سمت بھارگو
راجوری//بھارتیہ جنتا پارٹی کے تنظیمی سیکریٹری اشوک کول نے کہا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا مجوزہ دور جموں و کشمیر مکمل طور پر سیکورٹی صورتحال کے جائزے کے لئے مخصوص ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر داخلہ تین روزہ دورے پر یونین ٹیریٹری کا رخ کریں گے جہاں وہ امن و امان کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔اشوک کول نے یہ بات منگل کے روز راجوری کے دورے کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس دورے کا بنیادی مقصد حساس علاقوں میں درپیش سکیورٹی چیلنجز کا جائزہ لینا اور ان سے نمٹنے کے لیے اختیار کیے گئے اقدامات کا معائنہ کرنا ہے۔
بی جے پی رہنما کے مطابق حالیہ دنوں میں سیکورٹی ایجنسیوں نے جموں و کشمیر کے بالائی اور دشوار گزار علاقوں میں کچھ نئے دہشت گرد ٹھکانوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں پناہ لینے والے ملی ٹینٹ بعض سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں، جن کا اعلیٰ سطح پر باریک بینی سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔اشوک کول نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ اپنے دورے کے دوران سیکورٹی فورسز، خفیہ ایجنسیوں اور مقامی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم اجلاس منعقد کریں گے۔ ان اجلاسوں میں انسدادملی ٹینسی کارروائیوں، سرحدی علاقوں کی نگرانی، اور حساس اضلاع میں سیکورٹی گرڈ کو مزید مضبوط بنانے جیسے امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر میں امن کے قیام کے لئے سنجیدہ ہے اور سیکورٹی کے معاملے پر کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کے بقول، پچھلے چند برسوں میںملی ٹینسی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے اور سکیورٹی فورسز نے کئی بڑے نیٹ ورکس کو ناکام بنایا ہے۔اشوک کول نے سیکورٹی آپریشنز پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اب ملی ٹینسی سے پاک ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی خطہ مکمل طور پرملی ٹینسی سے آزاد ہوگا اور عوام سکون و اطمینان کی زندگی گزار سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ کا دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس کے ذریعے زمینی سطح پر صورتحال کا براہ راست جائزہ لیا جائے گا اور مستقبل کی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ اشوک کول کے مطابق، حکومت کا مقصد صرف سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہی نہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن اور ترقی کی راہ ہموار کرنا بھی ہے۔