سرینگر//حکمرانوں کی توجہ لوگوں کے مسائل و مشکلات دور کرنا نہیں بلکہ جمو ں وکشمیر کے عوام کو ہر لحاظ سے بے اختیار کرنا اِن کی اولین ترجیح ہے اور تمام حکومتی مشینری اسی کام میں لگی ہوئی ہے کہ کس طرح سے کشمیریوں کو محتاج بنایا جائے۔ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے پارٹی ہیڈ کوارٹر پر سرینگر، بڈگام، اننت ناگ، گاندربل، پلوامہ، شوپیان اور کولگام سے آئے پارٹی عہدیداروں، کارکنوں اور عوامی وفود کیساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔ ایک بیان کے مطابق عوامی وفود نے اپنے علاقوں کے مسائل و مشکلات بیان کئے اور کہا کہ برفباری کے بعد لوگوں کے مشکلات میں زبردست اضافہ ہوا ہے، بجلی اور پانی کی سپلائی ہر گزرتے دن کیساتھ بدتر ہوتی جارہی ہے، تعمیر و ترقی کا کہیںنام و نشان نہیں، مہنگائی اور دیگر عوامی مسائل عروج پر ہیں،جبکہ اعلیٰ حکام کی نوٹس میں لانے کے باوجود بھی مسائل و مشکلات کا حل نہیں ہورہا ہے۔ وفد نے بتایا کہ کئی علاقوںمیں برفباری کے بعد سے اب تک بجلی نایاب ہے بیشتر آبادیوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ بہت سارے علاقوں میں ٹرانسفارمر بے کار ہوگئے ہیں لیکن حکام کی طرف سے ان ٹرانسفارمروں کی مرمت یا انہیں تبدیل کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جارہی ہے اور آبادیوں کو گھپ اندھیروں میں رہنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے۔ دور دراز ، پہاڑی اور کنڈی علاقوں کے رابطے ابھی بھی منقطع ہیں۔ ناصر اسلم وانی نے اس موقعے پر کہا کہ جموں وکشمیر میں اس وقت براہ راست مرکز کی حکمرانی ہے اور یہاں کے لوگوں کو افسرشاہی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ نئی دلی سے لیکر سرینگر تک حکمران اسی کوشش میں ہیں کہ کس طرح سے جموں و کشمیر کے عوام کو بے اختیار کیا جائے اور تمام سرکاری مشینری اسی عمل میں لگادی گئی ہے۔ آئے روز نت نئے فیصلے لیکر جموںوکشمیر کو اندھیروں کی طرف دھکیلا جارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ تینوں خطوں کے عوام سرکاری رویہ سے نالاں ہیں جبکہ نوجوان پود مایوس اور بدظن ہے۔ ناصر اسلم وانی نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ نے عوام کُش اور نوجوان مخالف فیصلوں اور اقدامات کے ریکارڈ مات کردیئے۔ موجودہ صورتحال میں یہاں کے نوجوانوں کو اپنامستقبل مخدوش دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگ موجودہ غیر یقینیت سے نجات چاہتے ہیں اور اس کیلئے ضروری ہے کہ مرکزی حکومت زمینی حقائق تسلیم کرکے یہاں کے عوام کے احساسات ، امنگوں اور جذبات کا احترام کرے۔