یواین آئی
اسلام آباد//یونیسیف کے ایک تجزیے سے پتا چلا ہے کہ جنوبی ایشیا میں دوسرے تمام خطوں کے مقابلے میں انتہائی زیادہ درجہ حرارت کے رابطے میں آنے والے بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔یونیسیف کی جانب سے جاری کردہ ایک تجزیے کے مطابق جنوبی ایشیا میں 18 سال سے کم عمر کے 76فیصد بچے یعنی 46 کروڑبچے انتہائی زیادہ درجہ حرارت کے رابطے میں ہیں، جہاں درجہ حرارت ایک سال میں 83 یا اس سے زیادہ دنوں تک 35 ڈگری سیلسیس سے زیادہ رہتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جنوبی ایشیا میں چار میں سے تین بچے پہلے سے ہی انتہائی بلند درجہ حرارت کے رابطے میں ہیں، جبکہ عالمی اعداد و شمار تین میں سے صرف ایک بچہ 32 فیصدہیں۔ یہ تازہ ترین تجزیہ 2020 کے ڈیٹا پر مبنی ہے۔اس کے علاوہ، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں 28 فیصد بچے ہر سال ہیٹ ویو کے رابطے میں آتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح 24 فیصد ہے۔ 2022 میں دنیا کے گرم ترین شہر جیکب آباد سمیت پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے کچھ حصوں میں جون میں 40 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ رہا، جس سے 10.8 لاکھ لوگوں کو شدید قلیل مدتی اور طویل مدتی صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں آٹھ لاکھ سے زائد بچوں کو جون 2023 میں شدید گرمی کے باعث تنا کا خطرہ تھا۔جولائی 2023 کو عالمی سطح پر گرم ترین مہینہ درج کیا گیا، جس سے بچوں کے مستقبل کے بارے میں مزید خدشات بڑھ گئے، کیونکہ جنوبی ایشیا میں رہنے والے بچوں کو وسیع پیمانے پر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مسلسل اور شدید ہیٹ ویو کا سامنا کرنے کی توقع ہے۔