واشنگٹن//امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خفیہ ایجنسی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹائے گئے جیمز کومے کے بیانات کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق ڈائریکٹر سراسر جھوٹ بول رہے ہیں اور وہ خود کو پاک و صاف ثابت کرنے کے لئے کسی بھی تحقیقات کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ اس دوران اٹارنی جنرل جیف سیشنس نے کہا ہے کہ وہ مسٹر کومے کے بیان پر سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے جمعرات کو بات چیت کریں گے ۔ مسٹر ٹرمپ ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر کی جانب سے امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے ان کے خلاف دیئے گئے بیانات کے بعد پہلی بار پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ مسٹر کومے نے الزام لگایا کہ صدر نے عہدہ سنبھالنے کے پہلے دن سے ہی ان پر دباؤ بنانا شروع کر دیا تھا اور ان کے معتمدخاص اور اس وقت کے قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلن کے خلاف روس سے رشتہ رکھنے کے لئے جاری تحقیقات کو بند کرنے کو کہا تھا۔ مسٹر ٹرمپ نے سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر کو 'جھوٹھا'قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے روس کے تعلق سے کسی کو بھی کسی طرح کی تحقیقات بند کرنے کے لئے نہیں کہا تھا۔ انہوں نے کہا "میں نے ایسا کبھی نہیں کہا۔ میں اس آدمی کو جانتا ہی کتنا ہوں؟ میں ا سے کسی طرح کی وفاداری پر زور کیوں دوں گا؟ " یہ پوچھنے پر کہ کیا وہ استغاثہ کے خصوصی ایڈووکیٹ اور ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر رابرٹ مولر کے سامنے قسم کھا کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ مسٹر کومے نے ان کے خلاف جو الزامات عائد کئے ہیں وہ غلط ہیں اور وہ تحقیقات کے لئے تیار ہیں، مسٹر ٹرمپ نے کہا "ہاں، صدفی فیصد۔" مسٹر جیمز کومے نے مسٹر ٹرمپ کے خلاف اپنے بیان میں کہا تھا کہ کبھی فون کال تو کبھی اجلاسوں میں صدر کا مطالبہ مسلسل جاری رہا کہ روس سے متعلق تحقیقات کو بند کیا جائے ۔ مسٹر کومے نے کہا "اس معاملے کو لے کر میری تکلیف بڑھتی جا رہی تھی۔" جمعہ کو ہونے والی کانگریس کی سماعت کے دوران اس بیان کو مسٹر کومے کا ابتدائی بیان مانا جا رہا تھا، لیکن انٹیلی جنس معاملات پر سینیٹ سلیکشن کمیٹی نے اسے ملاقات سے ایک دن پہلے ہی جاری کر دیا۔ اسے لے کر امریکی سیاست میں بھونچال آ گیا ہے ۔