پشمینہ اور قالین کیلئے سنہری موقع،برآمدات اور روزگار میں اضافہ متوقع
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//مرکزی حکومت کی جانب سے پائیدار اور سرکیولر ٹیکسٹائل معیشت کو فروغ دینے کیلئے تیار کی گئی نئی پالیسی سے جموں و کشمیر کے ٹیکسٹائل، ہینڈلوم، دستکاری اور ابھرتے ہوئے صنعتی شعبوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، تاہم اس کے ساتھ ماحولیاتی ضوابط اور عالمی معیار پر عمل درآمد جیسے نئے چیلنجز بھی سامنے آئیں گے۔حکومت ہند کی پالیسی دستاویز ’’ویونگ سسٹین ایبلٹی اِنٹو انڈیاز ٹیکسٹائل فیوچر‘‘میں ٹیکسٹائل صنعت میں پائیدار پیداوار، فضلے کی ری سائیکلنگ، ماحول دوست مصنوعات، ٹریس ایبلٹی اور سرکلر اکانومی کو فروغ دینے کے لیے جامع حکمت عملی پیش کی گئی ہے۔یہ پیش رفت جموں و کشمیر کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہاں ہزاروں خاندان پشمینہ، کشمیری شالوں، قالین بافی، کریول کڑھائی، ریشم اور دیگر روایتی دستکاریوں سے وابستہ ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مرکز کے زیر انتظام علاقے میں 43 ہزار سے زائد بنکر اور تقریباً ساڑھے تین لاکھ دستکار اس شعبے سے روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ماحول دوست پیداوار، مصنوعات کی تصدیق اور ٹریس ایبلٹی پر زور دینے سے کشمیری پشمینہ، کانی شال، ہاتھ سے بنے قالین، کریول کپڑے اور دیگر روایتی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
قدرتی ریشوں اور کم توانائی سے تیار ہونے والی یہ مصنوعات پہلے ہی بین الاقوامی خریداروں کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔رپورٹ میں ٹیکسٹائل رنگائی اور پروسیسنگ یونٹوں کے لیے بھی اہم اشارے دیے گئے ہیں۔ مضر کیمیکلز اور بعض مخصوص رنگوں کے استعمال پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کے باعث صنعت کو ماحول دوست رنگوں اور جدید صاف ٹیکنالوجی اختیار کرنا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق اس سے کشمیر میں روایتی قدرتی رنگائی کے طریقوں کو دوبارہ فروغ دینے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔جموں کے کٹھوعہ، بڑی برہمنہ، سانبہ اور کرتھولی کے صنعتی علاقوں میں قائم ٹیکسٹائل، دھاگہ، کپڑا اور گارمنٹ یونٹوں پر بھی نئی پالیسی کے اثرات مرتب ہوں گے۔ ان صنعتوں کو صاف پیداواری نظام، فضلہ صاف کرنے کے پلانٹس، ری سائیکلنگ سہولیات، پائیدار خام مال کے استعمال اور کاربن اخراج کی نگرانی جیسے اقدامات پر سرمایہ کاری کرنا پڑ سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایم ایس ای۔گفٹ (MSE-GIFT) اور ایم ایس ای۔اسپائس (MSE-SPICE) جیسی سرکاری اسکیمیں سبز ٹیکنالوجی اور سرکلر اکانومی سے متعلق سرمایہ کاری کے لیے مالی معاونت فراہم کر سکتی ہیں، جس سے جموں کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی اداروں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں ماحول دوست ٹیکسٹائل مصنوعات کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے اور بین الاقوامی خریدار اب مصنوعات کی مکمل ٹریس ایبلٹی اور ماحولیاتی سرٹیفکیشن کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ ایسے میں ایکو مارک، سلک مارک اور دیگر تصدیقی نظام جموں و کشمیر کی مصنوعات کی عالمی رسائی کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چھوٹے صنعت کاروں اور روایتی دستکاروں کے لیے نئے عالمی ماحولیاتی معیارات، کیمیائی ضوابط، اخراج کی رپورٹنگ اور سرٹیفکیشن پر عمل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کے ٹیکسٹائل شعبے کے لیے الگ پائیداری حکمت عملی تیار کی جانی چاہیے، جس میں پشمینہ، قالین اور کریول صنعتوں کی سرٹیفکیشن، ماحول دوست ٹیکنالوجی، قدرتی رنگوں کے فروغ، ٹیکسٹائل فضلے کی ری سائیکلنگ اور کشمیری مصنوعات کی عالمی برانڈنگ پر خصوصی توجہ دی جائے۔ماہرین کے مطابق اگر اس پالیسی پر مؤثر انداز میں عمل کیا گیا تو اس سے جموں و کشمیر کے روایتی اور جدید ٹیکسٹائل شعبے کی عالمی مسابقت میں اضافہ ہوگا، برآمدات کو فروغ ملے گا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی صنعت کو طویل مدتی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔