تہران//ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ امریکا تہران اور بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کو سبوتاڑ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔اتوار کے روز ایرانی ٹیلی وڑن پر اپنے براہ راست خطاب میں روحانی نے کہا کہ "امریکی انتظامیہ اور ٹرمپ بارہا کوششوں کے باوجود جوہری معاہدے کو سبوتاڑ کرنے میں ناکام رہے۔ یہ معاہدہ ایران کے لیے ایک طویل المیعاد کامیابی ہے"۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز جوہری معاہدے کی آخری مرتبہ توثیق کی۔ تاہم انہوں نے اپنے یورپی حلیفوں اور کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ اس معاہدے کی "حیران کْن خامیوں" کی دْرستی کے لیے کام کریں، بصورت دیگر امریکا اس معاہدے سے دست بردار ہو جائے گا"۔ٹرمپ کی جانب سے دی گئی مہلت 2015 میں دستخط کیے گئے اس بین الاقوامی معاہدے کے مرکزی حامی اور اس کے فریقوں پر دباؤ میں اضافہ کرے گی کہ وہ ٹرمپ کو کسی طرح راضی کریں جو اس معاہدے کو امریکی تاریخ کا "بدترین" سمجھوتا قرار دے چکے ہیں۔ درٰن اثناء ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری معاہدے میں کسی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کی جائے گی۔اطلاعات کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران موجودہ معاہدے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گا نہ ابھی اور نہ مستقبل میں اپنے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) میں کوئی تبدیلی چاہے گا۔خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدہ (جے سی پی او اے) کے نام سے جانا جاتا ہے جس میں امریکا کی جانب سے تہران میں پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ امریکا کا مطالبہ ہے کہ تہران یورینیم کی پیداوار کو روک دے۔ یہ معاہدہ سابق امریکی صدر بارک اوباما کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ طے کیا تھا جس میں مزید پانچ ممالک بھی شامل تھے۔قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز یہ اعلان کیا تھا کہ امریکا 2015ء میں طے پانے والے معاہدے سے پیچھے ہٹ جائے گا جب تک معاہدے میں شامل خامیاں دور نہ کرلی جائیں تاہم امریکا نے اپنے فیصلے میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے۔