جموں//سابق وزیرجنگلات چودھری لال سنگھ نے کہاہے کہ وقت آچکاہے کہ پاکستان کے ساتھ فوجی سطح کی کوئی بات چیت نہ کی جائے بلکہ متعددمرتبہ تجویزکی گئی دفاعی حکمت عملیوں پرسنجیدگی سے عمل کیاجائے۔ ان خیالات کااظہارچودھری لال سنگھ نے سانبہ کے رام گڑھ سیکٹرمیں سرحدپارکی گولہ باری میں جان بحق ہوئے چارفوجی جوانوں کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ اگرمیں پاکستانی کی اس ننگی بربریت کے خلاف نہ بولوں تومیں اپنے ملک کے تئیں اپنی ڈیوٹی دینے میں ناکام ہوں ۔انہوں نے کہاکہ ہردوسرے دن ہم دشمن ملک کی گولی باری سے اپنے جوان کھورہے ہیں اوردوسری طرف ہم سیزفائرکی باتیں کررہے ہیں اوریہاں پاکستان کے ساتھ پائیدارمذاکرات کامطالبہ ہورہاہے۔چوہدری لال سنگھ نے کہاکہ سیاسی مفادات کوبالائے طاق رکھ کر جموں کشمیرکی علاقائی پارٹیوں کومذاکرات کی مانگ کرنے کے بجائے پاکستان کے خلاف سخت کارروائی کامطالبہ کرناچاہیئے۔ انہوں نے کہاکہ کچھ جماعتیں پاکستان کی حمایتی بنی ہوئی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کچھ طاقتیں مرکزی حکومت کوپاکستان کے خلاف کڑی کاروائی کرنے میں رکاوٹیں بنتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان کوسخت سبق سکھانے کی ضرورت ہے ۔لال سنگھ پلوڑہ،گڑھابراہمناں،کنگر،پلوال،سیدال،منڈل اورپرمنڈل وغیرہ میں مہاسوابھی مان ریلی کی تیاریوں کے سلسلے میں اجتماعات سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ علاقائی سیاسی جماعتوں کے دِل ودماغ میں کیوں پاکستان رچابساہواہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ جماعتیں مقامی لوگوں کے مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ڈوگروں کے وقارکوبحال کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں ۔انہوں جموں کے تمام لیڈروں کے پاس کوئی ترقیاتی ایجنڈانہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ رسانہ کیس میں سی بی آئی جانچ ہونی ہی چاہیئے۔انہوں نے کہاکہ جموں کے جولیڈران جموں کے کاذکیلئے خاموش ہیں وہ جموں مخالف ہیں۔انہوں نے کہاکہ جموں مخالف لوگوں کوآئندہ الیکشن میں جموں کے لوگ جواب دیں گے۔