عازم جان
بانڈی پورہ// بانڈی پورہ ضلع کے باشندوں کیلئے اہم لائف لائن ، ولر جھیل ، طویل عرصے سے خشک ہونے کی وجہ سے ذریعہ معاش اور ماحولیاتی توازن پر سنگین خدشات پیداہوئے ہیں۔جھیل سے وابستہ ماہی گیروں نے بتایا ہے کہ کم ہونے والے پانیوں نے مچھلی کی نقل و حرکت کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے ، جس سے آنے والے مہینوں میں مچھلیوں کی تعداد میں نمایاں کمی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح پانی کے درجہ حرارت میں اضافے اور آکسیجن کے مواد کو کم کرنے کا باعث بن رہی ہے ، جس سے آبی زندگی کو براہ راست خطرہ لاحق ہے۔
ولر جھیل کے دائرہ کار میں رہنے والے سینکڑوں خاندانوں کے لئے ، ماہی گیری آمدنی کا بنیادی ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ مستقبل کی پیداوار کے بارے میں کیچ کے سائز اور غیر یقینی صورتحال نے معاشی پریشانی میں اضافہ کیا ہے۔ مچھلی فروخت کرنے والی ماہی گیر خواتین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرد دوران رات مچھلی حاصل کرنے کے لئے ولر جھیل میں جاتے ہیں لیکن صبح جب واپس آتے ہیں بعض تو خالی ہاتھ واپس آجاتے ہیں بعض تھوڑی بہت تعداد لاتے ہیں جو ذریعہ معاش کے لئے ناکافی ہے ۔ان مچھیرن نے بتایا ہے اس برس سب سے زیادہ سوکھے کی وجہ سے جھیل ولر متاثر ہوا ہے جو ماہی گیر آبادی کے لئے مستقل کے حوالے سے لمہ فکریہ ہے ۔ماہی گیر خواتین نے بتایا ہے درآمد شدہ مچھلیوں کو یہاں خریداری بہت کم ہے چنانچہ لوگ ولر جھیل کی ہی مچھلی کو پسند کرتے ہیں اور خریداری بھی ولر جھیل کی مچھلی کو ہی ہے۔ اگرچہ محکمہ فشریز نے بیتے سالوں میں بہت ساری اقسام کے مچھلیوں کا بیچ پیداوار بڑھانے کے لئے ڈالا تھا لیکن وہ بھی ولر جھیل میں پانی کی سطح گھٹ جانے سے نے اثر دکھائی دے رہا ہے ۔