سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے یہاں ایس کے آئی سی سی سر ی نگر میں کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمٹیڈ کے کام کاج کا جائزہ لینے کے لئے افسروں کی میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں منیجنگ ڈائریکٹر جے کے پی ڈی سی ایل اعجاز اسد، چیف انجینئر پاور ڈسٹربیوشن اعجاز احمد ،چیف انجینئر ٹرانسمیشن حشمت قاضی اور چیف انجینئر پرکیورمنٹ موجود تھے۔میٹنگ میں بجلی کی مانگ اور ترسیل ، گرڈ سٹیشنوں کی توسیع ، انفورسمنٹ سرگرمی ، بجلی فیس کی وصولیابی ، جاری منصوبوں ، سمارٹ میٹروں کی تنصیب اور دیگر متعلقہ معاملات پر غور وخوض ہوا۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ موسم سرما کے دوران بجلی کی سب سے زیادہ مانگ 2150میگاواٹ تھی جبکہ محکمہ نے پیک مانگ کے دوران95 میگاواٹ بجلی فراہم کی ۔تاہم دوران گرما بجلی کی زیادہ سے زیادہ مانگ 1500میگاواٹ ہے جس میں سے 1435میگاواٹ فراہم کئے جارہے ہیں۔اس کے علاوہ میٹنگ میں بتایا گیا کہ جنوری 2021کے آخیر تک بجلی صارفین سے 778.85کروڑ روپے بجلی فیس کی وصولیابی کی گئی ۔ میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ بجلی فیس میں 13.04 فیصد اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 89.83 کروڑ روپے زیادہ آمدن حاصل کی گئی ۔ دریں اثنا مشیر نے سرما کے دوران بجلی سپلائی بروقت بحال کرنے کے لئے پیشگی اقدامات کرنے کے لئے محکمہ کے افسران کو سراہا۔ تاہم انہوں نے افسروں کو مشورہ دیا چوں کہ ابھی سرما ختم نہیں ہوا ہے اس لئے کوئی بھی کوتاہی نہ برتیں۔چیف انجینئر پاور ڈسٹربیوشن نے میٹنگ میں بتایا کہ محکمہ نے برفباری کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر 90فیصدسے 95فیصد بجلی بحال کی۔ مشیر کو محکمہ کی جانب سے جاری منصوبوں کے بارے میں جانکاری دی گئی جن میں سری نگر شہر میں سپروائزری کنٹرول ڈیٹا ایکیوزیشن سسٹم / ڈسٹربیوشن منیجمنٹ سسٹم جس کے تحت سرینگر شہر کے تمام ریسونگ سٹیشنوں کے 33/11کے وی سٹیشنوں کی ریموٹ نگرانی کی جاسکتی ہے۔ریل ٹائم ڈیٹا ایکیوزیشن سسٹم کی تکمیل سے دیہی علاقوں میں 348فیڈورں کے 112 ، 33/11کے وی ریسونگ سٹیشنوں کی دور سے نگرانی کی جاسکتی ہے ۔آر اے پی ڈی آر پی حصہ اول ، سمارٹ میٹروں کی تنصیب ، سی سی ڈی ۔ ایم ڈی ایم ، انٹگریشن اور آئی پی ڈی ایس آئی ٹی حصہ اول سے عنقریب شروع کئے جانے والے منصوبے شامل ہیں ۔دریں اثنا مشیر خان نے دلنہ ، ماگام، گوپال ، مٹن اور دیگر گرڈسٹیشنوں کے توسیع کام پر جاری پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔انہیں مزید بتایا گیا کہ تمام ضرورت کے حساب سے تمام ٹرانسفارمر دلنہ گرڈ سٹیشن پہنچائے گئے ہیں جن سے بارہمولہ ، ماگام ، بیروہ اور دوسرے علاقوں کے صارفین مستفید ہوں گے۔سوبھاگیہ سکیم کے تحت تمام اضلاع تک صد فیصد کنبوں تک بجلی کنکشن فراہم کئے گئے اور 150558کنکشن 10اکتوبر 2017 جاری کئے گئے ہیں۔ مشیر نے افسروں کو 15مارچ سے بجلی کی ترسیل سے متعلق نیا شیڈ ول تیار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے بجلی کی چوری پر قدغن لگانے کے لئے انفورسمنٹ کی جانب سے جاری نگرانی مہم جاری رکھنے پر زور دیا اور بجلی کے کھمبوں اور تاروں وغیرہ کا اضافی سٹاک رکھنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ورکشاپوں میں ٹرانسفارمرں کی شرح میں اضافہ کرنے کی متعلقہ حکام کو ہدایت دی ۔