عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر//وادی کے بالائی علاقوں اورکلیدی سیاحتی مقامات پرتازہ برف باری نے سیاحتی شعبے میں نئی جان ڈالدی ہے،جسے امسال22اپریل کے پہلگام حملے میں شدیددھچکہ پہنچا تھا۔ شمالی کشمیر کے معروف برفانی کھیلوں کے معروف مقام گلمرگ کوبرف باری سے کافی فائدہ پہنچاہے اور یہاں کے سبھی ہوٹلو ں میں اس وقت سیاح ٹھہرے ہیں اور شاذہی کوئی ہوٹل ایساہوگا جہاں نئے سال کی آمد کے موقعہ پر کوئی کمرہ ان دنوں خالی ملے گا ۔یہی حال سونہ مرگ کابھی ہے جہاں ان دنوں سیاحوں کی آمدمیں اضافہ درج ہوا ہے اوریہاں کے ہوٹل مالکان کے چہروں پر مسکراہٹ دکھائی دے رہی ہے۔گزشتہ ہفتے کی برف باری سے برف سے ڈھکی گلمرگ میں سیاحوں کی آمد کی تعداد میں کافی زیادہ اضافہ ہوا ہے، جواس صنعت سے وابستہ متعلقین کے اندازوں سے کہیض شزیادہ ہے۔ٹریول ایجنٹسن ایسوسی ایشن آف کشمیرکے فاروق احمد کٹھو نے بتایا، ’’برف باری کاکافیزیادہ مثبت اثر ہواہے اور گلرمگ کے تمام ہوٹلبک ہیں۔ہمیں اتنی زیادہ تعدادمیں سیاحوں کے آنے کی اُمیدنہ تھی،لیکن سیاحوں کی آمد نے ہماری توقاعت سے کہیں زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ برف باری نے سیاحوں کو تعطیلات کے منصوبوں پرنظرثانی کرنے کی طرف راغب کیا ہے اورجنوری اورفروری کیلئے ہم سے بہت زیادہ معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔
کٹھو نے کہا ،’’یہ سیاحتی ٓصنعت کیلئے کافی مثبت اشارے ہیں‘‘۔ایسے ہی خیالات کااظہار کرتے ہوئے گلمرگ کے ہوٹل مالک مختاراحمدشاہ نے کہا ،’’برف باری کے بعد سیاحوں کے جذبے میں کافی بہتری آئی ہے۔پہلے سیاح یہاں آنے سے کتراتے تھے لیکن اب برف باری کے بعدسیاحوں کاموڈ تبدیل ہوا ہے۔‘‘نئے سال کی آمد پر برف باری کے امکان نے بقیہ موسم سرما میں سیاحتی سرگرمیوں میں مزید اضافے کااشارہ دیا ہے۔گلمرگ آرہے سیاحوں نے یہاں اپنے قیام کوزندگی کابہترین تجربہ قراردیتے ہوئے کہا کہ برف سے ڈھکی چوٹیاں اور سفیدچاردبچھے میدان کسی جنت سے کم نہیں ہیں۔ حیدرآباد سے آئے سیاحوں نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوزای واقعی قابل دید ہے اورہمارایہ سفر یادگار بن گیا ہے۔ ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف کشمیر کے جنرل سیکریٹری اور ٹورآپریٹرسجادکرالہ یاری نے کہا برف باری کے بعد بکنگس میں کافی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔سیاحوں کی وادی آمد میں20فیصد سے 40سے50فیصداضافہ ہوا ہے اورگلمرگ کے سارے ہوٹل ان دنوں بُک ہیں۔سجاد نے کہا،’’جنوبی ہند کی ریاستوں مہاراشٹر،گجرات،تامل ناڈاورکرناٹک سے سیاح جوق در جوق کشمیر آرہے ہیں اور وہ برف باری اور برف پر پھسلنے ( سکینگ ) سے حظ اُٹھاتے ہیں۔‘‘انہوں نے مزیدکہا کہ ملیشیاء،ویت نام ،اوردیگربیرونی ممالک کے سیاح بھی کشمیرپہنچ چکے ہیں اور اگر مزیدبرف باری ہوئی،جوسکینگ کیلئے موزوں ہے، توبیرونی ممالک کے سیاحوں کی آمد میں مزیداضافہ ہوگا۔ادھر سونہ مرگ میں بھی سیاحوں کی آمدمیں قابل قدر اضافہ ہوا ہے اور یہاں بھی تقریباًسارے ہوٹل بک ہیں۔سونہ مرگ میںہوٹل کنٹرین کے منیجر ارشاد احمد نے بتایا کہ رواں ماہ سے ان کے ہوٹل میں بکنگ شروع ہوئی ہے اور نئے سال کے موقع پر ہوٹل فل بک ہے اور امید ہے کہ سیاحوں کی آمد میںمزید اضافہ ہوگا۔سونہ مرگ میں ٹرانسپورٹ سے وابستہ گلزار احمد نے بتایا کہ اگرچہ پہلگام حملے کے بعد سیاحوں کی آمد بند ہوگئی تھی تاہم رواں ماہ سے سونہ مرگ میں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد میں اُمید پیدا ہوئی ہے کہ سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوگا ۔مرکبان محمد افضل نے بتایا کہ اگرچہ سونہ مرگ میں پہلگام حملے کے بعد چاروں طرف ویرانی چھائی ہوئی تھی تاہم تازہ برفباری کے بعد سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ امت مہرا ڈابے والے نے بتایا کہ سیاحوں کی آمد سے بازاروں میں رونق لوٹ آئی ہے اور کام بھی شروع ہوا ہے۔ سنو بائیکرس والے الطاف احمد نے بتایا کہ سونمرگ میں برفباری کے بعد سیاحوں کے بائیک سواری کرنے سے ان کو بھی روزگار کمانے کا موقع فراہم ہوا کیونکہ سونہ مرگ میں 70فیصد سے زیادہ لوگ سیاحت سے جڑے ہوئے ہیں۔سیاحتی متعلقین نے کہا کہ اگر برف باری متواتر ہوتی رہی تو سیاحتی شعبے میں نئی جان تیزی سے آجائے گی ،جو پہلگام حملے کے بعد بے جان ہوگیا تھا۔زیادہ برف باری سے نہ صرف سرمائی سیاحت میں اضافہ ہوگا بلکہ موسم گرما کیلئے بھی سیاحوں کی آمد میں تیزی آئے گی۔