باوجود دریا میں پانی کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف برفباری کافی نہیں ہوتی بلکہ مسلسل بارشیں اور مناسب درجہ حرارت بھی ضروری ہوتے ہیں تاکہ برف آہستہ آہستہ پگھل کر دریاؤں میں شامل ہو سکے۔ بارشوں کی کمی کی وجہ سے زیرِ زمین پانی کی سطح بھی متاثر ہو رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر دریائے جہلم پر پڑ رہا ہے۔دریائے جہلم کی کم ہوتی سطح نے کسانوں، ماہی گیروں اور عام شہریوں کو پریشان کر دیا ہے، کیونکہ اس دریا کا پانی آبپاشی، پینے کے پانی اور روزمرہ ضروریات کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔لوگوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر پانی کے تحفظ اور بہتر انتظام کے لیے فوری اقدامات کریں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بارشوں کی کمی کا سلسلہ جاری رہا تو آنے والے مہینوں میں پانی کی قلت مزید سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے، جس کے لیے پیشگی منصوبہ بندی اور آبی وسائل کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہے۔