یو این ایس
سرینگر// گریز کو ایڈونچر ٹورازم کے نقشے پر نمایاں مقام دلانے کی ایک اہم کوشش کے تحت مرکوٹ علاقے میں 482 میٹر طویل جدید زپ لائن کا افتتاح کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد سرحدی علاقوں میں سیاحت کو فروغ دینا، مزید سیاحوں کو راغب کرنا اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ محکمہ سیاحت کے مطابق نئی زپ لائن کی مجموعی لمبائی 482 میٹر ہے جبکہ اس کا افقی فاصلہ تقریباً 453 میٹر ہے۔ زپ لائن کے آغاز کے لیے تعمیر کردہ پلیٹ فارم زمین سے 55 فٹ بلند ہے، جبکہ اختتامی پلیٹ فارم کی اونچائی 10 فٹ رکھی گئی ہے، جس سے مجموعی طور پر 45 فٹ کا عمودی فرق پیدا ہوتا ہے۔ منصوبے میں زیادہ سے زیادہ 24 میٹر کا جھکاؤ رکھا گیا ہے اور یہ سہولت 100 کلوگرام تک وزن رکھنے والے افراد کے لیے تیار کی گئی ہے۔ڈائریکٹر ٹورازم کشمیر سید قمر سجاد نے کہا کہ یہ منصوبہ جموں و کشمیر میں گریز کو ایک نمایاں ایڈونچر ٹورازم منزل کے طور پر فروغ دینے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی زپ لائن سے نہ صرف سیاحوں کے تجربے میں بہتری آئے گی بلکہ سرحدی وادی گریز میں سیاحوں کی آمد میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ ان کے مطابق گریز قدرتی حسن اور ایڈونچر سیاحت کے بے پناہ امکانات رکھتا ہے، جنہیں محفوظ اور منظم انداز میں بروئے کار لانے کے لیے ایسے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔سید قمر سجاد نے بتایا کہ منصوبے پر عمل درآمد سے قبل تمام ضروری تکنیکی منظوری حاصل کی گئی اور مقررہ حفاظتی معیارات پر مکمل عمل کیا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ محکمہ سیاحت کے تمام ایڈونچر منصوبوں میں مسافروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جاتی ہے اور مارکوٹ کی زپ لائن بھی جدید حفاظتی نظام اور مکمل تکنیکی جانچ کے بعد عوام کے لیے تیار کی گئی ہے۔ڈائریکٹر ٹورازم نے مزید کہا کہ اس منصوبے کا ایک اہم مقصد مقامی نوجوانوں کو سیاحتی سرگرمیوں سے جوڑ کر انہیں روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔ ان کے مطابق ایڈونچر ٹورازم کے فروغ سے نوجوانوں کے لیے گائیڈنگ، آپریشن، مہمان نوازی اور دیگر متعلقہ شعبوں میں ملازمتوں کے امکانات پیدا ہوں گے، جس کا براہِ راست فائدہ مقامی معیشت کو پہنچے گا۔