ٹی ای این
سرینگر// ہندوستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے سب سے بڑے پلیٹ فارم یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) کے ذریعے جون 2026 کے دوران 22.72 ارب (22.72 بلین) مالی لین دین انجام دیے گئے جن کی مجموعی مالیت 28.92 لاکھ کروڑ روپے رہی۔ اگرچہ مئی کے مقابلے میں ٹرانزیکشنز کی تعداد اور مالیت میں معمولی کمی درج کی گئی، تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں لین دین کی مجموعی مالیت میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے مسلسل فروغ کی عکاسی کرتا ہے۔ نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق جون میں یو پی آئی کے ذریعے مجموعی طور پر 22.72 ارب ٹرانزیکشنز ہوئیں، جبکہ ان کی مالیت 28.92 لاکھ کروڑ روپے رہی۔ مئی 2026 میں یو پی آئی نے ریکارڈ 23.20 ارب ٹرانزیکشنز اور تقریباً 29.90 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے لین دین درج کیے تھے، اس لحاظ سے جون میں ماہانہ بنیاد پر معمولی کمی دیکھی گئی۔
تاہم سالانہ بنیاد پر ترقی کی رفتار مضبوط رہی۔اعداد و شمار کے مطابق جون میں یومیہ اوسط لین دین کی تعداد نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یو پی آئی عام صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے روزمرہ مالی لین دین کا سب سے پسندیدہ ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مجموعی ماہانہ حجم میں معمولی کمی آئی، لیکن روزانہ کی بنیاد پر ادائیگیوں کا رجحان مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق یو پی آئی کی مسلسل ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔ چھوٹے تاجروں، دکان داروں، آن لائن کاروبار، عوامی خدمات اور عام صارفین کی بڑی تعداد اب نقد رقم کے بجائے یو پی آئی کے ذریعے ادائیگیوں کو ترجیح دے رہی ہے۔اس سے قبل مئی 2026 میں یو پی آئی نے اپنی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ کارکردگی درج کی تھی، جب 23.20 ارب ٹرانزیکشنز کے ذریعے تقریباً 29.90 لاکھ کروڑ روپے کا لین دین کیا گیا تھا۔ جون میں اگرچہ یہ ریکارڈ برقرار نہ رہ سکا، تاہم مجموعی کارکردگی اب بھی انتہائی مضبوط رہی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں یو پی آئی کی برتری مزید مستحکم ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں اسمارٹ فونز کے بڑھتے استعمال، انٹرنیٹ کی بہتر دستیابی، بینکنگ خدمات کی توسیع اور سرکاری سطح پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ نے یو پی آئی کو دنیا کے سب سے بڑے ریئل ٹائم ڈیجیٹل پیمنٹ پلیٹ فارمز میں شامل کر دیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ مہینوں میں تہواروں، خریداری کے سیزن اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے مزید پھیلاؤ کے باعث یو پی آئی ٹرانزیکشنز میں دوبارہ اضافہ متوقع ہے۔