جموں//بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر رینا نے بدھ کے روز توقع ظاہر کی کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی کو فتح حاصل ہوگی اور جموں کے ساتھ ساتھ سرینگر میں بھی بھاجپا کے ہی میئر منتخب ہوں گے جب کہ وادی کی کم از کم 15میونسپل کونسلوں میں بھی پارٹی کا اکثریت حاصل ہوجائے گی۔ یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰکیا کہ وادی کشمیر میں بھاجپا کے اراکین کی تعداد ساڑھے تین لاکھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والا 20 اکتوبر کا دن بھاجپا کے لئے خاص ہے کیونکہ بقول ان کے اس دن ریاست کے تینوں خطوں میں کنول کا پھول کھلے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا نے جب ممبر شپ مہم چلائی تو کشمیر میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد لوگوں نے پارٹی کی ممبر شپ حاصل کی‘۔ انہوں نے کہا ’جہاں دوسری جماعتوں کے پاس انتخابات لڑنے کے لئے امیدوار ہی نہیں تھے، وہیں بی جے پی پوری وادی چاہے جنوبی ، وسطی یا شمالی کشمیر ہو، ہر جگہ اپنے امیدوار کھڑے کئے۔ بڑھ چڑھ کر انتخابی مہم چلائی‘۔ رویندر رینہ نے بلدیاتی انتخابی میں بھاری کامیاب حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ’20 اکتوبر کو جب ووٹ گنے جائیں گے، تو بی جے پی بھاری اکثریت سے جیت جائے گی۔ تینوں خطوں میں بی جے پی کو شاندار کامیاب ملے گی۔ وادی کشمیر میں قریب 15 میونسپل کمیٹیوں میں بھاجپا کے چیئرمین بنیں گے‘۔ انہوں نے کہا ’بلدیاتی انتخابات میں سری نگر کے لوگوں نے بھی ہمارا ساتھ دیا۔ وادی کشمیر بالخصوص سری نگر میں اب کی بار کنول کا پھول ضرور کھلے گا اور بھاجپا کی جئے جئے کار ہوگی‘۔ رویندر رینہ نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک سے مطالبہ کیا کہ پنچایتی اداروں سے متعلق 73 ویں اور 74 ویں آئینی ترمیم کو ریاست میں لاگو کرائیں۔ انہوں نے کہا ’بی جے پی جموں وکشمیر کی عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ پنچایتی انتخابات میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیں۔ ساتھ ہی ساتھ ریاستی گورنر سے اپیل کرتی ہے کہ انتخابی عمل کے بعد ریاست میں پنچایتی راج کو مضبوط کیا جائے۔ پنچایتی راج ایکٹ میں ترمیم کی جائے۔ بھارتی آئین کی 73 ویں اور 74 ویں آئینی ترمیم کو جموں وکشمیر میں لاگو کیا جائے‘۔ بی جے پی ریاستی صدر نے کسی جماعت کا نام لئے بغیر کہا کہ کچھ جماعتیں ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات ٹالنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے کہا ’ 13 سال کے بعد ریا ست میں بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں لیکن علیحدگی پسند،ملک دشمن طاقتیں اورکچھ سیاسی جماعتیں نتخابات کو ٹالنا چاہتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا ’وادی میں 558 بلدیاتی حلقے ہیں جن میںسے 400حلقوں کے لئے بی جے پی نے اپنے امید وار کھڑے کئے تھے۔ کچھ آزاد امیدواروں کی حمایت کی گئی تھی۔ وادی میںتقریباً 15 چیئرمین بی جے پی کے ہوں گے ۔ بلدیاتی انتخابات میںرائے دہندگان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔