عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//جی ایس ٹی ریٹرن وقت پر داخل نہ کرنے والے تاجروں اور کاروباری افراد کیلئے اہم خبر سامنے آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل تاخیر یا غیر تعمیل کی صورت میں جی ایس ٹی رجسٹریشن معطل یا منسوخ بھی کیا جا سکتا ہے تاہم معمولی تاخیر پر فوری کارروائی نہیں ہونی چاہئے۔مارچ 2026 کے ٹیکس مدت کیلئے GSTR-3B ریٹرن داخل کرنے کی آخری تاریخ کو حال ہی میں بڑھا دیا گیا تھا کیونکہ اپریل کے دوران جی ایس ٹی پورٹل کو تکنیکی مسائل کا سامنا تھا۔ اس کے باوجود کئی رجسٹرڈ تاجروں نے مقررہ توسیعی مدت کے بعد بھی ریٹرن داخل کیا، جبکہ بعض معاملات میں ان کا جی ایس ٹی رجسٹریشن معطل کر دیا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے قانون کے مطابق مسلسل چھ ماہ تک ریٹرن داخل نہ کرنے پر رجسٹریشن منسوخی کی کارروائی شروع کی جا سکتی تھی، تاہم 2022 میں قانون میں ترمیم کے بعد حکومت کو زیادہ اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔ سدھارتھ سوراناکے مطابق فائنانس ایکٹ 2022 کے تحت ’مسلسل چھ ماہ‘کی شرط کو تبدیل کرکے ’مقررہ مسلسل ٹیکس مدت‘کردیا گیا، جس سے مختلف ریاستوں اور محکموں میں قانون کی تشریح مختلف انداز میں ہونے لگی ہے۔جی ایس ٹی قواعد کے رول 21 کے مطابق اگر کوئی رجسٹرڈ شخص مسلسل چھ ماہ تک ماہانہ ریٹرن داخل نہ کرے تو اس کا رجسٹریشن معطل یا منسوخ کیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب برجیش کوٹھیاری، جو کھیتان اینڈ کمپنی سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ قانون کے مطابق چند دن یا چند ہفتوں کی معمولی تاخیر کی بنیاد پر جی ایس ٹی رجسٹریشن معطل نہیں ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن معطلی عام طور پر ان صورتوں میں کی جاتی ہے جہاں کاروبار میں سنگین بے ضابطگیاں پائی جائیں، جیسے فرضی بلنگ، غلط ان پٹ ٹیکس کریڈٹ لینا، کاروباری مقام پر سرگرمی نہ ہونا یا مسلسل ریٹرن جمع نہ کرنا۔