پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ نے سال 2024-25میںپولیس ڈیپارٹمنٹ کیلئے مختص کئے گئے رقوم میں سے 13.56فیصد استعمال کرنے میں ناکام رہا۔پچھلے سال کے بجٹ میںپولیس اہلکاروں کی صلاحیت بڑھانے، تشدد کے شکار پولیس اہلکاروں، خواتین اور بچوں کے خلاف سائبر جرائم روکنے ، سٹوڈنٹ پولیس کیڈٹ سکیم، پولیس ویلفیئر سکیم ، پولیس مارڈنائزیشن ، پولیس ہائوسنگ کالونی کے علاوہ دیگر کاموں کیلئے منظور کئے گئے تھے۔لیکن سالانہ بجٹ کا محض 13.56فیصد ہی استعمال کیا گیاہے۔ کمپٹرولر اینڈ اوڈیٹر جنرل آف انڈیا نے 2026کو جاری کی گئی دوسری رپورٹ میں کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ نے سال 2024-25کے دوران مختلف ترقیاتی کاموں اور سکیموں کیلئے منظورشدہ 6ہزار 584کروڑ اور 46لاکھ روپے میں سے صرف 893 کروڑ اور 4لاکھ روپے صرف کئے ہیں اور اس طرح سال 2024-25 کے دوران پولیس نے ترقیاتی و فلاحی کاموں کیلئے منظور کئے گئے بجٹ کا محض 13.56فیصد استعمال کیا گیاہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ داخلہ نے جن رقومات کا استعمال نہیں کیا ، ان میں قانون نافذ کرنے کی صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے منظور کئے گئے 16لاکھ رروپے، تشدد سے متاثرہ پولیس اہلکاروں کی مدد کیلئے منظور کئے گئے 1کروڑ 50لاکھ روپے، خواتین اور بچوں کے خلاف ہونے والے سائبر کرائم کو روکنے کیلئے منظور کئے گئے 18لاکھ روپے، سٹوڈنٹ پولیس کیڈٹ سکیم کیلئے3کروڑ 76لاکھ روپے، پولیس اہلکاروں کی بہبود کیلئے منظور کئے گئے 1کروڑ 20لاکھ روپے، پولیس محکمہ کی تجدید کاری کیلئے 1کروڑ 20 لاکھ،داخلہ سکیورٹی کیلئے 1کروڑ 75لاکھ ، آئی آر پی بٹالین کیلئے 8کروڑ 75لاکھ ، پولیس ہائوسنگ کالونی کیلئے 12کروڑ روپے، سٹیٹ ڈیزازٹر ریسپانس فورس کیلئے 3کروڑ اور پولیس انتظامیہ کیلئے 4کروڑ روپے کی رقم شامل ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پولیس محکمہ نے ان رقومات کا استعمال نہیں کیا ہے۔