عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے سول سروسز (جوڈیشل) مینز امتحان میں امیدواروں کی غیر متناسب شارٹ لسٹنگ پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ’’یہ بات قابل تشویش ہے کہ 124 امیدواروں میں سے وادی سے تعلق رکھنے والے صرف 13 اْمیدواروں کو سول سروسز (جوڈیشل) مینز امتحان کے ویوا وائس کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا ہے جبکہ باقی 111 امیدواروں کا تعلق جموں صوبے سے ہے۔‘اس معاملے کی منصفانہ تحقیقات پر زور دیتے ہوئے بخاری نے کہا، “وادی کے جن امیدواروں کو ڈراپ کیا گیا ہے، ان کی جانب سے امتحانی نتائج میں شفافیت کے فقدان کا الزام حق بجانب لگ رہا ہے۔ کیونکہ نتایج میں واضح عدم توازن دیکھنے کو مل رہا ہے۔ خدشات کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس معاملے کی منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیق ہونی چاہیے۔‘‘اپنی پارٹی کے سربراہ نے جموں اور وادی کو فرقہ واریت کی طرف دھکیلنے اور دونوں خطوں کو مذہبی بنیادوں پر پولرائز کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو مورد الزام ٹھہرایا اور کہا، ’’بدقسمتی سے، 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران، دو سیاسی جماعتوں بھاجپا اور این سی نے مذہبی بنیادوں پر جموں اور وادی کو پولرائز کرنے میں فعال کردار ادا کیا۔‘‘انہوں نے کہا، ’’حالات اب خراب ہو چکے ہیں، اس کی ایک تازہ مثال اس وقت دیکھنے میں آئی جب شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس، کٹرہ میں ایم بی بی ایس کے طلباء کے میرٹ کی بنیاد پر انتخاب کو مذہبی بنیادوں پر فرقہ وارانہ معاملہ بنا دیا گیا۔ چونکہ بی جے پی نے اپنی طاقت اور اثرورسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اس ادارے میں ایم بی بی ایس کورس کو منسوخ کرا دیا ہے، تاکہ یہاں مسلم طلبا نہ پڑھ سکیں۔ اب ایسا لگتا ہے کہ سول سروسز (جوڈیشل) مینز کے امتحان کو بھی فرقہ وارایت کا نشانہ بنایا گیا ہے، کیونکہ شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کا غیر متناسب تناسب سنگین شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔‘‘بخاری نے لیفٹنٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی تاکہ اعلان کردہ نتائج کو التوا میں رکھا جائے اور معاملے کی تحقیقات شروع کی جائے۔