سات دن میں ہر کتاب کی چھان بین لازمی، این ای پی 2020 کے مطابق مواد کی تصدیق ہوگی
عظمیٰ نیوز سروس
جموں//سرکاری اسکولوں میں فراہم کی گئی بعض کتابوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند اور قابل اعتراض مواد سامنے آنے کے بعد ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن جموں (ڈی ایس ای جے) نے جموں ڈویژن کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں اور کوچنگ سینٹروں میں موجود تمام کتابوں کا جامع آڈٹ کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن جموں کی جانب سے 6 جولائی 2026 کو جاری سرکلر نمبر 10-DSEJ/2026 کے مطابق تمام اداروں کے سربراہان (HoIs) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کلاس رومز، لائبریریوں، اسٹاف رومز، دفاتر اور دیگر مقامات پر موجود تمام نئی اور پرانی کتابوں کا تفصیلی جائزہ لیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی کتاب میں مذہبی جذبات مجروح کرنے والا، ملکی قوانین، تعلیمی اقدار یا دیگر مقررہ اصولوں کے منافی کوئی مواد موجود نہ ہو۔سرکلر میں کہا گیا ہے کہ تمام مطالعہ جاتی مواد قومی تعلیمی پالیسی (NEP) 2020 کے رہنما اصولوں اور طلبہ کی عمر کے مطابق تعلیمی معیار پر پورا اترنا چاہیے۔ہدایت نامے کے مطابق اگر کسی ادارے میں کوئی قابل اعتراض کتاب یا مواد پایا جاتا ہے تو اس کی مکمل رپورٹ تیار کی جائے، جس میں کتاب کا نام، مصنف، ناشر اور دستیاب نسخوں کی تعداد درج کرنا لازمی ہوگا۔ڈی ایس ای جے نے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور کوچنگ سینٹروں کو یہ عمل سات دن کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ تمام اداروں کو 13 جولائی 2026 تک متعلقہ زونل ایجوکیشن آفیسر (ZEO) کو تعمیلی سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہوگا، جس میں تصدیق کی جائے گی کہ تمام کتابوں کی جانچ مکمل کر لی گئی ہے اور ادارے میں کوئی قابل اعتراض مواد موجود نہیں۔ اگر کسی کتاب میں اعتراضات پائے جائیں تو تعمیلی سرٹیفکیٹ کے ساتھ تفصیلی رپورٹ بھی منسلک کرنا ہوگی۔اس کے بعد زونل ایجوکیشن آفیسرز 15 جولائی تک اپنی رپورٹیں متعلقہ چیف ایجوکیشن آفیسرز (CEOs) کو بھیجیں گے، جبکہ تمام اضلاع کی حتمی رپورٹس 17 جولائی تک ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن جموں میں جمع کرائی جائیں گی۔ڈائریکٹوریٹ نے واضح کیا ہے کہ ان ہدایات پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا اور ذمہ دار افسران کے خلاف قواعد کے مطابق محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں فراہم کی گئی دو کتابوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند شخصیات کی تعریف اور قابل اعتراض مواد سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا تھا۔ اس کے بعد محکمہ اسکولی تعلیم نے متعلقہ کتابیں واپس لے لیں، متعدد ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی، جبکہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے آٹھ افسران کو معطل، ایک کنٹریکچول ملازم کو برطرف اور مستقبل میں اس نوعیت کی کسی بھی غفلت کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کی ہدایت دی ہے۔ جموں و کشمیر پولیس کا کاؤنٹر انٹیلی جنس ونگ بھی اس معاملے کی مجرمانہ زاویے سے تحقیقات کر رہا ہے۔